پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومبلوچستانکوہلو: اسٹوڈنٹس الائنس کا کوہلو پبلک لائبریری کے قبضے کیخلاف پر ہجوم...

کوہلو: اسٹوڈنٹس الائنس کا کوہلو پبلک لائبریری کے قبضے کیخلاف پر ہجوم پریس کانفرنس، اگاہی مہم اور احتجاج کا عندیہ دےدیا۔

کوہلو کے آل طلباء الائنس نے پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان گزشتہ کئی دہائیوں سے سماجی بے راہروی کا شکار ہیں، صوبے میں تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان شدید احساس کمتری اور مایوسی و اضطراب میں مبتلا ہیں، 1974 میں بننے والی کوہلو انٹر گرلز کالج اب تک غیرفعال ہے جو سابقہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں صدارتی پیکج کے تحت منظور ہوا تھا جس کے کلاسسز فعال ہونا تو دور کی بات ہے اب تک بلڈنگ بھی پورا نہیں ہوا جبکہ علاقے میں سپورٹس فیسٹیول بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

آل طلباء الائنس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ایس ڈی پی 22-2021 میں منظور شدہ پبلک لائبریری جو کہ تحصیل آفس میں زیر تعمیر تھا جو کہ اب تعمیر کے آخری مراحل میں ہے، لیکن اب نومنتخب ڈسٹرکٹ چیئرمین اور واٸس چیرمین کی جانب سے پبلک لائبریری کو آفس بنانے کا افسوسناک فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کا دفتر ڈی سی آفس میں واقع ہے جہاں سابقہ منتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ طلباء الائنس نے ڈپٹی کمشنر کوہلو اعجاز احمد جعفر و دیگر حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کا نوٹس لے کر کوہلو پبلک لائبریری کو نوجوانوں کے لیے جلد از جلد فعال کریں۔

طلباء الائنس کا کہنا تھا کہ ہمارا پریس کانفرنس مکمل غیر سیاسی ہے اور یہ طلباء الائنس کی مشترکہ موقف کی ترجمانی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کی اندر لائبریری کے لئے کوہلو میں ایک آگاہی مہم چلائی جائے گی، اگر اس دوران کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ہم شدید احتجاج کی شکل اختیار کرینگے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین