بدھ, مئی 29, 2024
spot_img
ہومادبخواب گر

خواب گر

روف قیصرانی

قافلہ اٹھ چلا
خواب گھٹڑی میں باندھے روانہ ہوا
خواب نظروں میں ڈھالے روانہ ہوا
خواب کیا ہیں جو بوڑھے کے ہاتھوں میں پابند ہیں
خواب کیا ہیں جو بچے کی آنکھوں میں پیوست ہیں
خواب تذلیل و وحشت کا نوحہ بھی ہیں
خواب جبر و تسلط کا قصہ بھی ہیں
خواب زنداں کےآہنگ سے جاتے ہوئے خواب ہیں
خواب جنبش لرزاں پہ گاتے ہوئے خواب ہیں
خواب انسان کی عظمت کے بھی تو طرفدار ہیں
خواب جی دار ہیں خواب حبدار ہیں
اس قدر تو نہیں تھا یوں کرنا تمہیں
ایسے ذلت کی کالک کیوں ملتے رہے
خواب ہی کو ہی تحقیر بخشی گئی
خواب ہی پر ہی تعزیر لکھی گئی
سب دیس کی ماہ رنگ نما لڑکیاں
خواب بن بن کے شالیں بناتی رہیں
اور ہنس ہنس کہ تم کو ڈراتی رہیں
تم بھی ڈرتے رہے اور لرزتے رہے
کم ظرف بزدل کو ہی آگے کرتے رہے
اب سنبھالو ویرانے تمہیں شوق تھا
اب لگاو یہ کلبوں کی تم بولیاں
جارج اورویل کے ناموں پہ نازاں رہے
کرنل جولوں کو کیوں نا بتایا گیا
سچ کو کیوں کر یوں آخرچھپایا گیا
اب چلے ہیں وطن یہ سبھی خواب گر
سب ہی خوابوں کو گھٹڑی میں باندھے ہوئے
اپنی دھرتی پہ کھولیں گے سب خواب یہ
پھر بکھر جائیں گے اور سنور جائیں گے
خواب اٹھیں گے اور پھر نکھر جائیں گے
خواب نعروں کی صورت میں اگتے رہیں
خواب زندہ رہیں اور سلگتے رہیں

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین