بدھ, مئی 29, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: چوک و چوراہوں پر بدکلامی و ناشائستہ زبان کا استعمال بلوچ...

تربت: چوک و چوراہوں پر بدکلامی و ناشائستہ زبان کا استعمال بلوچ کلچر کے برخلاف ہے، وزیر صحت اپنی ناکامی کا ملبہ نیشنل پارٹی پر ڈال رہی ہے۔ شاری ابوالحسن

نیشنل پارٹی کیچ کی وومن سیکریٹری شاری ابوالحسن بلوچ نے اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان مہذب سیاست کا قلعہ ہے، جہاں مخالفین بھی ایک دوسرے کا احترام و آداب کرتے ہیں، مگر گزشتہ دنوں وزیر صحت کی جانب سے نکالی گئی ریلی میں قومی کلچر کو پاؤں تلے روندا گیا جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح چوک و چوراہوں پر سیاسی قائدین کے خلاف بدکلامی کی گئی اور ناشائستہ زبان استعمال کیا گیا اسکی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیچ کے مہذب معاشرے کو پراگندہ کرنے والوں نے ثابت کردیا کہ وہ کیچ کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

انہوں نے وزیرصحت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نوکریوں کو کینسل نہیں کروایا بلکہ میرٹ کی بحالی کیلئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ وزیر صحت کو عدالت جاکر جواب دعویٰ دینا چاہیے تھا بجائے چوک پر آکر گالم گلوچ کرنے کے، جوکہ انتہائی غلط رویہ ہے۔

شاری بلوچ نے کہا وزیرصحت کی چار سالہ دورِ اقتدار کی کارکردگی صفر ہے، اب وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ نیشنل پارٹی کے سر ڈالنا چاہتے ہیں۔ 500 نوکریوں کو چار دنوں میں بندر بانٹ کرنے کا انکا مذموم عزائم عوام نے ناکام بنایا ہے جس کی وجہ سے انکی چیخیں نکل رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پارٹی میرٹ کو ماننے والی جماعت ہے اور ہماری جدوجہد کا محور قومی بقاء ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے 1992 میں کیچ کو جو تعلیمی نظام دیا اسی کی بدولت کیچ کی شرح تعلیم ملک میں بلند ترین سطح پر ہے، ہم جمہوریت کو ماننے والے جماعت ہیں جبکہ مدمقابل میں فردِ واحد کی ٹولی ہے جو اپنی ناکامی کو برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین