پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومبلوچستانکوئٹہ: میرا نام چھوتی مرتبہ ای سی ایل لسٹ میں ڈالا گیا...

کوئٹہ: میرا نام چھوتی مرتبہ ای سی ایل لسٹ میں ڈالا گیا ہے، کچھ قوتیں میری آئینی جدوجہد سے خوفزدہ ہیں۔ ماما قدیر بلوچ

وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے بھوک ہڑتالی کیمپ سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 2015 میں جب میں امریکہ جانے کے لیے کراچی ائیرپورٹ پنہچا تو ایمیگریشن کے مراحل سے گزار کر لاؤنج میں جاکر بیھٹا تو وہاں پر ائیرپورٹ انتظامیہ اور دیگر سرکاری اداروں کے اہلکار میرے پاس آکر مجھے سے کہا کہ میرا نام ای سی ایل لسٹ میں شامل ہے لہٰذا میں امریکہ نہیں جاسکتا ہوں تو انہوں نے مجھے امریکہ جانے نہیں دیا، پھر میں نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی کہ میرے نام کو ای سی ایل لسٹ سے نکالا جائے تو سندھ ہائی کورٹ سے جواب طلب کیا کہ قدیر بلوچ کا نام کیوں ای سی ایل لسٹ میں ڈالا گیا ہے تو حکومت سندھ ہائی کورٹ کو مطمئن نہیں کرسکا تو سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ میرا نام ای سی ایل لسٹ سے نکالا جائے تو میرا نام ای سی ایل لسٹ سے نکالا گیا۔

انہوں نے کہا دوسری مرتبہ 2018 میں میرا نام دوبارہ ای سی ایل میں ڈالا گیا تو بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا جہاں پر حکومت نے معزز عدالت کے سامنے اپنے موقف کا دفاع نہیں کرسکا اور عدلیہ نے میرے حق میں فیصلہ دیا اور میرا نام ای سی ایل سے نکالا گیا۔

2020 میں تیسری مرتبہ میرا نام ای سی ایل کے لسٹ میں شامل کردیا تو میں پھر بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو معزز عدالت نے حکومت جواب طلب کی کہ ماما قدیر کا نام کیوں بار بار ای سی ایل لسٹ میں شامل کیا جارہا ہے تو حکومت نے میرے خلاف مختلف الزامات لگائے 2020 سے میرا کیس مئی 2023 تک بلوچستان ہائی کورٹ میں چلتا رہا جہاں پر حکومت نے مجھ پر لگائے گئے الزامات ثابت نہیں کرسکا تو بلوچستان ہائی کورٹ نے 5 مئی 2023 کو میرے حق میں فیصلہ دیا کہ ماما قدیر کا نام ای سی ایل لسٹ سے نکالا جائے تو میرا نام ای سی ایل لسٹ سے نکالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پھر چوتھی مرتبہ موجودہ نگراں حکومت نے میرا نام ای سی ایل لسٹ میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے کہا میں ایک انسانی حقوق کا کارکن ہوں اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے 2009 سے پرامن اور ملکی قوانین کے تحت جدوجہد کرتا آرہا ہوں ہمارے جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں ماورائے آئین اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا راستہ روکا جائے اور میں آئین کی بالادستی ہو اور ملک کے طاقتور ادارے جو بھی اقدام اٹھائے وہ ملکی کے تحت اٹھائیں اور کوئی ادارہ اپنے آپ کو ملکی قوانین سے بالاتر نہ سمجھے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے کے اندر اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔ لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے جو مجرم ہے انہیں عدالت کے زریعے سزا دی جائے جو بےقصور ہے انہیں رہا گیا جائے شہریوں کی جبری گمشدگیاں ایک ماورائے آئین اقدام ہے جسکی روک تھام کیا جائے جو لاپتہ افراد اس دنیا میں نہیں ہے انکے خاندان کو بتایا جائے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کیا جائے اور جو ملکی ادارے جبری گمشدگیوں میں ملوث ہے انکے اختیارات کو کم کرنے اور انکے ماورائے آئین اقدامات کے خلاف قانون سازی کی جائے۔

ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے جدوجہد کا مقصد آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا جس سے آپ لوگ باخوبی اندازہ لگا سکتے ہو کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے ہم جو جدوجہد کررہے ہیں وہ ملکی قوانین سے منحرف نہیں بلکہ ملکی قوانین کے تحت ہے۔ پرامن اور آئینی جدوجہد کے باوجود میرے سمجھ سے بالاتر ہے کہ میرا نام کیوں بار بار ای سی ایل لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست اور ریاستی ادارے ہمارے پرامن اور آئینی جدوجہد سے خائف ہے انہیں صرف ڈر یہ ہے کہ ہم تنظیمی سطح پر ریاستی اداروں کے ماورائے آئین اقدامات کو ملکی اور بین اقوامی سطح پر اجاگر کررہے ہیں جس سے انکی بدنامی ہورہی ہے جن کی وجہ سے وہ ہمارے تنظیم کے رہنماوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کرتے آرہے ہیں اور میرا نام بار بار ای سی ایل میں شامل کرتے آرہے ہیں ہم ریاست اور ریاستی اداروں کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپ لوگوں کہ یہ اقدامات ملکی آئین و قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور پرامن اور آئینی آوازوں پر قدغن لگانے کے مترادف ہے جسکی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ریاست اور ریاستی اداروں پر واضح کرتے ہیں کہ ہم اسطرح کے اقدامات سے اپنے جد و جہد سے دستبردار نہیں ہونگے بلکہ ہم مستقل مزاجی سے اپنا پرامن اور آئینی جد و جہد کو جاری رکھنے گے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت سیاسی پارٹیوں، طلباء تنظیموں، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافی و وکلاء برادری سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ریاست اور ریاستی اداروں کے اس ناروا سلوک کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے اور ہمیں اور لاپتہ افراد کے حوالے سے ہمارے پرامن و آئینی جد و جہد کو تحفظ فراہم کرے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین