بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومپاکستانکراچی: بی ایس ایف جامعہ کراچی یونٹ کا ہفتہ وار لیکچر پروگرام...

کراچی: بی ایس ایف جامعہ کراچی یونٹ کا ہفتہ وار لیکچر پروگرام بعنوان ‘بلوچ سماج اور قومی بیانیہ’، بی ایس او کے سابقہ چیرمین ظریف رند نے لیکچر دیا۔

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ جامعہ کراچی یونٹ کی جانب سے ہفتہ وار لیکچر پروگرام بعنوان ‘بلوچ سماج اور قومی بیانیہ’ پر منعقد ہوا جسکے گیسٹ اسپیکر بی ایس او کے سابقہ چیرمین ظریف رند تھے۔ پروگرام کی صدارت یونٹ کے صدر یاسر ناصر نے کی جبکہ اسٹیچ کے فرائض بانُک عابدہ نے سرانجام دیئے اور سیشن کا تعارف پیش کیا۔ جبکہ جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ کی ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر حنا خان نے خصوصی طور پر شرکت کرکے لیکچر سنا۔

چیرمین ظریف رند نے تاریخی تناظر میں بلوچ سماج کی تشکیل اور سماجی ساخت پر بات رکھی جس میں قومی سیاسی بیانیہ کی تشکیل پر سیرحاصل بحث کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ سماج کی ساخت سرزمین بلوچستان پر سیٹلمنٹ کے بعد بھی قبیلہ واری رہی ہے، قبائلی ڈھانچے ہی بلوچ کی سیاسی یونین تھیں، جبکہ انگریز کے قبضے کے بعد تاریخی سماجی ڈھانچوں کو توڑ کر انگریز نے مصنوعی طور پر جاگیرداری ڈھانچے متعارف کرائے، جس میں متعدد قبائلوں کی مزاحمت پر انگریز نے نئے خان و نواب اور سردار بھی مصنوعی طور پر پیدا کیئے، اور جاگیرداروں میں قبائل کی اجتماعی ملکیتیں بانٹ دیں۔ انگریز کی استحصالی پالیسیوں کے خلاف بلوچ قبائل نے اپنی مزاحمت جاری رکھی۔ بلوچ قوم نے 1920 کی دہائی سے قبائل سے بڑھ کر قومی بیانیہ کا انتخاب کیا جسکے بعد سے بلوچستان میں منظم قومی جدوجہد کی جڑیں مضبوط ہوتی ہوئی عہد حاضر تک پہنچی ہیں۔

لیکچر میں 1932 کے قومی کانفرنس کے چارٹر پر تفصیلی بحث کی گئی جسکے بعد جبری الحاق اور پھر بابو نوروز خان کے فرزند اور ساتھیوں کی پھانسی کے بعد اٹھنے والی قومی مزاحمت پر سیرحاصل بحث کی گئی جس نے بلوچ سماج کو سیاسی طور پر موبلائیز کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ چیرمین نے اپنے لیکچر میں کہا کہ پھانسی کا یہ ایونٹ بلوچ سماج کو جگانے اور سیاسی طور پر ابھارنے کا موجب بنا اور اسی تسلسل میں طلبہ متحرک ہوتے ہوئے 1967 میں بی ایس او کی تشکیل تک پہنچ جاتے ہیں جوکہ بلوچستان کی سیاسی طبیعت کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ اسی دوران نوآبادکار کے خلاف قوم کا اجتماعی بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس کے کئی اتار چھڑاؤ ہیں مگر وہ تسلسل ہنوز جاری ہے۔

موجودہ صورتحال پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی طور پر جمود کا سماں ہے اور بلوچ سماج منتشر کیفیت میں ہے، قدیم سماجی ڈھانچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ نئے ڈھانچوں کی تشکیل کیلئے منظم سیاسی فورس کی عدم موجودگی کی صورت میں بحران گہرا سے گہرا تر ہوتا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہیکہ نئی نسل ماضی کے تجربات کو پیش نظر رکھ کر مستقبل کی صف بندی کریں تاکہ قوم کو ایک خوبصورت منزل تک پہنچانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین