بدھ, مئی 29, 2024
spot_img
ہومبلاگوومن پولیس اسٹیشن تربت

وومن پولیس اسٹیشن تربت


تحریر: اسد بلوچ


دس لاکھ نفوس پر مشتمل ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق نے کوئٹہ کے بعد بلوچستان کی دوسری وومن پولیس اسٹیشن کا افتتاح اس سال 12 فروری کو کیا، اس سے پہلے وسیع رقبے پر پھیلے( ملک کی 43 فیصد) جغرافیہ کے حامل صوبہ بلوچستان میں صرف کوئٹہ میں ہی ایک وومن پولیس اسٹیشن موجود تھی اس سے گھریلو خواتین کو خصوصی طور پر مختلف نوعیت کے مقدمات کے اندراج میں دشواریاں پیش آرہی تھیں۔

ایک نیم قبائلی خطہ اور سیاسی و علمی طور پر متحرک علاقے کی وجہ سے صوبہ بلوچستان میں مکران ڈویژن کی عورتوں کو عام طور پر کبھی سماجی پابندیوں اور گھریلو بندش کا اس طرح سامنا نہیں کرنا پڑتا جس طرح کی سماجی بندشیں اور گھریلو پابندیاں بلوچستان کے قبائلی علاقوں کی عورتوں کو درپیش ہوتی ہیں۔

مگر اس کے باوجود تھانوں میں عورتوں کی طرف سے اندراج کرائی گئی مقدمات کی شرح ان پر تشدّد سے کئی گنا کم ریکارڈ ہوتی رہی ہیں۔

ریکارڈ کے مطابق بلوچستان میں پولیس کی ٹوٹل 43 ہزار کی نفری میں خاتون اہلکاروں کی تعداد صرف 300 ہے اس سال 282 لیڈی کانسٹیبل تعینات کیے گئے (بحوالہ تقریر آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق، 12 فروری 2023 افتتاحی تقریب وومن پولیس اسٹیشن تربت)۔
وومن پولیس اسٹیشن عطا شاد ڈگری کالج روڈ پر چلڈرن پارک کے بالمقابل قائم ہے، اسٹیشن ایک وسیع چاردیواری کے اندر ہے جس کے دو گیٹ ہیں، مین گیٹ سے داخل ہوکر مختصر راہداری سے گزرنے کے بعد ایک اور گیٹ کے زریعے تھانہ کے اندر داخل ہوسکتے ہیں، مین گیٹ کی سیکیورٹی چار مرد اہلکاروں کے زمہ ہے، اندر داخل ہونے کے بعد دو لیڈی کانسٹیبل گیٹ پر استقبال کےلیے موجود ہوتی ہیں جبکہ اس کے بائیں ہاتھ پر ایک کمرہ میں دو اور لیڈی اہلکار درخواست گزاروں کی شکایات سنتی ہیں اور انہیں نوٹ کرتی ہیں اس کے ساتھ آئی ٹی روم ہے جہاں پر دو لیڈی اہلکار تمام ڈیٹا کمپیوٹر پر منتقل کرتی ہیں۔ اس سے متصل ایس ایچ او کی آفس ہے جبکہ اس کے ساتھ دو کمرے الگ ہیں جن میں ایک روزنامچہ اندراج کی آفس ہے جہاں پر تین لیڈی اہلکار ڈیوٹی دیتی ہیں اس کے ساتھ ایک بے بی کیئر روم ہے۔
پولیس اسٹیشن میں لاک اپ دائیں ہاتھ پر ہے اس کے ساتھ اٹیچ باتھ روم کی سہولت ہے جبکہ اس سے متصل فیڈنگ روم بھی ہے جہاں بچوں کو دودھ پلانے کے لیے لیڈی اہلکار آتی ہیں۔

وومن پولیس اسٹیشن تربت میں لیڈی اہلکاروں کی تعداد 47 ہے جس کا سربراہ ایک ایس ایچ او میسرہ بلوچ ہیں، ان کا تعلق قریبی ضلع پنجگور سے ہے۔ میسرہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی خاتون پولیس آفیسر( میسرہ کے بقول) ہیں۔ لوک سجاگ سے گفتگو میں میسرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کے والد آرمی میں تھے اس سے بچپن میں وہ فورس میں دلچسپی لینے لگے تھے۔

وومن تھانہ تربت میں عموماً کس نوعیت کے مقدمات آتے ہیں؟ میسرہ بلوچ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ چونکہ اس علاقے میں عورتوں کے لیے تھانہ جانا خصوصاً ریپ یا ہراسمنٹ جیسے کیسز کےلیے قبائلی اعتبار سے معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیے بہت کم ڈومیسٹک وائلنس کے کیسز ہمارے پاس آتی ہیں۔( ایس ایچ او کے مطابق دو مہینوں کے دوران صرف ایک ایف آئی آر چاک کرائی گئی ہے) عام نوعیت یا معمولی جھگڑے کے زیادہ کیسز پر ایف آئی آر نہیں بنتا تو ایسے میں ھم عورتوں کی کونسلنگ کرکے انہیں واپس گھروں میں بھیجتے ہیں، ( کونسلنگ ایس ایچ او خود کرتی ہیں) ان کے مطابق وومن تھانہ کو لاک اپ کے ساتھ ایک ایسے تربیتی مرکز کے طور دیکھیں گے جہاں عورتوں کی کونسلنگ کے ساتھ ان کو مقدمات کے لیے آگاہی دیں گے۔

مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبر رضوانہ ایڈوکیٹ تربت میں وومن پولیس اسٹیشن کے قیام کو ایک مثبت پیش رفت کہتی ہیں، ان کے مطابق علاقے میں طلاق، گھریلو تشدّد اور کم عمری میں شادی کے واقعات بڑھ رہے ہیں ان کی روک تھام یا عورتوں کو ان مسائل پر بھتر داد رسی کے لیے وومن پولیس اسٹیشن جانے میں زیادہ آسانی رہے گی۔

وومن پولیس ریپ، ہراسمنٹ یا گھریلو تشدد کے واقعات سے کیسے نمٹے گی، میسرہ بلوچ کے مطابق بعض ایسی چیزیں ہیں جن پر کھل کر بات نہیں کی جاسکتی ہے تاہم ہمارے پاس ہر کیس کے لیے ایک الگ پروسیجر ہے اسی کے مطابق کارروائی کریں گے۔

رضوانہ ایڈوکیٹ کے بقول تربت میں فیملی معاملات جیسے طلاق اور عورتوں پر تشدد کے تقریباً سو سے زیادہ کیسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اس کا مطلب ہے کہ آہستہ آہستہ عورتوں میں اپنے مسائل کو فیس کرنے کا شعور بیدار ہورہی ہے۔وومن اسٹیشن کے بعد عام خواتین بھی خود پر تشدّد یا بچیوں کی کم عمری میں زبردستی شادی کرنے پر کیسز فائل کرسکتی ہیں اس سے پہلے خواتین کو پولیس تھانہ جانے میں کئی طرح کے مسائل درپیش تھیں۔

بلوچستان میں ڈرگ کا استعمال اور سپلائی ایک عام بات ہے، ضلع کیچ کے دیہی علاقوں میں عورتیں اس میں مبینہ طور پر ملوث ہیں ان سے نمٹنے کے لیے وومن پولیس پر عزم ہے، ایس ایچ او میسرہ بلوچ کے مطابق عورتوں کی منشیات سپلائی اور استعمال کی کئی شکایات ملی ہیں ہماری ترجیحات میں اس کی روک تھام سرفہرست ہے اس کے لیے سنیئر افیسران کے مشورہ پر منصوبہ بندی کی ہے اور اس پر جلد کارروائی کا آغاز کریں گے۔

تربت میں وومن پولیس تھانہ سے عام عورتوں کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ انسانی حقوق کمیشن کے مقامی کارکن شھناز شبیر کا خیال ہے کہ تھانہ اور کورٹ کچہری اس معاشرے میں عیب ہے جہاں عورتیں ضروریات کو پورا کرنے باہر نکلتے ہوئے کتراتی ہیں، اب ہوسکتا ہے کہ لیڈی اہلکاروں اور وومن پولیس اسٹیشن سے عام عورتوں کا یہ جھجک ختم ہو مگر اب بھی عورتوں کو خود تھانہ جاکر مقدمات کے لیے کافی وقت درکار ہے، عورت جب تک تحفظ کے احساس سے باہر نہیں نکلے گی ان کے لیے ایسا کرنا بے حد مشکل ہے۔

میسرہ بلوچ کے مطابق وہ جلد گرلز اسکولوں میں جاکر ہراسمنٹ اور تشدّد کے حوالے سے ایک آگاہی مہم چلانے کا پروگرام بنارہی ہیں جہاں عورتوں اور طالبات کو جنسی یا جسمانی تشدد اور ہراسمنٹ پر آگاہی دیں گے اور ایسے مواقع پر مدد کے لیے تھانہ رجوع کرنے کی ضرورت سمجھانے کی کوشش کریں گے۔

لیکن شھناز شبیر عورتوں کے معاملات کو ایک الگ زاویے سے دیکھتے ہیں ان کے مطابق روز اول ایسے معاملات میں صبر سے کام لینے والی عورت کو تھانہ جانے پر آمادہ کرنا کافی مشکل ہے وہ تشدّد سہتی ہے، ہراسانی کا شکار ہوسکتی ہے مگر اس پہ بات کرنا اس صورت ممکن ہے جب انہیں تحفظ کا یقین ہو۔

ایس ایچ او میسرہ بلوچ کے پاس اس کا ایک حل تھانہ میں ایک ٹول فری نمبر لانچ کرنے کا ہے، وومن تھانہ میں جو عورت آنا نہیں چاہتی وہ مدد کے لیے گھر بیٹھ کر ٹول فری نمبر سے اپنی شکایت درج کراسکتی ہے اور اس کی شکایت پر ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔

ایس ایس پی کیچ محمد بلوچ نے بتایا کہ وومن پولیس اسٹیشن بااختیار ہے البتہ انہیں جہاں پولیس فورس کی ضرورت ہوگی ہم ہر تعاون کرنے کو تیار ہیں، محمد بلوچ سمجھتے ہیں کہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہے بہت جلد یہاں کی عورتوں کا بھروسہ وومن پولیس اسٹیشن پر قائم ہوگا۔

تربت میں وومن پولیس اسٹیشن کا قیام بہرحال ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے مستقبل میں عورتوں پر گھریلو تشدد، کم عمری میں زبردستی شادی، عام باتوں پر طلاق اور ڈرگ پر کنٹرول کے مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین