پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومبلوچستانکوئٹہ: عدالت عالیہ بلوچستان نے مکران میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال تربت...

کوئٹہ: عدالت عالیہ بلوچستان نے مکران میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال تربت کی خالی آسامیوں پر حکم امتناعی جاری کرکے پرنسپل اور ایم ایس کو عدالت طلب کرلیا۔

بلوچستان ہائیکورٹ کے جحج جسٹس محمد نعیم افغان اور جسٹس محمد عامر رانا کے عدالت نے محکمہ صحت مکران میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال کیچ تربت کی خالی آسامیوں پر پرنسپل میڈیکل کالج مکران کو ہر قسم کے بھرتیوں پر اور ٹیسٹ انٹرویوز پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے 16 اگست کو عدالت میں جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزار نوید تاج نے ٹیچنگ اسپتال کیچ تربت کو بھی ہر قسم کے ٹیسٹ انٹرویوز حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اسے بھی ٹیسٹ انٹرویوز سے روکنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مکران میڈیکل کالج ٹیچنگ اسپتال کے 525 کے قریب آسامیوں پر اشتہارات جاری ہوئے ہیں، پورے بلوچستان سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں جب کہ قلیل مدت میں ہزاروں امیدواروں کا ایک دن ٹیسٹ اور دوسرے دن انٹرویوز لینا میرٹ نہیں بلکہ من پسند لوگوں کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کرنا ہے جو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کی برعکس ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر صحت جس کا تعلق مکران سے ہے اس قسم کے ٹیسٹ انٹرویوز کے انعقاد سے میرٹ اور لائق امیدواروں کی حق تلفی ہوگی۔

درخواست گزار کے وکیل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ حکومت 8 اگست کو تحلیل ہوجائیگی، استدعا کی کہ ان آسامیوں کو روکا جائے جس پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے 16 اگست کو چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل صحت، پرنسپل میڈیکل کالج مکران اور ایم ایس ٹیچنگ اسپتال کیچ تربت کو 16 اگست کو عدالت میں طلب کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین