جمعہ, مئی 24, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: کیمپس کے اندر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، طلبہ تنظیم سیاسی...

تربت: کیمپس کے اندر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، طلبہ تنظیم سیاسی مقاصد کیلئے بلیک میلنگ کررہی ہے۔ تربت یونیورسٹی کی وضاحت

جامعہ تربت نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہیکہ یونیورسٹی آف تربت صوبہ بلوچستان کی دوسری بڑی جنرل یونیورسٹی ہے جہاں 5000 سے ذائد طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تربت یونیورسٹی میں دو بڑی لائبریریاں (سینٹرل لائبریری اور یونیورسٹی پبلک لائبریری) قائم کی گئی ہیں جہاں اسٹوڈنٹ کی پڑھائی کے لئے ہزاروں کتابیں دستیاب ہیں۔ سوشل میڈیا پر کتابوں کے حوالے سے پابندی کا معاملہ حقائق پر مبنی نہیں اور حقیقت کے برعکس ہے۔

وضاحت میں کہا گیا ہیکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن، مرکزی اور صوبائی گورنمنٹ کی پالیسی کے مطابق تربت یونیورسٹی کی ایک واضح پالیسی ہے کہ کیمپس کے اندر کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔ گزشتہ روز ایک سیاسی پارٹی کے طلبہ تنظیم نے یونیورسٹی کے اندر آؤٹ سائڈر طلبہ کی مدد سے ایک اسٹال لگانے کی کوشش کی جس کے مقاصد صرف اور صرف سیاسی تھے۔ اصل معاملہ اسی طلبا تنظیم کے دو کارکنان کا امتحانات میں مسلسل فیل ہونے سے متعلق ہے۔ گزشتہ سمسٹرز کے امتحانات میں فیل ہونے کی وجہ سے اس طلبا تنظیم سے جڑے دو طالب علموں سمیت 40 طلبہ و طالبات یونیورسٹی اکیڈمک قواعد و ضوابط کے مطابق ڈراپ آوٹ ہو چکے ہیں جو مختلف زرائع سے یونیورسٹی کو پریشر دے کر دوبارہ اسی سمسٹر میں اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں جس میں وہ کئی بار فیل ہو چکے ہیں۔ فیل ہونے کے باوجود یونیورسٹی نے ان کو پہلے سے دو مواقع دئیے ہیں لیکن وہ اپنی پڑھائی میں بہتری نہیں لا سکے۔ یہی فیل اور ڈراپ آؤٹ اسٹوڈنٹ اب مختلف ہتھکنڈوں سے یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف تربت ایک ذمہ دار تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد مکران ڈویژن سمیت پورے صوبے میں تمام شعبوں میں تعلیم پھیلانا اور ریسرچ کرنا ہے۔ یونیورسٹی سے متعلق اس طرح کی منفی پروپیگنڈہ سے گزیر کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین