جمعہ, مئی 24, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: نیشنل پارٹی کے زیراہتمام 'باڈر بندش نامنظور' کے ون پوائنٹ ایجنڈا...

تربت: نیشنل پارٹی کے زیراہتمام ‘باڈر بندش نامنظور’ کے ون پوائنٹ ایجنڈا پر تحریک کا آغاز، تاریخی احتجاجی جلسہ و ریلی، سیاسی رہنماء و انجمنوں کی شرکت

نیشنل پارٹی کے زیراہتمام بارڈر بچاؤ تحریک کے سلسلے میں تربت میں ہفتے کے روز شاندار ریلی اور تاریخی دھرنا، دھرنا میں نیشنل پارٹی، باڈر کاروبار سے متعلق تنظیموں، دیگر سیاسی جماعتوں، انجمن تاجران، سول سوسائٹی ارکان کی ہزاروں کی تعداد میں شرکت۔ جان محمد بلیدی، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ و دیگر نے خطاب کیا۔

نیشنل پارٹی کے زیراہتمام ہفتہ کے روز ‘بارڈر بندش نامنظور تحریک’ کے سلسلے میں تربت پریس کلب کے سامنے تھانہ روڈ پر صبح سے شام تک دھرنا دیا گیا، دھرنا میں نیشنل پارٹی، بی این پی، حق دو تحریک، جے یو آئی، پیپلزپارٹی، بی این پی عوامی، کیچ بارڈر الائنس، بارڈر ٹریڈ یونین، بارڈر رابطہ کمیٹی، کیچ بار ایسوسی ایشن، انجمن تاجران سمیت دیگر کاروباری، سیاسی و سماجی تنظیموں نے شرکت کی۔ دھرنا کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیاگیا، تلاوت کی سعادت حق دوتحریک کے مولانا نصیر احمد نے حاصل کی، دھرنا کے آغاز میں نامور شاعر مبارک قاضی کی رحلت پر کھڑے ہوکر 2 منٹ کی خاموشی اختیار کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کی گئی۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمدبلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج تاریخی دھرنا اور جلسہ نے ثابت کردیا کہ یہاں کے عوام کو بارڈر پر کاروبار کی بندش کسی صورت قبول نہیں، ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ بارڈر بندش نامنظور، بارڈر فوری کھول دو، بارڈر کے حوالے سے یہ تحریک صرف ایک دن کیلئے نہیں بلکہ عوام کے روزگار کے حق کے تحفظ کیلئے یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ تاہم اگلا لائحہ عمل بارڈر کے کاروباری تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔ جان محمدبلیدی نے واضح کیا کہ بارڈر کاروبار کوئی غیر قانونی کاروبار نہیں، نہ ہی یہ اسمگلنگ ہے، اگر یہ غیر قانونی اور سمگلنگ ہوتی تو آئی جی ایف سی اور کمانڈنٹ کمشنر و ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مل کر گاڑیوں کی رجسٹریشن اور لسٹنگ نہ کراتے۔ غیر قانونی کاروبار اور سمگلنگ کا لسٹ کیسے روزانہ ڈی سی اور ایف سی حکام جاری کرتے، ایف سی اور انتظامیہ کی جانب سے رجسٹریشن اور قانونی شکل دینے کے بعد یہاں کے عوام نے مزید گاڑیاں خریدیں، بارڈر کاروبار کیلئے لوگوں کے پاس 50 ہزار گاڑیاں ہیں جب بارڈر پر کاروبار کی بندش ہوگی تو یہ 50 ہزار گاڑیاں کس کام کی ہونگی؟ 

 انہوں نے کہاکہ جب سے ہم نے بارڈر بندش نامنظور تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تو تحریک کو کمزور کرنے کیلئے دروغ گوئی سے کام لیا جا رہا ہے کہ بارڈر کھولا جا رہاہے، ایک طرف بارڈر کھولنے کے شوشے چھوڑے جارہے ہیں تو دوسری طرف گزشتہ شب انتظامیہ نے 60 گاڑیوں کے ٹائر برسٹ کرائے ہیں اور گاڑیوں اور ڈرائیوروں کو حراست میں لیاہے جو انتظامیہ کی بہت بڑی حماقت ہے۔ انہوں نے کہا آج یہ ریلی اپنا رخ انتظامیہ کے دفاتر اور گھر کی جانب کرکے گھیراؤ کرے پھر ان کا کیا حال ہوگا، اس لئے مفلوک الحال عوام کو اتنا تنگ مجبور نہ کیاجائے کہ ان کے ہاتھ آپ کے گریباں تک پہنچ جائیں، افسران کو بھوک کا اندازہ نہیں، بھوک کا حال غریب سے پوچھیں کہ وہ کس طرح جی رہے ہیں، عوام اپنے روزگار کے حق کیلئے یہاں جمع ہیں، اسلام آباد اور کوئٹہ میں بیٹھ کر ہمارے غریب محنت کش کیلئے روزگار کے دروازے بند کرنے والے اپنے بچوں کو ایک دن زمباد ڈرائیور کے ساتھ بارڈر پر بھیج دیں تب انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کیسی اسمگلنگ ہے، حکومت بارڈربندش کا ارادہ ترک کرکے بارڈر کو فوری کھول دے بصورت دیگر ہمارا آئندہ لائحہ عمل سخت ہوگا جس کا اعلان متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ 

انہوں نے کہاکہ آج عوام نے نیشنل پارٹی پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے نیشنل پارٹی کی قیادت اس اعتماد کو کسی صورت ٹھیس نہیں پہنچائے گی، نیشنل پارٹی ہر مشکل میں اپنے عوام اور مزدور پیشہ لوگوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

 حق دو تحریک بلوچستان کے قائد مولانا ہدایت الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام اسی طرح متحد رہے تو کوئی بھی طاقت ہمیں اپنے جائز اور قانونی حق سے محروم نہیں رکھ سکتی، بارڈر اور ساحل ہمارے شاہ رگ ہیں کسی کو اپنے شاہ رگ پر ہاتھ لگانے نہیں دیں گے، عوام جدوجہد میں ساتھ دیں چند دن کی قربانی دیں تب نسلیں آباد رہیں گی وگرنہ اسی طرح بھوک، غربت، بے روزگاری، تذلیل برداشت کرنی پڑے گی۔ سیاسی قیادت مصلحت پسندی سے نکلیں، لیڈرشپ قربانی دے، نوجوان اور قوم ساتھ دینے کیلئے تیار ہے، آج نیشنل پارٹی نے جس جدوجہد کا آغاز کیا ہے اسے جاری رکھا جائے، جدوجہد اور قربانی لازمی ہے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جس دن وہ بلوچ کو بے روزگار نہ کیاجائے، جس دن بلوچ ماؤں بہنوں کو نہ رلایا جائے، بلوچ بزرگوں کی تذلیل نہ ہو اس دن اسلام آباد کے حکمرانوں کو سکون نہیں آئے گا۔ ریکوڈک، سیندک اور سوئی گیس کے بعد ہم سے بارڈر اور ساحل چھیننے کی کوششیں کی جارہی ہیں یہ دونوں نعمتیں ہمیں قدرت کی طرف سے ملے ہیں تاہم حکمران ہمیں ان سے بھی محروم رکھنا چاہتے ہیں، واہگہ اور کرتارپور بارڈر پر کوئی اور پالیسی ہے جبکہ ہمارے بارڈر پر کوئی اور پالیسی، ہمارے بارڈر کے دونوں اطراف بلوچ آباد ہیں، آپس میں رشتہ داریاں ہیں ہمارا بارڈر بند ہے، پاکستان کی معیشت کو بارڈر نے تباہ نہیں کیا ہے سیاستدانوں، جرنیلوں، ججوں نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کیا ہے بارڈر بندش سے معیشت مستحکم نہیں ہوگی، معیشت کو درست کرناہے تو جنہوں نے ملک لوٹا ہے ان کی دولت واپس لائیں، آئی ایم ایف کے قرضوں کا ذمہ دار غریب زمباد والا نہیں ہے، ملک لوٹنے والوں کے بچے باہر ممالک میں عیاشیاں کررہے ہیں جبکہ غریب زمباد والے کو اپنے بچوں کیلئے روزی کمانے کا حق نہیں، آپ کے بچے 10 کروڑ کی گاڑی میں گھومے اور میرے بچے کو مزدوری کا بھی حق نہ ہو اب یہ نہیں چلے گا۔

دھرنا سے کیچ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عبدالمجید شاہ ایڈووکیٹ، بی این پی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عبدالغفور بلوچ، آل پارٹیز کیچ کے کنوینر و بی این پی کے رہنما سیدجان گچکی، عبدالواحد بلیدی، نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر کہدہ اکرم دشتی، بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح ایڈووکیٹ، جے یو آئی کے صوبائی نائب امیر خالد ولید سیفی، پیپلزپارٹی کے سنیئر رہنما نواب شمبے زئی، انجمن تاجران تربت کے صدر اسحاق روشن دشتی، جنرل سیکرٹری اعجاز علی محمد جوسکی، پیپلزپارٹی کے رہنما میر خلیل تگرانی، حق دو تحریک کیچ کے رہنما حاجی ناصرپلیزئی، وسیم سفر زامرانی، صبغت اللہ شاہ جی، رابطہ جے یو آئی کے سابق سینیٹر ڈاکٹراسماعیل بلیدی، نیشنل پارٹی کیچ کے صدرمشکور انور بلوچ، نیشنل پارٹی کے رہنما معتبر شیرجان، بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر ظریف زدگ، زاہد سلیمان، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے رہنما حافظ ناصر الدین زامرانی،  کیچ بارڈر الائنس کے فداحسین دشتی، ندیم شمبے زئی، وارث رند، بارڈر رابطہ کمیٹی کے اسلم شمبے زئی، دادجان سبزل، عبدالستار بلیدی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بی ایس او پجارکے رہنما نوید تاج نے سرانجام دئیے۔

 

بعدازاں جان محمد بلیدی و دیگر سیاسی قائدین کی قیادت میں دھرنا سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کے شرکاء بارڈر بندش کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے براستہ پولیس تھانہ، نیشنل بنک چوک، شہید فدا چوک سے واپس دھرنا گاہ پہنچے جہاں سے دھرنا اور جلسہ ختم کرنے کا اعلان کیاگیا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین