کراچی: ملک میں بسنے والے اقوام کی وجود سے انکار کی صورت میں ملک کے مسائل کبھی حل نہیں ہونگے۔ حقیقی فیڈریشن کی تشکیل میر صاحب کا مشن ہے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ

نیشنل پارٹی سندھ وحدت کے زیراہتمام کراچی آرٹس کونسل میں میر عوث بزنجو کی یاد میں حاصل خان بزنجو کی تیسری برسی پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جسکی صدارت پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کی جبکہ خصوصی مہمانوں میں مجاہد بریلوی، ڈاکٹر توصیف احمد، شاہینہ رمضان، کرامت علی، ایڈوکیٹ قاضی جاوید، شاویز بزنجو، ایڈوکیٹ اختر حسین، شاہ محمد شاہ، جان محمد بلیدئی، مجید ساجدی نے انکی زندگی و افکار پر بات رکھی۔

مقررین نے اپنے خطبات میں کہا کہ بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میرِ جمہوریت میر حاصل خان بزنجو اپنے اپنے عہد کے بہادر اور جمہوریت پسند رہنما تھے، دونوں نے ڈنکے کی چوٹ پر اپنے نظریہ کا دفاع کیا اور ہمیشہ اصولی سیاست کی۔ انہوں نے کہاکہ بابا بلوچستان نے اپنی زندگی کے بیس برس سے زائد جیل میں گزارے مگر اپنی نظریاتی پوزیشن سے لمحہ بھر کیلئے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی طرح حاصل خان نے بھی اقتدار اور عیش و عشرت کو ٹھوکر مار ہمیشہ جمہوریت کا دفاع کیا اور عوام کے ساتھ جڑے رہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ میر حاصل خان کی خوبی انکی بہادری، ایمانداری، جھد مسلسل پر یقین تھا جن سے وہ ایک ممتاز لیڈر بنے۔ انہوں نے کہا پاکستانی وفاق میں مختلف اقوام اپنی تاریخی حیثیت سے رہ رہے ہیں، ان اقوام کی وجود سے انکار کی صورت میں ملک کے مسائل کبھی حل نہیں ہونگے۔ ملک کو حقیقی وفاق بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں، گوکہ امکانات کم ہیں مگر ہمارے پاس جہد مسلسل کے سوائے کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے، یہی میر غوث بخش بزنجو کا درس تھا اور یہی میر حاصل خان کی جدوجہد کا سبق ہے جسے پارٹی کارکنان لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔