بدھ, مئی 29, 2024
spot_img
ہومبلاگشاہوکار گل محمد

شاہوکار گل محمد

تحریر: قادر بخش بلوچ

سازندوں نے آستین چھڑائے ہیں، سروز و رباب کے کاریگر اشاروں کے منتظر ہیں کہ انہیں کب اور کس وقت کس ساز بجانے کے اشارے ملیں اور دو چاپی کے شیدائی کمر کس کر بیھٹے ہیں۔

یاد رہے کہ دوچاپی میں کیچی ہمیشہ کمر کس کر چادر کمر پر باندھ کر خوب جھولتے ہیں لیکن اس سارے دلفریب منظر کا دارومدار سازندوں کی مرہون منت ہوتی ہے کہ وہ لے کو کس درجہ جہل و برز کرتے ہیں۔
ستر کی دہائی تک اہل کیچ ہمیشہ لیوا اور دوچاپی پر مرغ بسمل کی مانند رقصاں ہوتے تھے لیکن زمانہ بدل گیا سازندے ناپید ہوگئے، مگر قدرت ہمیشہ اپنے بندوں پر مہربان ہوتی ہے۔ اب ہر پانچ سال یا کہیں وقفے وقفے سے بلوچستان میں رقص و سرور کی محفلیں جمتی ہیں جنہیں عرفِ عام میں الکشن کہا جاتا ہے۔

گوکہ یہ صرف نام کی حد تک ہیں لیکن پھر بھی جھولنے اور جھومنے کا اچھا خاصا انتظام ہوتا ہے۔ بلوچستان خاص کر کیچ میں رقاصوں کو نہ ان کے من پسند سازوں پر رقص کرنے کی اجازت ہے اور نا وہ وقت و پاس کے مطابق جھوم سکتے ہیں۔ مثلاً، کیچ میں لیوا ہمیشہ بازی ختم ہونے کے یعنی شب کے آخری پاس میں ہوتا تھا اور اہلِ کیچ اتنا جھومتے تھے کہ صبح "روچء مہر” تک سوتے پڑے رہتے تھے۔ بلکل اسی طرح شاعری میں بھی وقت و پاس کا بڑا دخل ہوتا تھا۔ پہلوان رمی ہمیشہ "سر شپ” میں "سلطان جم جم” اور بی بی زیتون کی داستان بڑی خوش الحانی سے سناتا تھا لیکن "چارمی پاس” میں مہنو مہناز اور شہداد کی زھیرونک کو اتنی غمزدہ اور غمگین و پُرسوز انداز دیتا تھا کہ وقت بھی رک جاتا تھا اور مجلس میں سناٹا چھا جاتا تھا۔

اسی طرح پہلوان مزو جنہیں نئی نسل مزار ابراہیم کے نام سے جانتی ہے رمی کے بعد کیچ کا عظیم پہلوان گزرا ہے۔ مزو "زھیرونک” کو زھیرگ بولتا تھا، یہ غضب کے پہلوان تھے۔ یہ رمی کے نقش قدم پر چلتے تھے۔ مزو ھانی کو ھانو کہتے تھے۔

مشہور ہے کہ مزو ھانو اور شے کو "چارمی پاس” میں ایسا دلسوز رنگ دیتے تھے اور زھیرگ کو اتنی پُرسوز الحان دیتے تھے کہ مجلس میں موجود شائقین اپنی دیدۂ پرنم کو چادروں میں چھپا کر "چاکر ابن شیہک” کو بد دعائیں دیتے تھے۔

بلکل اسی طرح الکشن کے منتظر رقاصائیں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت سے گزرتی ہیں کہ کب سروزی سروز کے تاروں کو چھیڑے تاکہ جھومنے اور جھولنے والوں کی مرادیں بھر آئیں۔

بلوچستان خاص کر کیچ میں ڈاکٹر مالک بلوچ نے جتنے عوامی بھلائی کے کام کیئے اس سے کوئی انکاری نہیں ہوسکتا لیکن اگر کوئی نہیں مانتا تو کیا فرق پڑتا ہے۔ دنیا کے عظیم انسان اور تاریخ کے رخ موڑنے والوں میں لنکن، ڈیگال، اور بن گوریان کو ان کی زندگی میں کون مانتا تھا لیکن ان کے جانے کے بعد تاریخ نے انکے لئے پلکیں بچھائیں۔

ڈاکٹر مالک نے اہل بلوچستان کے لئے جو کچھ کیا ہے وہ تاریخ کے قلب میں جگہ پائے گا۔ آج سے ٹھیک پچاس برس بعد مکران میڈیکل کالج کے جو پچاس برس بعد کیا سے کیا بنے گا کے سامنے ڈاکٹر مالک بلوچ کا مومی مجسمہ نصب ہوگا اور اس وقت کے طب کے طالب علم مالکی مجسمے کو سلام کرکے گزر جایا کریں گے۔

یہاں الکشن ہمیشہ شاہوکاروں کے ذریعے ہوتے ہیں کوئی جیت جاتا ہے تو کوئی ہار جاتا ہے لیکن شاہوکار گل محمد کو ہار جیت سے کیا غرض وہ تو الکشن سے ایک ماہ قبل اربوں لیتا ہے اور الیکشن سے عشرہ قبل پوری رقم وصول کرتا ہے۔ اور "آڈینگہ” کے دن اپنی مچھلیوں کا دونوں فریقوں سے بھاری قیمت وصول کرکے مچھلیوں کو اختیار دیتا ہے کہ جس تالاب میں چاہیں کھود جائیں، بیوپاری ہو تو شاہوکار گل محمد جیسا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین