اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومبلاگکیچ: غیر سیاسی عناصر کو روکنے کی لفظی جغادری

کیچ: غیر سیاسی عناصر کو روکنے کی لفظی جغادری

رسانکدر کالم: ظریف رند

یہ سطریں حرفِ عام بن چکی ہیں کہ کیچ بلوچستان کی سیاست کا مرکز ہے، کیچ سیاسی حلقہ ہے، کیچ نے سیاست دان پیدا کیئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ کیچ نے کب سیاستدان پیدا کیئے اور کیچ کی زرخیزی کب ختم ہوگئی اسکا گہرا تجزیہ شاز و نادر کسی نے پیش کیا ہو۔

کیچ کی ماضی دلچسپ و قابلِ رشک اس لئے ہے کیونکہ ایک صدی قبل ہی مکران میں سرداروں و نوابوں کی گرفت کمزور پڑگئی۔ یہاں کے باسیوں کیلئے گلف کے دروازے کھل گئے اور یہ معاشی طور پر آزاد ہوئے۔ اسلئے روایتی طرزِ معیشت اور طرزِ زندگی سے جان خلاصی ہوگئی۔ مکران کے باسی اپنے بچوں کو پڑھانے کے قابل بنے۔ کئی شہروں میں جا بسے اور کچھ شہروں سے شعار لیکر اپنے دیہاتوں کو جدیدیت کی طرف لیجانے کی تگ و دو میں لگ گئے۔

بلوچستان میں ابھرنے والی طلباء تحریک کے دوران مکران کو بڑا جست لگا۔ تحریک کا نام ‘بی ایس او’ تھا، اور ہر کس و ناکس نے بی ایس او کو اپنا لیا۔ سیاست امراء کی درباروں سے نکل کر گلی کوچوں میں آگئی۔ غریب کا بچہ بھی لیڈر کہلانے لگا۔ سیاست کی آزادی نے سماج کو آزاد کر دیا۔ پرانے بُت ٹوٹے اور نئی ریت قائم ہوگئی۔ جسکے بعد جس شخص نے جب بھی جو چاہا اس راستے کا انتخاب کیا۔ اسے اسپیس بھی ملی اور فالوورز بھی ملے۔ جبکہ باقی ماندہ بلوچستان میں سیاسی کارکنان کیلئے ایسے سازگار حالات و مواقع موجود نہیں تھے۔ انہی رجحانات کے پیش نظر کیچ کے باسی فخریہ کیچ کو آزاد اور سیاست کا امام کہنے لگے۔ یہ ایک سنہرا دور تھا، جو اِس وقت دم توڑتی ہوئی نِہج پر آن کھڑی ہے۔

جن قائدین کو آزاد سیاسی اسپیس مکران بالخصوص کیچ نے عطا کیا تھا انہوں نے اپنے اپنے مخصوص مورچے بنا لیئے۔ کسی نے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا تو کوئی ڈرائنگ روم کو اپنا سنگر بنا بیٹھا۔ کیچ کی گلیاں، کوچے، چوک و چوراہے ویران ہوتے چلے گئے۔ اور سیاست ہی بند گلی میں مقید ہوگئی۔ ویران گلیوں کی خلا کو پُر کرنے کا موقع غیرسیاسی عناصر کو میسر آیا۔

غیرسیاسی عناصر کے سیاسی آقاؤں (المعروف سیاست سے لاتعلق) نے مصنوعی پیوندکاری شروع کی۔ انہوں نے وہ پودے لگائے جن کے پاس دھن دولت تھا۔ چاہے کالا دھن ہو یا سفید، وہ ایشو نہیں ہے، بس دھن دولت کا ہونا اور مسلحہ جھتہ ہونا لازمی شرط قرار دیا گیا۔ خالی زمین کو سنہرا موقع پاکر بڑے بڑے مافیاز کھود پڑے اور اپنی جڑیں پیوست کرنے میں جھت گئے۔

تھوڑے ہی عرصے میں ان مصنوعی عناصر کو صحافی برادری نے "سیاسی و سماجی شخصیت” لکھنا شروع کر لیا۔ مساجد کے امام انکے پاس چندہ لینے لائن میں لگ گئے۔ چور اوچکے یہیں سہارا لے بیٹھے۔ صلح جو شخصیات انہی کے بنگلے و پراڈو کے محتاج بنے۔ عدم تحفظ کی شکار مخلوق بھی جان کی پناہ مانگنے انہی کے در پہ بیٹھ گئی۔ بیروزگار بریگیڈ روزی روٹی کی ٹوکن لینے محتاجی بن گئے۔ اور جو ‘سیاسی قائدین تھے’ وہ میدان چھوڑ کر اپنی خود کی پناہ ڈھونڈنے پنڈی سے رعایت مانگنے چلے گئے۔

کچھ وقت بیت گیا، گِرد و غبار بیٹھ گئے، لوگوں کو سانس لینے کا موقع میسر آیا۔ اور نظریں پھیر کر دیکھا تو پتا چلا کہ یہ وہ مکران نہیں رہا جس میں ڈیڑھ دو دہائی قبل تک ہم نے آنکھیں موند لی تھیں۔ یہ کچھ اور ہے۔ یہ مافیاز کے تسلط میں یرغمال کیچ ہے۔ اس میں جو سیاسی قیادت تھی وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو بھی مافیاز میں ڈھال چکی ہے۔ اس میں آزاد و خودمختار سیاسی فضاء نامی کوئی شے باقی نہیں رہی ہے۔

اب آتے ہیں "سیاسی عناصر کا راستہ روکنے کی جغادری” کی جانب۔ یہ سطریں آئے روز مقامی میڈیا کی شہہ سرخیوں میں پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ وجہ یہ ہیکہ ڈسٹرکٹ کونسل کے چیرمین کے انتخاب ہونے جا رہے ہیں۔ کیچ کی مقامی سیاسی جماعتیں اپنا اپنا ‘سیاسی نمائندہ’ لانے کی مقابلہ بازی میں لگے ہوئے ہیں جبکہ ‘معروف بازیگر’ اپنا ‘کاروباری’ شخصیت میدان میں اتار چکے ہیں۔ سیاست بہرکیف دونوں قوتوں کیلئے کاروبار سے زیادہ کچھ نہیں رہا، مگر ‘سیاسی عناصر’ اس کاروبار پر صرف اپنا جدّی پشتی حق تصور کرتے ہیں سو، انکا ماننا ہیکہ ‘غیرساسی عناصر’ کا راستہ روکنا انکے لئے ضروری ہے۔

ہم ان سیاسی رہنماؤں سے ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ سیاست میں کوئی ‘شاٹ کٹ’ نہیں ہوتا۔ یہ طویل سفر ہے۔ سیاستدان کو دور اندیش ہونا چاہیئے جیسے گَیان ان سے ہمیشہ سننے کو ملے ہیں مگر یہ اپنے اقوالِ زرّیں پر خود عمل کرتے ہوئے بہت کم نظر آتے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کا عمل آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جوکہ ضلعی کونسلز کے انتخاب کا مرحلہ ہے۔ اس سے قبل دو اہم مراحل گزر چکے ہیں۔ پہلا مرحلہ بلدیاتی کونسلران کے انتخاب کا تھا۔ جس میں سیاسی و غیرسیاسی عناصر مکمل طور پر سرگرم رہے۔ دونوں نے ملکر مُک مُکا کی پالیسی کے تحت بندربانٹ کی۔ اور خانہ پوری کرکے پہلا مرحلہ گزار لیا۔

دوسرا مرحلہ یونین کونسلز کے چیرمین کے اتنخاب کا آیا۔ اس مرحلے میں بھی ‘سیاسی و غیرسیاسی’ فقروں کو پَرے رکھ کر مُک مُکا کا فارمولہ اپنایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنہیں ‘غیرسیاسی عناصر’ کہا جا رہا ہے انہیں خاطرخواہ نشستیں دی گئیں اور اب وہ تیسرے اور آخری مرحلے پر بہت حد تک اثرانداز ہوچکے ہیں۔

اب جو ‘سیاسی عناصر’ کی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی ہیں یہ انکا اپنا کیا دھرا ہے۔ اسے صرف کسی غیبی قوت کی مداخلت یا کارستانی قرار دینا اپنی نااہلی چھپانے کا حیلہ بہانا کے سوائے کچھ بھی نہیں ہے۔

بدقسمتی سے کیچ و مکران کی سیاست بھی کنبہ پرستی اور دربان پرستی کی نظر ہوچکی ہے۔ اس میں قومی و اجتماعی سوچ کا فقدان پیدا ہوچکا ہے۔ اب کیچ پر حکومت جس کسی کی بھی قائم ہوجائے اسکی زمہدار سیاسی و غیرسیاسی عناصر دونوں ہونگے۔ یوں بھی یہ لڑائی مخصوص بالائی دھڑوں کی آپسی لڑائی ہے جس میں کیچ کی وسیع ترین آبادی دور کھڑی ہے، بیگانہ و بے پرواہ ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین