بدھ, مئی 29, 2024
spot_img
ہومبلوچستانچمن: 20 روز سے جاری چمن دھرنا، پس منظر اور مطالبات

چمن: 20 روز سے جاری چمن دھرنا، پس منظر اور مطالبات

افغانستان کے باڈر سے متصل بلوچستان کے شہر چمن میں گزشتہ 20 روز سے ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے جس میں سرحدی تجارت سے وابستہ افراد، لگڑی اتحاد اور انجمن تاجران سمیت سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ دھرنے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں جس میں محمود خان اچکزئی سمیت پشتون سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے بھی جاکر یکجہتی کی ہے۔

اس دھرنے کے شرکاء کا مطالبہ ہیکہ حکومت نے سرحد کے آر پار آنے جانے کیلئے جو پاسپورٹ اور ویزا کی شرط لاگو کی ہے، وہ اسے مسترد کرتے ہیں کیونکہ مظاہرہن کا دعویٰ ہیکہ مذکورہ سرحد کے دونوں اطراف انکی رشتہ داریاں ہیں، قبرستان و کاروبار بھی دونوں طرف موجود ہیں۔ اس نئے شرط سے خونی رشتے دار ایک دوسرے سے دور ہو جائیں گے۔

یاد رہے پاسپورٹ کی نئی پالیسی سے قبل ضلع چمن اور ضلع قلعہ عبداللّٰہ کے رہائشی بِنا روک ٹھوک افغانستان میں داخل ہوتے اور آتے جاتے تھے، ان پر کسی قسم کی پابندی نہیں تھی۔ انکے دونوں اطراف کاروبار موجود ہیں۔ اسی طرح افغانستان کے صوبہ قندہار کے لوگوں پر بھی آمد و رفت کی کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔ مگر افغان مہاجرین کے انخلاء کی حکومتی نئی پالیسی کے سبب آزاد آمد و رفت پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور غیرقانونی افغان مہاجرین کو بھی نکالا جا رہا ہے۔

دھرنے کے ایک منتظم سے رسانکدر بلوچستان کے نمائندے نے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ مذکورہ سرحد کوئی بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد نہیں بلکہ انگریز راج کے دور کی ڈیورنڈ نامی شخص کی کھینچی گئی لکیر ہے جسے پاکستان اور افغانستان دونوں ڈیورنڈ لائن کے نام سے ہی پکارتے ہیں، انکا مزید کہنا تھا کہ پشتون قوم اس لکیر کو قبول نہیں کرینگے۔

گزشتہ روز مکران سے مولانا ہدایت الرحمان اور خیبرپختونخوا سے محسن داوڑ نے چمن دھرنے میں شرکت کرنے کی کوشش کی جنہیں کوئٹہ میں ہی پولیس نے روک لیا۔ محسن داوڑ کو سیکیورٹی حراست میں اسلام آباد پہنچایا گیا جبکہ مولانا ہدایت الرحمان کو مبینہ طور پر کوئٹہ میں ہی نظربند کردیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین