اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومبلوچستانپنجگور: عالمی یوم انسداد منشیات کے دن کی مناسبت سے یونیورسٹی آف...

پنجگور: عالمی یوم انسداد منشیات کے دن کی مناسبت سے یونیورسٹی آف مکران کے طلباء کی جانب سے یونیورسٹی میں سمینار کا انعقاد اور مختلف سکولوں کے طلباء کا آگاہی واک

رپورٹ: پنجگور پریس کلب پنجگور میں 26 جون عالمی یوم انسداد منشیات کے دن کی مناسبت سے یونیورسٹی آف مکران کے طلباء کی جانب سے یونیورسٹی میں سمینار اور مختلف سکولوں کے طلباء کا واک، واک ماڈل سکول سے شروع ہوکر یونیورسٹی میں پہنچا۔ طلباء نے منشیات کے خلاف ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر منشیات کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔ اسٹیج کے فرائض سر ظہیراحمد نے سرانجام دیئے، سیمنار کے مہمان خاص ممتاز عالم دین مفتی محمد آصف عثمان تھے۔

یونیورسٹی آف مکران میں عالمی یوم انسداد منشیات کی مناسبت سے منعقدہ سمینار سے مفتی محمد آصف, سر محمد حنیف بلوچ, یونیورسٹی کے طلباء نورالزمان بلوچ مطیع اللہ نادیہ اسلم ، مہرگل، عابدہ ,فرح ناز، شیرین بہرام, فاطمہ , سعوداحمد, پریس کلب کے سابق صدر عمر ماجد ,عبداللہ کمالان رفیق , ابوبکر اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 56 کروڑ لوگ منشیات سے متاثر ہیں۔ نشہ ایک لعنت ہے جو انسان کو نچوڑ کر رکھ دیتا ہے، اسلام بھی اس قبی فعل کو حرام قرار دے چکا ہے، غربت جہالت اور ناجائز خواہشات اس کے اسباب ہیں۔ مقررین نے کہا کہ منشیات کے پھیلاؤ کے محرکات جاننا لازمی ہے، یہ قوموں کی زوال کا سبب بنتا ہے جس سے ایک فرد نہیں بلکہ پورے کا پورا معاشرہ متاثر رہتا ہے۔ منشیات نے نوجوان نسل جو ہمارا آئینہ ہیں انکو دھندلا کر رکھ دیا ہے۔ آج اگر کچھ لوگ اس لت سے تباہ ہیں تو کل اس سے مذید تباہی آسکتی ہے جو ہمیں جینے کا درس دیتے ہیں انہی کے ہاتھوں ہمیں کفن بیچا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کی لت میں مبتلا افراد کو سہارا دینے کیا ضرورت ہے۔ نشہ لعنت کے ساتھ موزی مرض بھی ہے یہ صرف گرفتاریوں سے ختم نہیں ہوسکتا ہے اس کے لیے شعور اور معاشرے سے ناہمواریوں کا خاتمہ کرنا بھی ضروری ہے۔ جو لوگ اس لت میں مبتلا ہیں انکو ہمارے سہارے کی ضرورت ہے جب ہم ملکر انکا سہارا بنیں گے تب جاکر وہ اس وبا سے نجات پا سکیں گے۔ مقررین نے کہا کہ جن گھرانوں کے جوان اس ناسور کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں وہ انتہاہی کرب ناک صورتحال سے دوچار ہیں پنجگور میں ایسے گھرانے ہیں جن کے 5 سے 6 جوان اس لت میں پڑ کر زندگیوں کو گنوا چکے ہیں۔ آج وہ نہ صرف اپنے والدین پر بوجھ بن چکے ہیں بلکہ پورا کا پورا ماحول متاثر ہے مقررین نے کہا کہ آؤ ہم ملکر عہد کرتے ہیں کہ منشیات کی ناسور سے اپنے نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے شعوری بنیادوں پر اسکے خلاف جدوجہد کرینگے تاکہ ہمارا نسل محفوظ رہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین