بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلاگپاکستان بننے کے 75سال بعد بھی سب تحصیل زامران میں آمدورفت کا...

پاکستان بننے کے 75سال بعد بھی سب تحصیل زامران میں آمدورفت کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے

تحریر: یلان بلوچ

 یہ تصویر زامران کے تین یونین کونسلوں سیاہ گیسی،دربلی اور مرگوتی کو ملانے والے سڑک کی ہے،اس علاقے میں ایک کئی دیہات ہیں،جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں مگر راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے ایک دیہات کے لوگ دوسرے دیہات تک پہنچنے یاسفر کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتے ہیں۔

تربت سے یہ علاقہ بمشکل 90کلومیٹر دور ہوگا مگر سفر انتہائی دشوار گزار اور انتہائی مشقت بھرا ہے اور 90کلومیٹر سفر آپ کو بڑی گاڈیوں (دو ہزار اور کلوزر )گاڈیوں پر بھی 10سے زائد گھنٹے کی پڑ سکتی ہے۔

یہ علاقہ ایرانی سرحد سے بہت قریب ہے، رشتہ داریاں بھی ایک دوسرے کیساتھ ہیں مگر باڑ لگنے کے بعد باڑ کے اِس پار رہنے والے اُس پار رہنے والے رشتہ داروں کو نا دیکھ سکتے ہیں اور نا ان سے ملاقات کیلئے کوئی آئینی قانونی اور انسانی نظام انکے لیے بنایاگیا ہے۔

حکومت اور حلقہ پر برسر اقتدار رہنے والوں کی نظروں سے یہ علاقہ ہمیشہ اوجھل رہاہے اس علاقے کے مسائل ہی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان علاقوں میں کوئی حکومتی اور نمائندگی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

علاقہ میں تعلیم ہو یا صحت دونوں کی صورتحال بہت ابتر ہے مگر سب سے اہم مسئلہ سڑک کاہے جو ملک بننے کے پچھہتر سال بعدبھی ان علاقوں کو نصیب نہیں ہوسکا،دوسری جانب ان ہی علاقوں سے قریب ایرانی علاقہ ہے جہاں ہر گاؤں میں سرکاری سطح پر پانی،بجلی اور سڑک کی سہولیات موجود ہیں۔

علاقے میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو سڑکیں ناقابل سفر ہوتی ہیں اور لوگوں کو حشر (اپنی مدد آپ)کے تحت سڑکیں کھول دینے پڑتے ہیں،ایسا معلوم ہوتاہے کہ حلقہ پر برسر اقتدار حکمرانوں کی خواہش رہی ہے کہ ان علاقوں کے لوگ یوں ہی ذلت کا سامنا کرتے رہیں تاکہ بوقت ضرورت معمولی اور ذاتی نوعیت کے مراعات دیکر اپنا کام نکالتے رہیں جسکی واضح مثال حالیہ بلدیاتی الیکشن میں سب کے سامنے رہا مگر ان علاقوں کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے میں حکمرانوں کو کبھی دلچسپی نہیں رہی سناہےکہ سڑکوں کی تعمیرات کے نام پر بجٹ سے پیسہ منظور ہوگئے مگر زمین پر انکے آثار نظر نہیں آتے۔

گزارش ہے حلقہ کے سنجیدہ سیاسی جماعتوں سے کہ بلیدہ،زامران بہت کچھ سہتا رہاہے اور سہہ رہاہے وقت کا تقاضہ ہیکہ سنجیدگی سے مل بیٹھ کر سوچیں اور غور کریں،الیکشن کی آمد ہے ہر گھر سے امیدوار نکلے گا کے بجائے کسی ایک متفقہ امیدوار پر ایک مرتبہ سنجیدگی کیساتھ اتفاق کرلیں وگرنہ تاریخ کے بے رحم اوراق میں آپ بھی حکمرانوں ہی طرح اس پسماندگی اور درماندگی کا برابر شریک جرم ٹھہریں گے۔

شاعرعوام حبیب جالب نے کیا خوب کہاتھا:

یہ زمین تو حسین ہے بے حد

حکمرانوں کی نیتیں ہیں بد

 حکمران جت تلک ہیں یہ ہے بے درد

اس زمین کا رہےگا چہرہ زرد

یہ زمین جب تلک نہ لیں گے ہم!

اس سے اگتے رہیں گے یونہی غم

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین