اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومبلاگوڈھ کی قبائلی کشیدگی، حصولِ طاقت کی جنگ ہے

وڈھ کی قبائلی کشیدگی، حصولِ طاقت کی جنگ ہے

تحریر: ظریف رند

گزشتہ دو ہفتوں سے یہ خبریں عام ہیں کہ وڈھ کا گھیراو کیا گیا ہے، شفیق مینگل کے مسلح جھتے کوٹ مینگل تک پہنچ چکے ہیں، کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ ہوسکتا ہے۔

ان دعوؤں کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو عیاں ہوجاتا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں شفیق الرحمان مینگل کو گزشتہ دو دہائیوں سے پال پوس کر اتنا توانا کیا گیا کہ وہ بلوچستان کے کسی بھی کونے میں کبھی بھی گھیراؤ، کرکے قتل و غارت اور اغواکاری و بھتہ خوری کی پوزیشن میں آگیا تھا۔ بالخصوص وڈھ و خضدار کا تو اختیار دارِ کُل بنا دیا گیا۔

جہاں تک کوٹ مینگل کے گھیراؤ کی بات ہے، تو یہ بھی کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہے بلکہ اس سے قبل بھی کوٹ مینگل پر اس نے چھڑائی کی ہے، حتیٰ کہ راکٹ بھی داغے ہیں۔ مگر اس وقت سردار مینگل اور اختر مینگل ریاستی دباؤ کے سبب اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ شفیق مینگل کا مقابلہ کرسکیں، اس لئے دور دور رہ کر سیاسی بیان بازی پر اکتفا کیے رکھا۔

اب جو سردار صاحب گزشتہ پانچ سال سے وفاقی حکومتوں میں براہ راست شراکتدار جبکہ صوبے میں بلاواسطہ حصہ دار ہیں تو انہوں نے یقیناً کوٹ مینگل کی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کرنے میں بڑا زور لگایا ہے۔ آج وہ اس پوزیشن میں آچکے ہیں کہ وہ ڈیپ اسٹیٹ کے ایک انتہائی اہم اثاثہ کو چیلنج کرسکیں۔

ایک بات تو واضح ہوگیا ہیکہ شفیق مینگل اپنے قدرِ استعمال سے زیادہ پرفارمنس دے چکے ہیں، اب انکی ویسی ضرورت باقی نہیں رہی جو ماضی میں کبھی ہوا کرتی تھی، البتہ وہ ایک اہم اثاثہ ہے تو انہیں یکسر ڈی فیوز کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اسی پوزیشن کو بھانپتے ہوئے کوٹ مینگل کے سرداران نے شفیق کی گرتی ہوئی دیوار کو دھکہ دینے کا محاز کھڑا کیا ہے۔

یاد رہے اس دوران کوٹ مینگل سے جڑے بہت سے ٹَک وڈیرے سردار اپنی وفاداریاں بھی تبدیل کرچکے ہیں۔ یا تو انہوں نے اپنی اپنی آزاد پوزیشنیں بنا لی ہیں یا پھر شفیق الرحمان کے ہاتھوں بیعت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ گزشتہ مہینہ ہی ہم نے مینگل کے گزگی قبیلے کی دستاربندی دیکھی۔ اس طرح کے دیگر الائنسز بنتے رہے ہیں جوکہ کوٹ مینگل کی ساخت کیلئے شدید نقصاندہ ہیں۔

کوٹ مینگل کے پاس اس وقت براہ راست ٹَسل میں جانے کے سوائے کوئی دوسرا چارہ باقی نہیں رہا ہے۔ مگر یہ ٹَسل اصل آقاؤں کی اجازت و آشیرواد کے بغیر قطعی ممکن نہیں ہے۔ یقیناً اس پر سردار اختر مینگل صاحب نے وفاق سے لیکر طاقت کے اصل مراکز کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ اسکے لئے کوٹ مینگل متبادل کے طور کیا خدمات سرانجام دینا اپنے سر لے چکی ہے اس پر ابھی وثوق سے بات کرنا قبل از وقت ہے، مگر یقینی طور پر بڑے مصالحت کے ہی نتیجے میں یہ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

سردار مینگل کے پاس قبیلہ کے علاوہ بڑی سیاسی جماعت بھی موجود ہے تو وہ اپنا کیس دونوں محازوں پر لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انکی جماعت کا یہ نعرہ کہ ‘وڈھ کی کشیدگی قبائلی نہیں، سیاسی ہے’ انکے سیاسی محاز کا ہتھیار ہے۔ مگر یہ صاف نظر آرہا ہے کہ قبائلی سرداروں اور خان و پرنس کے میڑ مرکہ، قبائلی جرگے معاملے کی اصلیت کو آشکار کر رہے ہیں۔ اگر یہ قبائلی مسئلہ نہ ہوتا تو یہ جرگے اور میڑ مرکہ کبھی نہ ہو رہے ہوتے۔

وڈھ کی کشیدگی یقینی طور پر طاقت کے حصول کی جنگ ہے، جسکی مقدر کا سکندر کوٹ مینگل اس وقت نظر آرہے ہیں۔ جو سیاسی کارکنان اس سے سیاسی توقعات رکھ رہے ہیں، انہیں مایوسی ہوگی۔ کیونکہ بلوچستان بھر میں مسلح جھتوں کے خاتمے پر سردار مینگل صاحب بیان بازی تو کرسکتے ہیں مگر عملی طور پر ایسا کچھ کرنا چاہینگے تو انہیں شروعات اپنی صفوں سے کرنی پڑیگی، جو وہ کبھی کرنا نہیں چاہیں گے۔

بہرحال، مینگل زدوں کی نظر میں جو اس وقت سردار مینگل کے حمایت میں نہیں کھڑا ہے وہ ڈیتھ اسکواڈ اور غدار ہے۔ اس طرح انکے احتجاجوں میں کھڑے آٹھ دس کی ٹولیاں ہی فقط سچے قومپرست اور دودھ کے دھلے ہیں۔ البتہ آج کے مظاہروں سے یہ ثابت ہوگیا کہ طاقت کی اس جنگ میں عوام کوسوں دور، مکمل بیگانہ ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین