بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومپاکستانشال: ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائیر ایجوکیشن بلوچستان کی نااہلی کے سبب...

شال: ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائیر ایجوکیشن بلوچستان کی نااہلی کے سبب طلباء کے داخلے تاخیر کا شکار ہیں، مسئلے کا حل نکالا جائے۔ بی ایس سی پنجاب

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے سربراہان نے کوائٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائیر ایجوکیشن بلوچستان کی طرف سے ہر سال بلوچستان کے طلباء کو ملک کے دوسرے صوبوں کے جامعات میں مختص نشستوں پر داخلہ دیا جاتا ہے مگر ہر سال ان داخلوں کے ساتھ ایک مسئلہ ضرور پیش آتا ہے۔ کبھی سیٹوں میں کمی واقع ہونا، کبھی طلباء سے فیس طلب کرنا، کبھی اقرباء پروری کے تحت میرٹ کی پامالی کرنا شامل ہیں۔ روان سال داخلوں کے میرٹ لسٹس آویزان کرنے میں بلاوجہ طویل تاخیر کی وجہ سے ایک مسئلہ درپیش آیا ہے کہ جامعات طلباء کو داخلہ دینے سے انکاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن بلوچستان کی طرف سے رواں سال کے داخلوں کے لیے ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا مگر یہاں بھی ادارہ ہذا نے سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نامزدگان کی لسٹ مقررہ وقت سے طویل تاخیر کے بعد جاری کردی۔ ڈائریکٹوریٹ کی اس غیرسنجیدگی کے مظاہرے کے بعد بلوچ اسٹوڈنس کونسل پنجاب نے اسی وقت داخلوں میں ممکنہ درپیش آنے والے مسائل کے بارے میں خدشے کا اظہار کیا تھا اور اسٹوڈنٹس کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں ڈائریکٹوریٹ کو اس تاخیر کی اثنا میں مستقبل قریب میں پیدا ہونے والے مسائل سے آشنا کیا اور واضح بتایا گیا کہ طلباء اگر داخلوں میں کسی قسم کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں تو ان کا ذمہ دار ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن بلوچستان کو ٹھرایا جائے گا۔ نیز، پنجاب بھر کی متعلقہ یونیورسٹویوں کی طرف سے ڈرافٹ بھی ارسال کئے گئے مگر ڈائریکٹوریٹ آف بلوچستان اپنے روئیوں میں بہتری لانے میں قاصر رہی ۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ طلباء کی طرف سے مختلف پلیٹ فارم پر احتجاج کے بعد ڈائریکٹریٹ آف بلوچستان لسٹ کا اجرا کرتی ہے مگر طویل تاخیر کے بعد جاری کی گئی لسٹ کی وجہ سے وہی مسائل درپیش آتے ہیں جن کا پہلے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ڈائریکٹوریٹ آف بلوچستان کی طرف سے اتنی تاخیر کی گئی کہ پنجاب بھر کے یونیورسٹیوں میں جاری سال کے داخلہ سیشن ختم ہوچکے ہیں اور مڈ ٹرم کے امتحانات بھی ہورہے ہیں۔ اسی اثناء میں متعلقہ یونیورسٹی ہم بلوچستان کے طلباء کو داخلہ دینے سے صاف انکاری ہیں۔ جب ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی اور درخواست کیا کہ جامعات کے ساتھ رابطہ کرکے اس مسئلے کا حل نکالے تاکہ طلباء کی مستقبل پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہونے پائیں مگر ہر بار کی طرح ہمیں اور ہمارے حقیقی مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے تمام کاشوں کے باجود کچھ حاصل نہیں ہوا، یونیورسٹیاں اپنے پالیسی پر قائم اور ڈائریکٹوریٹ آف کالجز اینڈ ہائرایجوکیشن بھی خوابِ خرگوش میں مبتلا ہے۔ لہٰذا مجبوراً ہمیں اس پریس کانفرنس کی صورت میں سامنے آنا پڑا اگر اس سے ہمیں کچھ ماخوذ نہیں ہوتا تو ہم آئندہ احتجاج کی شکل میں عمل میں آئیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس پنجاب ڈائریکٹوریٹ آف بلوچستان کے مستقل روئیوں میں تبدیل کی ڈیمانڈ کرتی ہے جیسا کہ ہر سال میرٹ کی پامالی، نومینشن لیٹرز جاری کرنے میں دیری اور طلباء سے روا رکھنے والی سلوک شامل ہیں جن میں بہتری کی اشد ضرورت ہے اور حالیہ سال نامزدگاں طلباء جنکو داخلہ نہیں مل رہی انکا داخلہ یقینی بنایا جائے۔ دیگر صورت بی ایس سی پنجاب اس کے خلاف ہر فورم پر مزاحمت کرے گی۔ جیسا کہ ہم نے بروز پیر 13 نومبر کو ایک احتجاج ریکارڈ کرنے کا کال دیا تھا فی الوقت ہم اس احتجاج کو ایک دن کے لئے ملتوی کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس پریس کانفرنس کو نظر انداز کرنے کی بجائے اس پر ڈائریکٹوریٹ آف بلوچستان اور سیکریٹری کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن بلوچستان عمل درآمد ہو کر طلباء کے اس سنگین مسئلے کو حل کریں گے۔ سیکریٹری کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن بلوچستان بھی اس معاملے میں غیر سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں، ہم اُن سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد طلباء کے تمام مسئلے حل کر کے، طلباء کی داخلہ کو یقینی بنایا جائے۔ بصورت ماضی کی طرح ہمیں نظر انداز کیا گیا تو ہم اپنے ملتوی شدہ احتجاج کا کال اگلے روز دیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ بلوچ نوجوانوں کو اپنی زمین پر تعلیم سے محروم رکھنے کے بعد ریاست کی جانب سے ملک بھر کے دیگر تعلیمی اداروں میں ریاستی تعلیم دشمن ہتکنھڈے بلوچ طلباء کو شعور اور آگاہی سے دور رکھنے کے لئے مختلف حربے بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ اور سیکریٹری آف کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن آف بلوچستان کا یہ روئیہ اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ یہ تمام سازشیں بلوچ قوم کو محکوم رکھنے کے لئے رچائے جا رہی ہیں۔ لہٰذا ہر بلوچ فرد و اداروں پر واجب ٹھرتا ہے کہ ان مسائل کی نوعیت کو سمجھ کر ہر پلیٹ فارم پر انکے خلاف آواز اٹھائیں۔ انہی تعلیم دشمن ہتکھنڈوں کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب اپنے قوم کے ہر طبقات، طلباء تنظیمیں اور مکتبہِ سے تعلق رکھنے والے حضرات سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ادارہِ ہذا کی طرف اٹھائے اقدامات میں کردار ادا کریں اور ہمارا ساتھ دیں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین