بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلوچستانکراچی: ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی 14 سالہ جبری گمشدگی کے خلاف...

کراچی: ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی 14 سالہ جبری گمشدگی کے خلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ریلی و مظاہرہ

عید الاضحیٰ کے روز ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی 14 سالہ جبری گمشدگی کے خلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آرٹس کونسل تا پریس کلب تک ریلی نکالی گئی جہاں احتجاجی مظاہر کیا گیا۔

مظاہرہ سے ایچ آر سی پی کے قاضی خضر، تحریک نسواں کی شیما کرمانی، این ڈی ایم کے شیر محمد، سیمہ بلوچ ہمشیرہ شبیر بلوچ، انعام سندھی سندھ سبھا، ماہ روز عبدالحمید زہری، سعیدہ عبدالحمید زہری، ناصر منصور ٹریڈ یونینسٹ، راشد حسین کی والدہ اور سمی دین بلوچ نے خطاب کیا جبکہ نظامت مہلب دین بلوچ کی۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پر سب سے بڑا سوال جبری گمشدگیوں کا اٹھایا جا رہا ہے، آئینی اداروں اور عدالتوں کی موجودگی میں لوگوں کو حبسِ بےجا میں رکھنا ریاست کے آئین و قوانین کی بے حرمتی ہے۔ ریاستی اختیار داروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی آئین کو پاؤں تلے روندنے کے بجائے اسکی تحفظ و عملداری کو یقینی بناتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کریں۔

سعیدہ عبدالحمید زہری نے اپنے خطاب میں کہاکہ انہیں لاپتہ افراد کے کمیشن میں ڈرامہ باز اور جھوٹا تک کہاگیا مگر انہوں نے تذلیل سہتے ہوئے بھی کمیشن کی پیشیاں جاری رکھیں جس پر بالآخر کمیشن نے تسلیم کیا کہ عبدالحمید زہری جبری گمشدہ ہیں۔ باوجود اقرار کے انہیں منظر عام پر لایا نہیں گیا ہے اور انکی عیدیں اذیت میں گزر رہی ہیں۔

سمی دین بلوچ نے کہا کہ انہیں 14 برس ہوچکے ہیں پریس کلب اور ریاستی اداروں کے آگے دُہائیاں دیتے ہوئے، انہوں نے کہاکہ انکی 14 برسوں کی عیدیں خراب کی گئی ہیں، انکا بچپن ان سے چھینا گیا ہے، انکی زندگی تلخ کر دی گئی ہے۔ بجائے اس سب کے انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا، اور جمہوری مزاحمت کا راستہ ترک نہیں کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انہیں جمہوری راستے سے ناامید نہ کیا جائے وگرنہ اسکے خراب نتائج نکل سکتے ہیں۔

ریلی کا اہتمام انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمی دین بلوچ نے کیا جسکی حمایت وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کی۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین