جمعہ, مئی 24, 2024
spot_img
ہومڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا اسلام آباد یاترا

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا اسلام آباد یاترا

رسانکدر اداریہ

نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اس وقت اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں اہم ترین مسلم لیگ نواز کی مرکزی نائب صدر اور چیف آرگنائزر بی بی مریم نواز اور جمیعت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان سے ہوئی ہیں۔ یہ ملاقاتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب مرکز ایک سال تک ٹالتے مٹالتے بالآخر آئیندہ عام انتخابات کی تیاریوں کے تگ و دو میں ہے۔ اور پی ڈی ایم کی ارکان جماعتیں آئندہ انتخابات کے نتائج کو لیکر بڑے حساس بھی ہیں۔

پی ڈی ایم حکومت کی اہم شراکتدار پاکستان پیپلز پارٹی نے بذریعہ اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں اپنی مداخلت بڑھا دی ہے، اور یہ مداخلت نیشنل پارٹی جیسی پارلیمانی قومپرست جماعت کیلئے انتہائی پریشان کُن ہے۔ کیونکہ 2018 کے عام انتخابات کی براہ راست مداخلت سے نیشنل پارٹی کو مکمل طور پر صوبائی اسمبلی سے باہر رکھا گیا تھا۔ اس دوران نیشنل پارٹی عوامی رابطہ مہم کے ذریعے اپنا ووٹ بینک قدرے بہتر پوزیشن پر لے آچکی ہے جس سے لوکل باڈی الیکشن میں انکا کم بیک نظر آیا ہے۔ اب دوبارہ خفیہ مداخلت کے ذریعے مینڈیٹ پر حملہ آور ہونا قوم پرست جماعتوں کیلئے ناقابل برداشت ہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے مرکزی سطح پر بھی پاکستان تحریک انصاف کے لوٹوں کو وصول کرنا شروع کیا ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ نواز کی قیادت ان سے کافی خفا دکھائی دیتی ہے۔ اب تو بند کمروں کے گلہ شکوے پبلک بھی ہونا شروع ہوئے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے اتحادی انکے اس اقدام سے ناراض ہورہے ہیں۔ یہی کیفیت بلوچستان میں بھی پیدا ہوچکی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے مکران میں بلوچستان عوامی پارٹی نامی پراجیکٹ کے اکثریتی باقیات کو گود لے لیا ہے جوکہ مکران پر کافی حد تک اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ نیشنل پارٹی کا چونکہ اہم ترین گراؤنڈ مکران ہے تو یقینی طور پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اسکا توڑ نکالنے کیلئے اپنے ممکنہ فطری اتحادیوں کی تلاش میں نکلے ہیں۔

مسلم لیگ کے اندر مریم نواز اور جمیعت کے قائد مولانا فضل الرحمان دونوں انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سب سے بڑے ناقدین ثابت ہوئے ہیں۔ دونوں نے ملکر ‘ووٹ کو عزت دو’ کے بیانیے کے تحت سابقہ آرمی چیف اور انکی ٹیم کے خلاف بہت بڑا محاز کھڑا کرکے انکی تشکیل کردہ عمران خان حکومت کا تختہ اُلٹا دیا۔ اب انہیں قطعی طور قبول نہیں ہوگا کہ لوٹوں کو ملا کر پیپلزپارٹی کے ذریعے دوبارہ سلیکٹڈ حکومت تشکیل پائے۔

اسی اثناء میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات یہ آشکار کرتا ہے کہ ان تینوں رہنماؤں نے پیپلزپارٹی کی بری نیّت کو بھانپ لیا ہے اور اسکا توڑ نکالنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے۔ انکا منصوبہ کتنا کامیاب ہوگا اسکا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا، البتہ ان ملاقاتوں نے سیاسی بیٹھکوں میں کافی ہلچل مچا دی ہے۔

بلوچستان کے میدان پر جس قدر نیشنل پارٹی اثر رکھتی ہے اسی قدر جمیعت کا بھی اثر ہے۔ نواب اسلم رئیسانی کی جمیعت میں شمولیت سے جمیعت کا اسپیس سابقہ پوزیشن سے بڑھ گیا ہے۔ جبکہ مریم نواز شریف سے حال ہی میں جام کمال خان بھی ملاقات کرچکے ہیں اور بی بی نے بلوچستان کا تنظیمی دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس لحاظ سے ان تینوں جماعتوں کا ٹرائیکا بلوچستان کی انتخابی سیاست کا گیم پلٹ سکتے ہیں۔ چہ جائیکہ اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی جوکہ پی ڈی ایم کا حصہ بھی ہے، اس اتحاد کا حصہ بنتی ہے تو یہ بہت حد تک آئیندہ الیکشن پر اثر انداز ہونگے۔ اور بلوچستان میں لوٹوں کی سیاست کا راستہ روکنا ممکن ہوپائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین