پیر, جون 24, 2024
spot_img
ہومبلاگ"ہم" چُپ رہتے ہیں!

"ہم” چُپ رہتے ہیں!

ظریف رند

مسافر کوچ؛ مال گاڑی کی طرح ڈیزل لوڑ کرتے ہیں جوکہ بس کو تیز رفتار بم بنا دیتے ہیں۔ ہم مسافر اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب ہوتا دیکھ کر بھی کچھ نہیں کہتے۔

یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس چلتے پھرتے ب’م کے بلاسٹ ہونے سے کوچ میں سوار ہم میں سے کسی بھی مسافر کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پھر بھی ہم پیسے بھر کر ٹکٹ خریدتے اور چُپ چاپ بیٹھ جاتے ہیں۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے مسافر گاڑیوں کیلئے جو اسپیڈ لِمٹ اور ایس او پیز وضع کی ہیں، ڈرائیور حضرات انہیں اپنے پیروں کے نیچے اسکیلیٹر تلے دبا رہے ہوتے ہیں۔ کوچ کی اوور اسپیڈنگ کے ساتھ خطرناک موڑ پر ایسے کَٹ لیتے ہیں جیسے انہوں نے جنّت یا دوزخ کی ٹکٹ کر رکھی ہو، مگر، ہم مسافر ہیں کہ چپ چاپ رہتے ہیں۔

بس کی ڈرائیونگ سیٹ پر عموماً ایسا چرسی بیٹھا ہوتا ہے جسکی آنکھوں سے لالی ٹپک رہی ہوتی ہے۔ وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے کبھی فون چلا رہا ہوتا ہے تو کبھی چرس بنا کر پھونکیں اڑا رہا ہوتا ہے۔ مگر مجال ہے ہم مسافر اپنی زات کے حق میں منہ کھولیں۔ 

ٹرانسپورٹرز مسافر بسوں میں غیر قانونی اشیاء بھر کر جگہ جگہ چوکیوں پہ گھنٹوں مسافروں کو ذلّت سے گزارتے ہیں، ہم کچھ نہیں کہتے۔ ڈیزل ڈپّوؤں پر گھنٹوں مال اتارتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ بس میں مریض بیٹھے ہیں جنہیں فوری ہسپتالوں تک پہنچنا ہے، مگر ہم اپنی چُپ کا روزہ نہیں توڑتے۔ 

ٹرانسپورٹرز اپنی ذاتی ہوٹلوں یا کمیشن پر فِکس ڈھابوں پہ بَس کو روکتے ہیں جہاں کے واشروم اور پانی ناقابل استعمال اور کھانا زہریلا ہوتا ہے۔ جبکہ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے سامنے ڈرائیور اور منشی حضرات کیلئے الگ سے معیاری کھانا پہنچایا جا رہا ہے۔ مگر ہم مسافر لب کشائی نہیں کرتے۔ 

ایسے بیشمار مسائل کو روزانہ جان بوجھ کر ہم اندیکھا کر رہے ہوتے ہیں۔ اُلٹا ہماری ساری ہمدردیاں بھی ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ہوتی ہیں، یہ سوچ کر کہ یہ بلوچ ہیں، انہیں چوکیوں پر تنگ کیا جاتا ہے۔ یہ نہیں دیکھتے یہ سرمایہ دار ٹرانسپورٹرز ہر طرح سے ہمیں لوٹ کر، ہمارا استحصال کرکے، ہمیں ازیت پہنچا کر، ہماری زندگیوں سے کھیل کر صرف اور صرف اپنا سرمایہ ڈبل ٹرپل کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں ہم مسافروں سے زرا سی بھی ہمدردی نہیں ہے۔

اور، جب کوئی سانحہ ہوتا ہے، وہ حادثہ ہو جاتا ہے جسکا ہمیں پہلے سے ادراک اور ہمہ وقت شبہ بھی رہتا ہے، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوجاتا ہے، تب "ہم” سوشل میڈیا پر ایک دو روز ماتم کرکے پھر سب بھول جاتے ہیں۔

اور یہ تاویل کہ ریاست نے بلوچستان میں کوئی موٹروے نہیں بنایا، سارے سنگل روڑ ہیں اس لئے یہ حادثات ہورہے ہیں، تو یہ سادگی بھی ہماری انمول زندگیاں چھیننے کی وجوہات میں شامل ہے۔ کہ ہم اپنی سادگی میں بھول جاتے ہیں کہ نوآبادکار نے اپنی نوآبادیوں میں ایسا انفراسٹرکچر جو عوام کے مفاد میں ہو تاریخ میں کبھی تعمیر کیا ہے اور نہ آئیندہ کرے گی۔ ہاں، جہاں انہیں ضرورت محسوس ہو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے تو وہ بولان کی محکم بدن کو چیر کر بھی ریلوے ٹریک گزار لیتے ہیں اور بالگتر کی مات-بند سے بھی اپنا ٹریک کھینچ لیتے ہیں۔ ہماری کیا زمہ داری بنتی ہے کم از کم اس پہ ہم غور کریں۔ 

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین