جمعہ, مئی 24, 2024
spot_img
ہوماداریہمکران؛ انتخابی سیاست، مراجعت و شمولیت

مکران؛ انتخابی سیاست، مراجعت و شمولیت

رسانکدر اداریہ

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے تو وسیع و عریض ہے مگر اسکی سیاسی مرکزیت خاصا محدود ہے۔ مکران وہ سنٹر ہے جس میں ہمیشہ سیاسی کھینچا تانی رہتی ہے۔ انتخابی سیاست کے حوالے سے مکران کو ہمیشہ بغور نظر دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہاں مخصوص الیکٹیبلز یا بھگی کھینچنے والوں کے برعکس جماعتوں کے ووٹ بنک موجود ہیں۔

مکران ریجن کے گرفت کی دعویدار جماعت نیشنل پارٹی رہی ہے مگر ماضی قریب میں یہ دعویٰ ثابت کرنا نیشنل پارٹی کیلئے مشکل نظر آیا۔ دوسری جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) ہے جسکا مخصوص اسٹیک یہاں موجود ہے۔ اور تیسری قوت وہ ریوڑ ہے جسے حبیب نالے کے پَرے سے ہمیشہ ہانکا جاتا ہے۔ 

2018 کے سلیکشن میں نیشنل پارٹی کو مکران میں کوئی نشست نہیں دی گئی، پارٹی کا اپنا کانفیڈنس بھی الیکشن سے قبل خاصا ڈاؤن تھا، اس لئے انہوں نے میدان کسی طور خالی چھوڑ دیا تھا مگر بی این پی مینگل نے یہاں کافی زور آزمائی کی اور گوادر کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ دشت میں بھی بالمقابل باپ کو ٹف ٹائم دیا۔ تاہم مکران ریجن کی اکثریت باپ کو سونپ دی گئی۔ تربت کے سیّد اور پنجگور کے رہشون نے اپنے ڈھائی نشستوں کیساتھ باپ کی حکومت کو اپنا لیا۔ البتہ بی این پی گوادر حکومت میں تھی یا اپوزیشن میں یہ معمہ پانچ سالوں تک حل نہ ہوسکا۔ 

اب چونکہ دوبارہ مملکت میں عام انتخابات کی رونقیں بحال ہوچکی ہیں تو جائزہ لیتے ہیں مکران میں سرگرم جماعتوں کی پوزیشنز کا کہ کس نے کیا پایا اور کیا کھویا، آگے کے کیا امکانات بن سکتے ہیں۔

بی این پی مینگل جو مکران کے اندر سابقہ دور میں اچھا خاصا اسپیس حاصل کرچکی تھی اس نے آئندہ الیکشن سے قبل تقریباً وہ پوزیشن گنوا دیا ہے۔ مکران میں انکے مضبوط پِلر واجہ جان محمد دشتی مانے جاتے تھے، جنہوں نے رواں سال پارٹی کو خیرباد کہہ کر اپنی الگ نیم جماعت بنا لی ہے۔ جبکہ کیچ کے دو دیگر حلقوں میں پارٹی کے دو سابقہ کنڈیڈیٹ میر حمل بلوچ اور میر انور بلیدئی نے بھی جماعت کو خدا حافظ کردیا ہے۔ البتہ تربت شہر کے سابقہ نمائندہ سید احسان شاہ مینگل کے کارواں میں شامل ہوچکے ہیں۔ 

مینگل کے بکھرنے کی ایک خاص وجہ سید احسان شاہ کی پارٹی میں انٹری کو خیال کیا جارہا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق مکران میں پارٹی کے اندر پہلی دراڑ اس وقت پڑ گئی جب سید احسان شاہ کی بیگم کو راتوں رات بی این پی نے سنیٹر بنا دیا جس سے جان محمد دشتی نالاں ہوگئے۔ شاہ صاحب کو مینگل صاحب کی ہی تجویز پر وزیر بنایا گیا مگر مکران میں وہ پارٹی کو مراعات میں حصہ دار بنانے سے گریزاں رہے جس سے مزید بےچینی بڑھتی گئی۔ علاوہ ازیں سردار اختر جان مینگل گزشتہ طویل عرصے سے مکران کا دورہ کرنے کا وعدہ کرچکے تھے مگر وہ اپنا وزٹ ٹالتے رہے جس سے کارکنان و لیڈران کی اعتماد کو ٹھیس پہنچا۔ اب یہ بتایا جارہا ہے کہ کیچ میں پارٹی کمان مکمل طور پر سید احسان شاہ کے سپرد کی گئی ہے جس سے ایک اور بڑی دراڑ پھوٹ چکی ہے۔ 

سید احسان شاہ نے بی این پی سے سنیٹ حاصل کرنے کے بعد تربت سٹی کا ٹکٹ اپنے نام کرلیا ہے، مگر انہوں نے ناصرآباد تا تمپ کی نشست پر بھی ٹکٹ اپنے سپرد رکھا ہے جس سے پارٹی کے دیرنہ رہنماء میر حمل بلوچ پارٹی سے دلبرداشتہ ہوچکے ہیں اور انہوں نے جماعت کو تقریباً چھوڑ دیا ہے۔ 

اس دوران نیشنل پارٹی میدان کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ حلقہ تمپ سے میر حمل اور حلقہ بلیدہ زامران سے میر انور بلیدئی نیشنل پارٹی کی طرف رجوع کرچکے ہیں جوکہ دونوں شخصیات اپنے اپنے حلقوں میں نیشنل پارٹی کیلئے مضبوط ترین امیدوار تصور کیئے جارہے ہیں۔ دشت و مند کے حلقے سے لالا رشید دشتی اور میر نیاز کیازئی بھی نیشنل پارٹی میں شامل ہورہے ہیں جس سے اس حلقے میں پارٹی کی پوزیشن کو مضبوط ہوچکی ہے۔ ان شخصیات کے شمولیت کی تاریخ 12 دسمبر رکھ دی گئی ہے، پارٹی کے کارکنان بڑے متحرک اور پُرجوش نظر آرہے ہیں۔ 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ گوادر کا وزٹ بھی کرچکے ہیں جہاں انکی ملاقات سید میار جان نوری سے ہوئی ہے، خیال کیا جارہا ہے کہ نوری پینل بھی نیشنل پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ پنجگور کی دو نشستوں میں سے ایک پر نیشنل پارٹی کی پوزیشن بھاری نظر آتی ہے تاہم دوسری نشست پر میر اسداللّٰہ مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔

مکران کی دو قومی اسمبلی کی نشستوں پر نیشنل پارٹی مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آچکی ہے۔ قومی نشستوں پر انکی متوقع اتحادی حق دو تحریک بن سکتی ہے۔ جبکہ بی این پی مینگل قومی اسمبلی کی نشستوں پر پیپلزپارٹی کیساتھ اتحاد قائم کرنے کی طرف جاسکتی ہے۔ حال ہی میں سید احسان شاہ نے میر امام بزنجو، میر عبدالرسول اور میر اصغر رند سے ملاقات کرکے انتخابی الائنس بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ 

انتخابات کیسے ہونگے اور نتائج کیا نکلیں گے یہ بتانا قبل از وقت ہے تاہم اس تمام تر صورتحال کے اندر نیشنل پارٹی مکران میں تنظیمی حوالے سے اپنی جماعت کو زیادہ مضبوط کرچکی ہے اور اسکے اثرات عام انتخابات پر بھی پڑینگے، اور آئیندہ ریجن کی سیاست پر بھی اثرانداز ہونگے۔ 

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین