بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومفیچرکتھک میری جان ہے، میرے جذبات کی ترجمان ہے: احمد ابنِ سکینہ

کتھک میری جان ہے، میرے جذبات کی ترجمان ہے: احمد ابنِ سکینہ

فیچر اسٹوری: ظریف رند

بلوچستان کے پسماندہ ترین ریجن، ضلع آواران کے دیہات تیرتِج کے غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ احمد بلوچ جسے ہم احمد ابنِ سکینہ کے نام سے جانتے ہیں، کا ایک چرواہا بچّے سے معروف کتھک ڈانسر اور آرٹسٹ بننے تک کا سفر بڑا دلچسپ ہے۔

موسیقی سے انکے دلچسپ سفر کا آغاز انکے گھر کے ماحول سے شروع ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انکے گھر میں ریڈیو سننے کا رواج انکے دادا سے شروع ہوا۔ جسکے بعد انکے گھر کی خواتین رات کو کپڑے سیتے وقت ریڈیو سنتی تھیں جس میں انڈین موسیقی چلتا تھا۔ گھر والوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بچپن میں ہی احمد کے کانوں نے موسیقی سے ناطہ جوڑ لیا تھا اور انکے جسم کی روم روم میں گھنگھرؤں کی جھنکار نے گھر کر لیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ انکے والد جو دبئی میں مزدوری کرتے تھے، نے وہاں سے ایک ریڈیو بھیجا تو اسے وہ لیکر بکریاں چرانے جنگل جاتے تھے۔ وہاں موسیقی سن کر رقص کیا کرتے تھے۔

احمد کہتا ہے “ریڈیو سنتے وقت میں بکریوں کی آوازوں کو بھی نوٹس کرتا تھا۔ انکے قدموں کی آوازیں، انکا چرتے ہوئے آوازیں، پتّوں کا گرنا، تیز ہواؤں کا درختوں کے ساتھ ملاپ اور اس سے تخلیق ہوتی نئی آوازیں، پرندوں کا چہکنا، سورج کا نکلنا اور پھر ڈوب جانا۔۔۔ فطرت کے ان سب کرشمات میں ایک الگ کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ اسی سے انسپائر ہوکر میں اپنے جسم اور اپنی قدموں پر بھی غور کرتا تھا اور اسے نیچر کے ساتھ رقص کی صورت میں جوڑ لیتا تھا۔”

نیچر کی فضاؤں میں احمد نے اپنا ایک آرٹ فارم رقص کی صورت میں تخلیق کر لیا تھا اور اسے خبر بھی نہ تھی کہ یہ آرٹ فارم دنیا میں کہیں اور بھی پرفارم کی جاتی ہے۔ یہ انکشاف ان پر تب ہوا جب وہ آواران کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد جامعہ بلوچستان کوئٹہ چلے گئے، تو وہاں ساکم سخن گنج نامی انکے پہلے گُرو نے انہیں بتایا کہ اس ڈانس فارم کو کھتک کہا جاتا ہے۔ انہوں نے احمد کو کچھ ویڈیوز بھی دکھائیں۔ تب ان کے سیکھنے اور پرفارم کرنے کی چاہت مزید بڑھ گئی۔

آرٹ کے فطری ناطے نے احمد کو بلوچستان میں رہنے نہیں دیا اور وہ مہران یونیورسٹی کے سنٹر آف ایکسیلنس اِن آرٹ اینڈ ڈیزائن میں بی ایس کرنے چلے گئے جہاں انہوں نے آرٹ اینڈ ڈیزائن کی تعلیم حاصل کی اور وہاں بھی کتھک ڈانس جاری رکھی۔ جسکے بعد انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کا رُخ کیا جہاں سے انہوں نے ویژول آرٹ میں ایم فِل کی ڈگری حاصل کر لی۔

احمد نے باقائدہ کتھک کی ٹریننگ لاہور میں میڈیم زرین پنّا سے حاصل کی۔ اور ناہید صدیقی صاحبہ کی پروڈکشن کے ساتھ بھی انہوں نے دو سال تک ٹریننگ لی ہے۔

شعوری عمر کو پہنچنے کے بعد وہ اپنی زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ”بچپن میں میرا کوئی خاص ایکسپوژر نہیں رہا ہے۔ میں بہت محروم بچہ رہاں ہوں۔ میں نے کبھی اپنے والدین سے کسی بھی چیز کیلئے ضد نہیں کی ہے۔ اب جو مجھے شعور آیا ہے تو میں اپنے بچپن کو دوبارہ جینا چاہتا ہوں۔ اپنا اسپیس دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ جو مجھے بچپن میں نہیں ملا وہ اب میں پانا چاہتا ہوں۔ اس کیلئے میں اپنا آرٹ فارم استعمال کرتا ہوں۔”

ہمارے معاشرے میں مرد کے ناچنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ مرد اگر فراک اور گھنگھرو پہن کر ناچے تو اسے دوسرے یا تیسرے جنس کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اس پر احمد کا کہنا ہیکہ “یہ لوگوں کے غلط تصوّرات ہیں۔ کتھک کے بنیادی پرفارمر مرد ہی رہے ہیں۔ اس آرٹ فارم میں رادھا کرشنا کی محبت کا داستان بیان کیا جاتا ہے، جس میں مرد کرداروں کے ساتھ بچوں اور عورتوں کے ایکسپریشن بھی شامل ہوتے ہیں۔”

گھنگھرو پہننے کے سوال پر وہ وضاحت کرتے ہیں کہ “گھنگھرو کسی کمزوری یا عورت کی نشانی نہیں ہے بلکہ یہ ایک میوزیکل انسٹرومنٹ ہے جو طبلے کی تال کے ساتھ بجتی ہے۔” وہ مزید بتاتے ہیں کہ “کتھک ڈانس میں پرفارمر کی جسم کا ایک ایک حصہ ایکسپریشن دے رہا ہوتا ہے تو پھر مردوں کی نظریں پاؤں کی گھنگھرؤں پر کیوں ہوتی ہیں۔ وہ اسے غلامی کی نشانی سمجھتے ہیں جوکہ غلط ہے۔ گھنگھرو غلامی کی زنجیر نہیں آزادی کی جھنکار ہے۔”

معاشرے کے غلط تصورات پر تنقید کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ “کتھک ڈانسر کو دیکھ کر مردوں کی مردانہ نفسیات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور وہ عدم تحفظ کا شکار محسوس کرنے لگتے ہیں۔” وہ مزید کہتے ہیں کہ “جنوبی ایشیاء کے لوگوں کو کتھک کی تاریخ پڑھنی چاہیئے، اسے اپنانا چاہیئے کیونکہ یہ اس خطے کی تاریخ اور ثقافت کا اہم جُز ہے۔”

کتھک ڈانس کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں مسکولانیٹی اور سافٹ لاشے شامل ہیں۔ جس میں مزید اسے گھرانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ لکھنؤ گھرانہ، بنارس گھرانہ، آگرا گھرانہ اور جے پور گھرانہ وغیرہ۔۔ احمد کا کتھک فارم لکھنؤ گھرانہ ہے جسکے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ “اس فارم میں نزاکت اور خوبصورتی بہت ہے اس لئے اسے عورت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔”

احمد کی جنسی شناخت پر سوال اٹھانے والوں کے متعلق انکا کہنا ہیکہ “مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں، میں آرٹسٹ ہوں اور آرٹ کسی جنس کی تابع نہیں ہوتی۔ مجھے اپنی شناخت کہیں ثابت کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی، لیکن میں چاہتا ہوں کہ لوگ آرٹ کو آرٹ کے ہی طور پر لیں۔ اسے جنس کے ساتھ نہ جوڑیں۔”

معاشرے کا رویہ احمد کے ساتھ منفی اور مثبت دونوں رہا ہے مگر وہ منفی رویّوں کو درگزر کرکہ مثبت پہلوؤں کو ساتھ لیکر آگے بڑھتے ہیں جن سے انکی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے چند یادگار حوصلہ افزاء لمحات یاد کرتے ہوئے جذبات میں اشکبار ہوئے۔ جس سے انکا انکے آرٹ سے زبردست لگاؤ کا پتا چلتا ہے۔

“میری ابتداء ہی حوصلہ افزائی سے شروع ہوئی ہے۔ جب میں نے پہلی بار پی ٹی وی بولان کے ایک تقریب میں پرفارم کیا تو مجھے تیسری پوزیشن دینے پر ایک خاتون نے باقائدہ ججز کیساتھ میرے لئے لڑائی کی کہ میں پہلی پوزیشن کا حقدار ہوں۔ اس دن مجھے احساس ہوا میرے آرٹ کو اسپیس حاصل ہو سکتا ہے، اس سے میرا حوصلہ بڑھا۔”

اسی طرح ایک اور اہم واقعے کا ذکر کرتے ہیں کہ “مہران یونیورسٹی میں کلاس ٹیچر نے مجھے پرفارم کرنے کا موقع دیا تو پرفارمینس کے بعد میں نے دیکھا میرے سامنے میری ہم کلاس لڑکیاں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ تب مجھے بہت حیرت ہوئی کہ میرا آرٹ اتنا مضبوط ہیکہ یہ دوسروں کے جذبات کو چھو سکتی ہے، انہیں میرے محسوسات کے ساتھ جوڑ سکتی ہے اور ایک دوسرے کے احساسات منتقل بھی کر سکتی ہے۔”

ایسا ہی ایک اور واقعے کا تذکرہ بھی اہم ہیکہ جب انہوں نے تربت کے ایک کالج میں پرفارم کیا تو سات آٹھ سال کے ایک بچے نے آکر انکا ہاتھ چھوم لیا۔ اس پر احمد کہتے ہیں کہ “میرا آرٹ فارم بہت طاقتور ہے۔ یہ سات سال کے بچے سے لیکر نوجوانوں اور بزرگوں تک کے جذبات کو چھو سکتی ہے۔ میرے رقص کی بدولت لوگ اپنے اصل جذبات و احساسات سے ملاقات کر سکتے ہیں”

احمد کتھک کے علاوہ خود کو کہیں اور فِٹ نہیں پاتا۔ انکے مطابق انہوں نے کوشش کی ہے اسکولوں میں ٹیچنگ کرنے کی مگر وہ کہیں ایڈجسٹ نہیں ہو پائے ہیں۔ انکی خواہش ہیکہ وہ کتھک کو مزید پھیلائے مگر انہیں اس سلسلے میں کوئی مدد حاصل نہیں ہے۔

ان سے کتھک سیکھنے کیلئے مختلف جگہوں سے لوگ انہیں رابطہ بھی کرتے ہیں جن میں اسٹوڈنٹس سمیت گھریلو خواتین بھی شامل ہیں مگر کوئی اسپیس یا ادارے کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ باقائدہ کلاسز کا آغاز نہیں کر پا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے تعاون کے سوال پر انکا کہنا ہیکہ “سرکار کیلئے تو ہم سوتیلے بچّے ہیں۔ ہمیں کوئی نہیں اپناتا ہے۔ انکی جانب سے مجھے آج تک کوئی موقع یا پزیرائی نہیں ملی ہے۔ جتنا اسپیس ملا ہے وہ ملک کے ترقی پسند حلقوں کی مرہونِ منّت ہے۔”

احمد نے اپنی والدہ کی محبت اور احسانات کے پیش نظر انکے نام سکینہ کو اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ وہ کتھک ڈانسر کے علاوہ بہت خوبصورت پینٹر بھی ہیں۔ پینٹنگز بنا کر انکی نمائش سے جو کمائی انہیں ملتی ہے اس سے وہ اپنا گھر چلاتے ہیں۔ مگر وہ بحیثیت کتھک ڈانسر زیادہ شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ انہیں کتھک کے انتخاب پر ناز ہے۔ جبکہ مزید سیکھنے اور آگے بڑھنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔

“مجھے بالکل بھی افسوس نہیں ہیکہ مجھے کتھک کی جگہ کسی اور شعبے کا انتخاب کرنا چاہیئے تھا، کتھک تو میری جان ہے۔ اس سے میں اپنے جذبات کو اظہار دے پاتا ہوں اور دوسروں کے جذبات کو بھی اجاگر کرنے میں مددگار ہو سکتا ہوں۔ ہاں، البتہ اس بات کا ملال ہیکہ بیلارینا کی کلاسز یہاں کیوں نہیں ہوتیں۔ میری خواہش ہیکہ میں بیلے بھی سیکھوں اور پرفارم کروں۔”

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین