بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلوچستانگوادر: ضلع بھر میں سمندر سے لیکر خشکی تک سیکیورٹی اداروں کی...

گوادر: ضلع بھر میں سمندر سے لیکر خشکی تک سیکیورٹی اداروں کی بھر مار کے باوجود منشیات عام ہے، ایسا گھر نہیں جو اس ناسور سے محفوظ ہو۔ مولانا ہدایت الرحمن

منشیات کی عالمی دن کے مناسبت سے منشیات کے خلاف حق دو تحریک کے زیر اہتمام گوادر میں احتجاجی ریلی، ریلی ملا فاضل چوک سے شروع ہوکر پریس کلب کے سامنے اختتام پزیر ہوئی، ریلی میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ریلی کے شرکاء سے نصیب نوشیروانی ،حفیظ کیا زئی اور حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم منشیات کے خلاف میدان جنگ میں نکلے ہیں اور یہ جنگ منشیات کے خاتمے تک جاری رہیگی۔

انہوں نے کہا گوادر ضلع میں اتنے چیک پوسٹوں کے باوجود ہے در پے شہری و دیہی علاقوں میں منشیات عام ہے، آچ ضلع بھر میں کوئی ایسا گھر نہیں جو اس منشیات جیسی ناسور سے محفوظ ہو ، ہمارے شہری و دیہی علاقے منشیات جیسی زہر نے اپنے لپیٹ میں لے لیئے ہیں اور نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ سمندر سے لیکر خشکی تک سیکیورٹی اداروں کی بھر مار کے باوجود منشیات یہاں اس قدر عام ہیکہ ہر گلی محلے میں باآسانی دستیاب ہے ، انہوں نے کہا پولیس ، ایکسائز و انٹی نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ منشیات جیسی ناسور کی بیخ کنی میں بری طرح ناکام ہیں۔

مقررین نے کہا ہم اپنے نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے حکمران ہمارے نوجوانوں کو تعلیم جیسی زیور سے آراستہ کرنے کے بجائے انکی رگوں میں منشیات جیسی زہر پھیلا رہے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو زہنی طور پر مفلوج کرکے سلو پوئزن کرکے موت کی گھاٹ اتار رہے ہیں جس کے باعث ماؤں کے لخت جگر ژندہ لاش بن کر رہ گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا منشیات کے خلاف موثر و خاطر خواہ کاروائی عمل میں نہ لانے سے یہی محسوس ہوتا ہیکہ یہ منشیات فروش ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں جس کے سبب ادارے ان کے سامنے بے بس ہیں جو محض فرضی کاروائیوں کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔

مقررین نے کہا جب ہم اپنی جمہوری و آئینی حقوق کے لیئے ریلی و احتجاج پر نکلتے ہیں تو سینکڑوں کی تعداد میں پولیس کے دستے ہمارا راستہ روکنے کے لیئے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں اور یہی دستے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہیں جس سے صاف عیاں ہیکہ ایک اوچھے سمجھے سازش کے تحت ہمارے نوجوانوں کو قلم و تعلیم سے دور کرکے منشیات کے کے کا عادی بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منشیات ایک معاشرتی برائی ہے جس کے خلاف ہر ذی شعور کو آواز اٹھانا چاہیے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہیکہ ضلعی انتظامیہ اس معاشرتی برائی کے خاتمے میں ایک طرف بری طرح ناکام ہے تو دوسری جانب اس برائی کے خلاف آواز اٹھانے والوں سے کہتا ہیکہ پہلے این او سی لیں اور پھر معاشرتی برائی کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت ہوگی ، جب بھی عوام کی آئینی حق کو غضب کیا جائے گا تو حق دو تحریک کسی بھی این او سی کو نہیں مانے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین