اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومتجزیہشہید عبدالرؤف کا بہیمانہ قتل، ہماری قومی زمہ داری

شہید عبدالرؤف کا بہیمانہ قتل، ہماری قومی زمہ داری

تحریر: چیرمین واحد رحیم

معصوم و نہتے عبدالرؤف کے قتل کے حوالے سے نام نہاد علماء کا بیانیہ خالصتاً اقبال جرم ہے، ایسے حالات پیدا کرکے طالب کے قتل کا مرتکب ہونے میں جو سازش و منصوبہ بندی کی گئ تھی کلیتاً اور کھلم کھلا اعتراف بھی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورتحال میں ہمیں کس طرح کی حکمت عملی اختیار کرنا چاہیئے؟

یقینی طور پر اس میں دو رائے نہیں ہوسکتے کہ بلوچستان خاص کر مکران میں مذہبی جنونیت کی از سر نو پیوندکاری کرکے یہاں کے تہذیب تمدن، سماجی ثقافتی اقدار اور صدیوں سے قائم بلوچ کوڈ کو ملیا میٹ کرکے بدنما داغ مَل کر قومی و معاشرتی چہرے کو مسخ کرنا مقصود ہے۔ مگر اس موقع پر ہمیں اشتعال پیدا کرنے، منافرت پھیلانے اور معاشرتی انتشار و تصادم کی کشیدہ صورتحال کے متقاضی حربوں کا شکار ہوئے بغیر عقل و حکمت سے کام لیکر آگے بڑھنا ہوگا۔ اس مسئلے کو علاقائی، لسانی یا قوم پرستانہ زاویہ نظر سے دیکھنے اور ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے تاریخی پس منظر اور وسیع تناظر میں اس کا تجزیہ کرکے اس کی روک تھام کے لیے عملی اقدام اٹھانے ہونگے۔
یہاں صرف قوم پرست پارٹیوں یا دیگر چیدہ حلقوں کو مورد الزام ٹہرانے سے ہم قابل عمل و قابل قبول بیانیہ قائم نہیں کر پائینگے اور نہ ہی یہ محض قوم پرستوں کا مسئلہ ہے بلکہ مذہبی جنونیت کا بیج جنرل ضیاء کے دور میں بویا گیا، منشیات و اسلحہ عام کیا گیا اور آج ایک مرتبہ پھر انہی گھناؤنی حربوں کو استعمال کرکے بلوچستان میں انتشار و خلفشار پیدا کرکے اپنے عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں۔

پورے بلوچستان میں اگر جائزہ لیا جائے تو کہیں شیعہ سنی کے نام پر قتل، کہیں عیسائی و ہندوؤں کو جبری مذہب تبدیل کرانے جیسے اقدامات، کہیں عورتوں و بچیوں پر تیزاب چھڑکنے کی وارداتیں، تو کسی جگہ مافیاز کے ہاتھوں غریب ناتواں لوگوں کے زمینوں کو ہڑپ کر انھیں قتل کرنے جیسے معاملات آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں اور تمام سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں۔ ایسے جبر و سفاکیت کے خلاف کہیں بھی نام نہاد علماء کا مناسب ردعمل دیکھنے کو نہیں ملتا بلکہ ایسے رجحانات کو پروان چڑھانے میں دین و مذہب کے ٹھیکہ داروں کا عمل دخل واضح دکھائی دیتا ہے۔

لہٰذا ایسے حالات میں ہم سیاسی کارکنوں کو معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیکر جن میں (بلا تفریق) سیاسی جماعتوں, طلباء تنظیموں، علمی و ادبی اور ثقافتی حلقوں، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے انجمن و ایسوسی ایشنز، صحافی، دانشور، اساتزہ کرام، خواتین، سول سوسائٹی میں شامل سنجیدہ زی شعور اور باعمل لوگوں کو شامل کرکے ڈائیلاگ شروع کرانا ہوگا۔ ایسے رجحانات کی بیخ کنی کرنے کی خاطر سطحی نعرہ بازی ، وقتی ردعمل اور خاص کر معاشرتی تصادم سے اجتناب ہی اجتماعی، قومی و معاشرتی مفادات ، قومی سماجی اقدار ، تہذیب اور روایات کے لئے سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہمیں مذہبی جنونیت ، تشدد قتل و غارتگری اور نام نہاد مذہبی ٹھیکہ داروں کی جانب سے دھمکی آمیز بیانیہ کے سامنے سر خم تسلیم کرنا یا خاموشی اختیار کرنا ہے بلکہ استقامت و تدبیر کے ساتھ ان تخریبی عناصر سے گلو خلاصی کی حکمت عملی اختیار کرنا چاہیئے جو بلوچستان کے معاشرتی اقدار و روایات جہاں امن، برداشت ، رواداری اور ایک دوسرے کے عقائد و مذہبی رسومات کا احترام شامل ہیں کو شرپسند و شدت پرستوں سے محفوظ قائم رکھنے میں کامیابی سے ہم کنار ہوسکے۔

شہید عبدالرؤف کو انصاف فراہم کرنے اور اس کے قتل میں ملوث تمام کرداروں ،سہولت کاروں اور الزام لگانے والے چہیتوں کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دینے کی خاطر ہر سطح اور ہر فورم کو استعمال میں لانے کی ضرورت ہوگی۔ چاہے عدالت کے دروازے پر دستک دینا پڑے یا انتظامیہ کی معنی خیز خاموشی پر سوال اٹھانا پڑے ہر محاز پر لڑنا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلانے کے ساتھ ٹویٹر اسپیس پروگرام کے ذریعے بلوچستان بلکہ ملک بھر کے روشن خیال ، ترقی پسند صحافیوں، انسانی حقوق کے زمہ داروں اور سیاسی لیڈر شپ و دانشوروں کو شامل کرکے اس بہیمانہ قتل سمیت ایسے تمام عوام کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ریاستی قوانین ، عدالتی نظام اور انتظامیہ کی بے حسی کو زیر بحث لانا ہوگا تاکہ تخریبی عناصر کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین