خضدار: طلباء، ثالثین موجودگی میں طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں، امتحانی عمل میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کا بیان

بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالاجی خضدار کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ روز سابق ایم این اے میر عبدالرؤف مینگل اور حاجی محمد عالم جتک و دیگر معززین کی ثالثی میں یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء تنظیموں کے نمائندگان کے مابین مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں ہونے والے فیصلے پر سب نے تحریری طور پر اتفاق بھی کیا تھا لیکن اب جب 17 جولائی سے دوبارہ پیپرز کا آغاز ہورہاہے تو ایسے موقع پر طلباء نے فیصلے سے انحراف کرتے ہوئے اسے ماننے سے انکار کردیا ہے اور امتحان روکنے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں جوکہ بلاجواز اور خلاف قانون ہے۔

وضاحتی بیان میں کہاگیا ہے کہ ثالث کا کردار ادا کرنے والے وفد نے یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء کے مابین درج ذیل معاہدہ کیا تھا جس پر سب نے اتفاق بھی کیا تھا۔
معاہدہ کے تحت فیصلہ ہوا تھاکہ 12 جولائی 2023 کے بعد پیپرز ری شیڈول کردیئے جائیں گے اور وہ پیپرز 17 جولائی 2023 سے شروع ہونگے۔ جو طلباء بائیکاٹ کی وجہ سے پیپر نہیں دے سکے تھے وہ ونٹر کیمپ میں اپنے پیپر دیں گے۔

ان تمام فیصلوں کے باوجود چند طلباء کی جانب سے ہٹ دھرمی جامعہ کے تعلیمی نظام میں خلل ڈالنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے لہذا یونیورسٹی انتظامیہ یہ بات واضح کرنا چاہتی ہے کہ تمام پیپرز اپنے وقت پر ہونگے جو طلباء امتحان نہیں دیں گے وہ سراسر اپنا نقصان کریں گے۔ نیز جو طلباء امتحانی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کریں گے ان کے خلاف ہر صورت قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ، دریں اثناء طلباء کے والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہدایت دیں کہ وہ امتحان کا حصہ بنیں اور جامعہ کی کوالٹی ایجوکیشن کو آگے لیجانے میں معاون بنیں اور اپنی قیمتی تعلیمی سال و مستقبل کا نقصان نہ کریں۔