اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومبلوچستاننال: بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو...

نال: بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کی برسی پر نال میں جلسہ

ملک بدترین سیاسی و معاشی بدحالی کا شکار ہے موجودہ بدترین صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ شفاف اور غیر جانبدارانہ اور بروقت انتخابات کا انعقاد ہے، پسند و ناپسند کی حلقہ بندیاں اور مردم شماری میں کٹوتی قابل قبول نہیں ، وفاق کی توسیع پسندانہ عزائم چھوٹے صوبوں میں مزید بے چینی و محرومی پیدا کررہی ہے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میر جمہوریت میر حاصل بزنجو نے پوری زندگی محکوم اقوام اور مظلوم طبقات کے حقوق کے حقوق کی جدوجہد کی، میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کی برسی پر نیشنل پارٹی رہنماؤں کا خطاب۔

نیشنل پارٹی کے زیراہتمام بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی برسی کے موقع پر نال میں بہت بڑا جلسہ عام منعقد ہوا جلسہ سے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مرکزی سیکریٹری جنرل جان بلیدی، میر کبیر محمد شہی، رحمت صالح بلوچ، سردار اسلم بزنجو، سینیٹر طاہربزنجو، بوہیر صالح اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

ڈاکٹر عبالمالگ بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ملک بدترین سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ گزشتہ پانچ سالوں کی سیاسی و انتظامی بد نظمی ہے ، ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ اس بدترین صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ بروقت اور صاف شفاف غیر جانبدارانہ انتخابات پارلیمنٹ کی بالادستی اور تمام اداروں اپنے دائرہ احتیار میں رہ کر کام کرنے میں مضمر ہے۔ وفاق کو چاہیے کہ 1973 کے آہین اور اٹھارہویں ترمیم پر من و عن عمل کرکے صوبوں کو ذیادہ سے ذیادہ اختیارات دیں وفاق کی توسیع پسندانہ عزائم نے صوبوں کے احساس محرومی اور بے چینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

جلسہ سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا رکھوالا بلوچستان کا مجموعی عوام ہے اور یہ بابائے بلوچستان کا مرہون منت ہے کہ انہوں نے نہ صرف بلوچ بلکہ سندھی اور پشتون کو صوبائی حیثیت دینے کے لیئے ون یونٹ کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔اور پھر میر حاصل بزنجو نے بلاخوف و لالچ بابائے جلوچستان کے نقش و قدم پہ چلتے ہہے بلا خوف ولالچ محروم اقوام اور مظلوم طبقات کا دفاع کیا۔انہوں نے کہا کہ 2018کے سلیکشن کے نتیجے میں جو لوگ بلوچستان سے اسلام آباد گئے انہوں نے بلوچستان کے مفادات اور وقار کا سودا کیا۔

جلسہ سے دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے بلوچستان میں قوم دوستی کی سیاست کو ختم کرنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے جارہے ہیں لیکن قوم دوستی کی جدوجہد کو ختم نہیں کیا جاسکتا نیشنل پارٹی جمہوری عوام دوست جماعت ہے اس جدوجہد کے ذریے ملک کو ایک جمہوری مملکت بنایا جاسکتا ہے۔ساحل وسائل کے باوجود بلوچستان کے لوگ غربت افلاس اور بیروزگاری کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مقررین نے پارٹی کے مرکزی رہنما دوران کھوسو پہ قاتلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے واقع میں ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ مقررین نے کہا کہ تاریخ کبھی پرانا نہیں ہوتا تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو زندگی بھر منصفانہ معاشرہ کے قیام کے لیئے جدوجہد کی۔بلوچستان کا مسئلہ سیاسی مسئلہ ہے گفت و شنید سے حل کیا جائے۔ گفت و شنید کا سلسلہ نیشنل پارٹی نے شروع کیا لیکن بعد میں اس عمل کو سبوتاژ کیا گیا۔

جلسہ سے رجب علی رند، اسلم بلوچ، خیرجان بلوچ، عبدالر سول بلوچ، حمید ایڈوکیٹ، یاسمین لہڑی، حاجی فداحسین دشتی، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، رحیم کرد، واحد رحیم، حاجی احمد نواز بلوچ، ڈاکٹر شمع اسحاق اور خدابخش بلوچ نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین