بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومتجزیہمزاحمت کی علامت: بلوچ عورت

مزاحمت کی علامت: بلوچ عورت

تحریر: پروین ناز، راجی

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ جنگیں صرف فوجوں اور بہادر مردوں نے لڑی تھیں، جب کہ عورتیں اور بچے اپنے گھروں کے اندر بزدل بن کر بند رہے تھے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عورتوں نے بھی ہر ممکن جنگی حالتوں کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اپنے تخلیقات سے بھی جنگجووں کی حوصلہ افزائی کرکے اُن کی ہمت بڑھائی۔ تاریخ میں ہمارے پاس ایسی کئی ساری خواتین کی تعداد موجود ہے جنہوں نے اپنے اپنے طریقے سے اپنے ملک و قوم کی خدمت کی اور آزادی کے حصول کے لیے قربانیاں دیں۔ سیمون سیگئون، لیلی خالد، بانڑی جیسی کہیں ساری مثالیں ہر قوم میں ملتی ہیں۔  

جس طرح ہم حال میں 2022ء میں یوکرین اور 2023ء میں فلسطین کی بہادر خواتین کو اپنے ملک میں ساتھ مل کر لڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اسی طرح بلوچستان کے وسیع و عریض علاقے میں بھی ناہموار مناظر میں جدوجہد کی بازگشت گونجتی ہوئی کہیں سالوں سے دکھائی دے رہی ہے۔ کئی سالوں سے چلنے والے بلوچ تحریک نے ایک نیا موڑ لے لیا۔ یہ موڑ فرزانہ مجید کے 2013ء میں کئے گئے لانگ مارچ، کریمہ بلوچ کی جدو جہد سے شروع ہو کر آج ہزاروں بلوچ خواتین کی شراکت پر محترک ہے۔ یہ بلوچ خواتین ہی ہیں جو گمنام ہیروئنوں کے طور پر ابھرتی ہیں، جو کہ جاری انسانی بحران کے پس منظر میں مزاحمت کا چہرہ ہیں۔

بلوچ قوم پرست سیاست نے کئی دہائیوں سے اپنے لوگوں کو مختلف سرگرمیوں کے ذریعے حقوق کے تحفظ کے لیے محترک کر رکھا ہے، بالاچ بلوچ کی شہادت نے اس تحریک میں مزید جان ڈال دی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ سایہ بالاچ بلوچ اور دیگر تین زیرِ حراست نوجوانوں کے شہادت پر 23 نومبر 2023ء میں تربت شہر سے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ چودہ روز کے مکمل احتجاج کے بعد چھ دسمبر 2023ء کو احتجاجی دھرنا ایک لانگ مارچ کی صورت اختیار کر گیا جسکی قیادت ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، سمّی دین محمد بلوچ، سیما بلوچ اور کئی خواتین نے مل کر کی۔ یہ مارچ بلوچستان کے مختلف پہاڑی علاقوں سے گزر کر چھ دن بعدگیارہ دسمبر کوکوئٹہ داخل ہوا جہاں اس کی قیادت میں اہم کردار ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ادا کیا۔ ان کے والد غفار لانگو کو پہلے 2006ء میں جبراً لاپتہ کر کے کچھ عرصے بعد چھوڑ دیا مگر 2009ء میں انہیں پھر سے لاپتہ کر کے 2011ء میں ان کی لاش مسخ شدہ حالت میں قوم کو سونپا گیا۔ پنچگور سے بسیمہ، گریشہ، نال، خضدار، سوراب، قلات، منگچر ہر جگہ اس لانگ مارچ پر تشدانہ حملے اس کی وسعت کو اور بڑھاتے گئے۔ ہر شہر سے مرد اور عورتوں نے جوک در جوک اس میں شمولیت اختیار کی۔ ریاست کے منفی رویے کی وجہ سے یہ مارچ بلوچستان کے مرکزی ڈسٹرکٹ کوئٹہ میں رکھنے کے بجائے پاکستان کے مرکزی شہر اسلام آباد کی طرف رواں ہونے کو نکلا۔ 

بلوچ خواتین جو ہمیشہ سے اپنے ثقافت کی نگہبان رہی ہیں، وہ اپنی دستکاریوں اور دوچ کے متحرک رنگوں سے اپنے روایات میں جان ڈالتی ہیں۔ آج کی دنیا میں جہاں خواتین اپنے حقوق اور صنفی مساوات کے لیے تحریکوں کی قیادت کرتے ہوئے انہیں زندہ کیئے ہوئے ہیں، وہیں بلوچ خواتین ایک الگ داستان رقم کرتی ہیں، وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے مردوں کے حقوق کے لیے بھی آگے بڑھ رہی ہیں۔ ان کی آوازیں یک آواز ہو کر اپنے لاپتہ بھائیوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کررہی ہیں۔ 

لیکن چونکہ ایک خوفزدہ ریاست اپنے عوام کے حقوق پر قابض ہو کر خود اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وہاں آئین کا نفاذ عمل کسی صورت بھی ممکن نہیں بلکہ آئین صرف ایک مسودہ ہے جسے ریاست کو دنیا کے نقشے پر نمودار کرنے کے لیے بنایا گیا۔ انسانی حقوق کے عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر ان کے بنائے گئے قوانین کو تسلیم کرنا ہمارے ریاست کی ضرورت میں آتا ہے نہ کہ وہاں رہنے والے انسانوں کو ان کے حقوق سے آشناس کرانے کے لیے۔ اس بات کی واضح مثال بلوچ قوم کی نسل کشی کے خلاف چلنے والے پُرزور اور پُرامن تحریک پر پابندی عائد کرنے کے لیے ریاست کی جانب سے مختلف تشددانہ طریقے استعمال کرنے سے پتہ چلتا ہے۔ چھبیس روز سے چلنے والے احتجاج اور دھرنے نے لانگ مارچ کی جانب گامزن ہو کر اپنے پیاروں کی بازیابی، ماورائے عدالت قتل اور دفاع کا حق مانگنے کا مطالبہ کیاہے، جو کہ ہر فرد کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ پچھلے دو دنوں سے ڈیرہ غازی خان میں پنجاب پولیس کی طرف سے تشدد آمیز عمل قابلِ مزمت ہے۔ یہ تشدد صرف پنجاب پولیس کی طرف سے نہیں کیا گیا بلکہ جس دن سے اس احتجاج نے لانگ مارچ کی جانب اپنے قدم بڑھائے ہر قدم پر انہیں روکنے کی کوشش کی گئی ہے جو خود ریاست کی کمزوری کا احساس دلاتا ہے۔

بلوچ قوم نے ہرگام اپنی بقاء کے لئے جدو جہد کی۔ 27 اکتوبر 2013ء میں دنیا کا طویل ترین لانگ مارچ کوئٹہ سے کراچی براستہ سندھ پنجاب سے اسلام آباد کی طرف کیا گیا، جس کا مقصد بھی لاپتہ افراد کی بازیابی تھی۔ اس مارچ کی قیادت بلوچ نوجوان لیڈر بی ایس او کے سینئر وائس چیئرمین ذاکر مجید جنہیں 8 جون سنہ دو ہزار نو (2009ء) میں لاپتہ کر دیا گیا جن کا تاحال کچھ پتہ نہ چلا، ان کی بہن فرزانہ مجید، وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز کے روحِ رواں سینئر رہنما ماماقدیر، جن کے بیٹے جلیل ریکی کو لاپتہ کر کے شہید دیا گیا، نے کیا۔ اس مارچ میں سمّی دین محمد بلوچ، ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی جو اس وقت صرف چودہ سال کی تھی، ان کے والد کو اورناچ ہسپتال سے 2009ء کو اٹھایا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں، بھی شامل تھیں اور آج اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک اور لانگ مارچ کی قیادت میں اپنا حصہ ڈال کر بلوچستان بھر کے عوام بالخصوص خواتین کو مشتعل کیا کہ وہ اپنے اور اپنے پیاروں کے حقوق کے لیے ہم آواز ہوں۔ ریاست نے اُس وقت بھی کہیں ستم کر کے ایک پُر امن لانگ مارچ کو آگے بڑھنے سے اِسی طرح روکا جس طرح آج بلوچ نسل کشی کے خلاف ہونے والے لانگ مارچ کو روکا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر شہری کے حقوق برابر ہیں مگر یہاں کچھ شہریوں کو ہی اپنی بات کرنے، حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھنے سے روکا جا رہا ہے۔ اِن ریاستی ہتھکنڈوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ‘اسلام آباد’ کو کچھ ‘خاص’ لوگوں کے لیے ملک کا دارالحکومت بنایا گیا ہے وگرنہ وہاں جانے سے کسی بھی فرد کو روکنے کے لیے انہیں گرفتار کر کے قیدو بند میں نہیں رکھا جاتا۔ یہ ریاستی عمل سراسر انسانوں کے جمہوری و آئینی حقوق کی پامالی کرتاہے۔ 

مگر بلوچ خواتین لمبی اور مشکل سڑکوں سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہیں، ان کے قدم تاریخ کی بازگشت سے گونج رہی ہیں، ان کا یہ عمل اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے کہ بلوچستان اور بلوچ قوم کی طاقت اس کی خواتین کی ہمت و لچک میں مضمر ہے۔ بلوچستان کی بلوچ خواتین نے سیاسی سرگرمیوں میں تاریخی طور پر ایک اہم کردار ادا کیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ سابقہ بدامنی کے مقابلے موجودہ احتجاج میں زیادہ نمایاں ہیں۔ وسیع و عریض وسعتوں کے درمیان، یہ بلوچ خواتین ہی ہیں جو بغاوت کے کینوس کو پینٹ کرتی، نعرے لگاتی، دیواروں کو روشن رنگوں سے چھڑک کر یہ اعلان کررہی ہیں، "مزاحمت زندہ ہے کیونکہ مزاحمت ہی زندگی ہے”۔

مزاحمت کی اس داستان میں ایک طاقتور، ابھرتی مزاحمت کی علامت کریمہ بلوچ کو تو افسوسناک طور پر خاموش کر دیا گیا تھا۔ لیکن آج وہ ایک کریمہ ہزاروں میں بڑھ چکا ہے۔ بلوچ خواتین ایک پائیدار جدوجہد کا چہرہ بن چکی ہیں، جو ایک قوم کے غیر متزلزل جذبے کا ثبوت ہے۔ ان کا یہ لانگ مارچ صرف ایک جسمانی سفر نہیں ہے بلکہ ایک علامتی سفر ہے، جو خاموشی سے وکالت، مایوسی سے امید تک اور تنہائی سے لاپتہ افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والی اجتماعی آواز تک کا راستہ طے کرتا ہے۔

بلوچستان میں 2002ء سے شروع ہونے والا جبراً گمشدگی کا سلسلہ 2010ء میں مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں نظر آیا، یہی سلسلہ اب سی ٹی ڈی کے نام پر زیرِ حراست نوجوانوں کو "مارو اور پھینکو” کی مجموعی حکمتِ عملی میں تبدیلی کیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی تشدد کا ردعمل انقلاب کی صورت میں ہی سامنے آیا ہے۔ بلوچ نسل کشی کے خلاف اٹھنے والا یہ تحریک بھی اسی بے انتہا تشدد کا ردعمل ہے۔ یہ تحریک صرف بالاچ بلوچ کے لیے انصاف مانگنے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ہر اس ماں کے لال کو محفوظ کرنے کی بات کرتا ہے جو یہاں غیر محفوظ ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین