پیر, جون 24, 2024
spot_img
ہومبلوچستاندالبندین: سونا اُگلتے چاغی کے تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگار، ریکوڈک، سیندک اور...

دالبندین: سونا اُگلتے چاغی کے تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگار، ریکوڈک، سیندک اور انڈس ہسپتال میں بھی غیر مقامی افراد کو بھرتی کیا جارہا ہے۔ نوجوانوں کی پریس کانفرنس

ضلع چاغی کے بے روزگار نوجوانوں آغا وسیم شاہ نعمت بلوچ، کامریڈ قادر بلوچ، ارسلان حمید، طارق شاہ، کلیم اللہ عبد الوہاب، شفقت ناز، اسد اللہ حسنی، عارف بلوچ، معاویہ بلوچ، طاہر بلوچ، عبد المالک، عبداللہ ضیاء الرحمان اور دیگر نے دالبندین پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چاغی ایک سونا اگلتی زمین ہے یہاں اس وقت دو بڑے پراجیکٹ سائندک اور ریکوڈک کی شکل میں موجود ہیں۔ مگر ریکوڈک میں مقامی نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا اور میرٹ کی پامالی کی جارہی ہے۔

ریکوڈک پروجیکٹ میں اس وقت باقاعدہ کام کا آغاز ہوچکا ہے جس کے لیے پروجیکٹ میں لوگوں کی تعیناتی کا عمل جاری ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ پروجیکٹ مینجمنٹ علاقائی تعلیم یافتہ اور متعلقہ شعبوں میں ڈگریاں رکھنے والے نوجوانوں کو یکسر نظر انداز کر کے غیر مقامی افراد کو ترجیح دے رہی ہے جو کمپنی کی ابتدائی اعلانات پہ سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا اس وقت پورا بلوچستان، بشمول چاغی، غربت اور بے روزگاری کی بلند ترین سطح پر ہے۔ لوگ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ سیندک اور ریکوڈک پروجیکٹ کے علاوہ باقی اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ چاغی کے تعلیم یافتہ اور مایوس نوجوان اس خام خیالی میں تھے ان کیلئے ریکوڈک میگا پروجیکٹ کی طرف سے روزگار کے دروازے کھولیں گے۔ مگر بار بار مختلف آسامیوں کے لیے درخواست جمع کرنے کے باوجود چاغی کے مقامی تعلیم یافتہ اور اہل امیدواروں کو شارٹ لسٹ تک نہیں کیا جارہا ان کی جگہ غیرمقامی افراد کو بغیر ٹیسٹ اور انٹرویو کے تعینات کیا جارہا ہے۔ پروجیکٹ میں دھڑا دھڑ غیر مقامی افراد کی تعیناتی کا عمل جاری ہے جو کہ مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ کسی بھی کپمنی کا کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی(CSR) یہ ہوتی ہے جس میں مقامی افراد کو ہر حوالے سے ترجیح دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے سٹیزن شپ ایکٹ (Son of soil)کے تحت، جس علاقے سے بھی وسائل جس بھی کمپنی کے ذریعے نکالی جاتی ہیں، وہاں کے مقامی لوگوں کو ملازمتوں اور ترقیاتی کاموں میں ترجیح دی جانی چاہیئے لیکن ریکوڈک پروجیکٹ کی منیجمنٹ اس قانون کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اس کا واضح ثبوت گزشتہ دنوں نوکنڈی میں پروجیکٹ کی طرف سے بنائی جانے والی انڈس ہسپتال میں فارمیسسٹ کی آسامیاں آئی تھی جس کے لیے چاغی کے فارمیسی ڈگری ہولڈرز اور کوالیفائیڈ امیدواروں نے اپلائی کیا تھا مگر بد بختی یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ شارٹ لسٹ کیا گیا اور نہ ہی کسی کو ٹیسٹ اور انٹرویو کے لیے بلایا گیا چند سفارشی اور غیر مقامی افراد کو فون کال کر کے انکو یہ پوزیشن دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر شعبوں میں اسی طرح چاغی کے مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے اور غیر مقامی افراد کو مقامی افراد کے بنسبت ترجیح دینا چاغی کے لوکل نوجوانوں کے ساتھ دھوکا ہے۔ ہم اسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم انڈس ہسپتال میں فارمیسسٹ اور دیگر پوزیشن پر غیر قانونی بھرتی کی مذمت کرتے ہیں اور منتخب نمائندوں متعلقہ آفیسران اور پروجیکٹ مینجمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر ایکشن لیں اور مذکورہ آسامیوں پر غیر مقامی افراد کی تعیناتی کو کینسل کر کے مقامی افراد کو ترجیح دیں۔ بصورتِ دیگر ہم ہر فورم پر اس ناانصافی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین