اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومبلوچستانپسنی: قومی شاعر واجہ مبارک قاضی کو آبائی قبرستان میں ہزاروں سوگواروں...

پسنی: قومی شاعر واجہ مبارک قاضی کو آبائی قبرستان میں ہزاروں سوگواروں نے آسودۂ خاک کردیا۔ 

بلوچ قومی شاعر واجہ مبارک قاضی کو ہفتے کے روز ہزاروں سوگواروں نے انکے آبائی گاؤں پسنی کے قبرستان میں آسودۂ خاک کردیا۔ انکے آخری رسومات کی ادائیگی میں سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، بلوچستان اکیڈمی کے سربراہ ڈاکٹر غفور شاد، حق دو تحریک کے چیرمین حسین واڈیلہ، منیر مومن سمیت شاعر، ادیب، گلوکار، فنکار، پروفیسرز، وکلاء، علماء، ڈاکٹرز اور سماج کے ہر پرت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شریک تھے، جنکی آنکھیں اشکبار تھیں اور چہرے پر افسردگی آشکار تھی۔ 

مبارک قاضی 24 دسمبر 1956 کو پسنی میں پیدا ہوئے، انہوں اپنی ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں سے حاصل کی۔ بعدازاں کراچی اور کوئٹہ سے بیچلرز اور ماسٹر کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہوں نے دوران تعلیم شعر و شاعری کے سفر کا آغاز کیا۔ انکی شاعری مزاحمتی شاعری سے عبارت ہے۔ انہوں نے اپنے سماج کی حالات پر بےدھڑک شعر کہے اور مزاحمت کی ہمیشہ ترغیب دی۔ انکے اپنے اکلوتے فرزند قمبر قاضی مزاحمتی سیاست سے جڑ گئے جوکہ بعدازاں شہید ہوئے جس پر مبارک نے کہاکہ انکا کام قمبر کو پڑھانا لکھانا تھا، راستے کے انتخاب میں قمبر آزاد تھا سو انہوں نے خود چُنا اور امر ہوگیا جس پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہے۔ 

مبارک قاضی مزاحمتی سیاست و شاعری کی پاداش میں جلیں بھی کاٹ چکے ہیں۔ وہ درویش صفت شخصیت کے مالک تھے۔ انکی رحلت 16 ستمبر 23 کو 67 برس کی عمر میں ہوئی۔ انکے وفات پر ادیب و شعراء کے علاوہ سیاسی رہنماؤں، مختلف تنظیموں اور اداروں نے افسردگی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین