جمعہ, مئی 24, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: کیچ کے شعور پر ان پڑھ و جاہل حملہ آور ہیں،...

تربت: کیچ کے شعور پر ان پڑھ و جاہل حملہ آور ہیں، سازشیوں نے مکران کو نشانے پر رکھا ہے۔ کیچ کو شعور دینے میں شہید مولابخش اور قاضی غلام رسول کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ

نیشنل پارٹی کیچ کی جانب سے 11 جولائی کو شہید مولابخش دشتی اور قاضی غلام رسول کی یاد میں جلسۂ عام کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں خواتین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

جلسۂ عام کی صدارت پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کی جبکہ سیکریٹری جنرل جان محمد بلیدئی و دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں سمیت بی ایس او پجار کے چیرمین اور سیکٹری جنرل نے بھی شرکت کرکے خطاب کیا۔

مقررین نے شہید مولابخش دشتی اور قاضی غلام رسول کو انکی فکر، جدوجہد اور گراں قدر قومی خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بالخصوص کیچ کو شعور دینے میں ان رہنماؤں کا کلیدی کردار رہا ہے جنکی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ کیچ کے خلاف سنگین سازشیں ہورہی ہیں۔ اس میں زردار، غیرسیاسی عناصر اور جرائم پیشہ افراد اکھٹے ہوکر کیچ کے شعور پر حملہ آور ہیں۔ کیچ پر مسلط افراد کا سیاست تو دور تعلیم سے بھی دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے افراد کو مسلط کرنے میں کیچ کے نامنہاد پڑھے لکھے سیاستدانوں کا بھی کردار شامل ہے جنہیں ہدف تنقید بناتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سیاسی منڈی میں بِکنے والے عوام کے سامنے ایکسپوز ہوچکے ، عوام انکا احتساب آنے والے انتخابات میں کرے گی۔

جلسہ سے خطاب میں پارٹی رہنماؤں نے حکومت بلوچستان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ٹھپہ ماری کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے والے ارکان اسلام آباد میں بلوچستان کے لئے شرم کا باعث بنے ہوئے ہیں، انہوں نے نوکریوں کی خرید و فروخت کیلئے منڈیاں قائم کی ہیں، جبکہ ترقیاتی اسکیموں کو کمیشن کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ حکومت کی شراکتدار نامنہاد اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ پہلی بار بلوچستان میں کوئی اپوزیشن نہیں ہے، سب حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں جبکہ عوام کی زندگیاں اجیرن ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کیچ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ نیشنل پارٹی کو مضبوط کریں کیونکہ نیشنل پارٹی قوم کی عزت و وقار کا تحفظ کرے گی اور میرٹ کے ذریعے حقداروں کو انکا حق ادا کرے گی۔

آزاد مبصرین الیکشن سے قبل نیشنل پارٹی کے جلسے کو کیچ میں بڑا بریک تھرو قرار دے رہے ہیں۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر اسی طرح عوامی مہم جاری رہی تو ممکن ہے غیرسیاسی عناصر کی حوصلہ شکنی ہو جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین