اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومبلوچستانگوادر: عظیم دوست کی جبری گمشدگی کو 9 سال مکمل، گوادر میں...

گوادر: عظیم دوست کی جبری گمشدگی کو 9 سال مکمل، گوادر میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ

گوادر سے نو سال قبل مبینہ جبری لاپتہ عظیم دوست کی گمشدگی کے خلاف اور انکی بازیابی کیلئے انکی ہمشیرہ رخسانہ دوست اور لواحقین کی طرف سے گوادر صدف ہوٹل سے پریس کلب گوادر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی گوادر کی مختلف گلیوں سے گزر کر پریس کلب کے سامنے اختتام پزیر ہوا، جہاں اس نے ایک احتجاجی جلسے کی شکل اختیار کی، احتجاجی ریلی میں عظیم دوست کی فیملی کے ساتھ دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت سیاسی اور سماجی کارکنان نے بھی شرکت کی، ریلی کے شرکاء نے عظیم دوست سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے نعرے لگائے اور جبری گمشدگیوں کو روکنے کی اپیل کی گئی۔

ریلی کے شرکاء سے اپنے خطاب میں عظیم دوست کی بہن رخسانہ دوست نے کہا کہ "آج میری انتظار کو 9 سال گزر گئے لیکن میرا بھائی عظیم دوست ریاستی ازیت خانوں سے تاحال منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے، یہ 9 سال میری زندگی کے وہ دردناک لمحات ہیں جنہوں نے میری زندگی کے ساتھ ساتھ میری فیملی کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان 9 سالوں میں ہم نے کوئی خوشی نہیں دیکھی ہے، میری بوڑھی ماں دن رات اپنے بیٹھے عظیم دوست کو یاد کرتی ہے۔ ان 9 سالوں میں ہمارے گھر میں کسی نے عید نہیں منایا۔ جب عید جیسی خوشیوں کے دن آتے ہیں تو ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا درد اور تکلیف محصوس ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر کوئی عید میں اپنے پورے فیملی کے ساتھ خوشی مناتا ہے لیکن ہمارے یہ دن روڈوں پر احتجاج مظاہروں میں گزرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "کیا یہ ریاست ہمیں بتا سکتا ہے کہ میری بوڑھی ماں اور میری فیملی کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے ؟ آج بلوچستان کا ہر گھر اسی آگ میں جل رہا ہے کیونکہ ایسا کوئی گھر نہیں بچا جہاں کسی بہن کا بھائی، کسی بیوی کا شوہر، کسی ماں کی آنکھوں کا تارہ یا کسی باپ کے بڑھاپے کے سہارہ یا کسی معصوم بچے کے سر سے اسکے باپ کا سایہ نہیں چھینا گیا ہو”

انہوں نے مزید کہاکہ بھائی کی بازیابی کے لئے ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ احتجاج کیا، دھرنوں میں بیٹھ گئے، اس ریاست سے فریاد کی کہ میرے بھائی کو منظر عام پر لایا جائے اگر اس نے کوئی جرم کیا ہے اپنی عدالتوں میں پیش کوکے اس کو سزا دو۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں کیوں اس طرح ازیت دیا جا رہا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس ریاست سے اپنی بوڑھی ماں کی خوشیاں واپس مانگتی ہوں خدارا میرا بھائی مجھے واپس لوٹا دیں۔ میرے لواحقین سمیت تمام لاپتہ افراد کے لواحقین کو اس ازیت اور دردناک انتظار سے آزاد کریں۔ عظیم دوست سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

مظاہرے حق دو تحریک کے چیرمین حسین واڈیلہ اور ترجمان خفیظ کیازئی نے بھی خطاب کرکے عظیم دوست کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین