بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومتجزیہتربت میں توہین رسالت کا پہلا قتل اور اس کے محرکات

تربت میں توہین رسالت کا پہلا قتل اور اس کے محرکات

تحریر: اسد بلوچ

اگست کی چھ تاریخ کو ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں ایک ایسے نوجوان کا قتل کیا گیا جس پر توہین مذہب کا دو دن قبل الزام لگایا گیا تھا۔
توہین مذہب یا رسالت کے نام پر تربت بلکہ مکران میں یہ پہلا قتل تھا اس کے خلاف فوری عوامی ری ایکشن چھ اگست کو سوشل میڈیا پر شروع ہوا اور اب تک گلیوں میں احتجاج کی صورت جاری ہے۔

عبدالرؤف نامی نوجوان کا تعلق ضلع کیچ کی تحصیل دشت کے علاقہ نگور جت سے تھا۔ وہ تربت پڑھائی کی غرض سے آئے تھے اور عطاشاد ڈگری کالج تربت میں پڑھنے کے دوران ایک لینگویج سینٹر سے انگریزی زبان سیکھنے کے بعد اب وہاں شام کو انگریزی زبان پڑھا کر اپنا ذاتی خرچ چلا رہے تھے۔

ضلع کیچ مذہبی منافرت کے حوالے سے عموماً ایک روشن خیال خطہ سمجھا جاتا رہا ہے، 1990 کے دوران مذہبی سیاسی جماعت سے وابستہ مقامی ملاؤں کے زریعے مقامی آبادی میں فرقہ وارانہ تشدد کی ایک ناکام کوشش کے علاوہ یہاں دوبارہ کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس ضلع کو ہمیشہ بلوچستان کی سیاست میں قوم پرست جماعتوں کا ایک ایسا مرکز خیال کیا جاتا رہا ہے جہاں سیاسی بیداری کی شرح دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ اور سیاسی کشادگی وسیع دیکھی گئی ہے۔ البتہ 2010 کے بعد قوم پرست سیاسی ماحول میں مذہبی رنگ بھرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے خلاف غیر سیاسی عناصر کا ایک نیٹ ورک تیار کیا گیا جس نے بعد میں جڑ پکڑی اس کا اثر 2013 اور 2018 کے جنرل الیکشن کے بعد حالیہ بلدیاتی الیکشن میں خاص طور پر نظر آیا۔

کچھ سالوں سے کیچ ضلع میں مذہبی بیانیہ کے زور پر توجہ دینے کی کوشش میں دینی مدارس کا ایک وسیع نیٹ ورک پھیلایا گیا اب تک صورت حال یہ ہے کہ ہر گاؤں میں دو ایسے مدارس ضرور قائم ہیں جہاں لڑکوں کو الگ اور لڑکیوں کو بنات کے نام سے الگ دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کے ذریعے سیاسی کشادگی کم کرنے کے علاوہ ایک کلچرل چینج لانے کی کارگر کوشش کی گئی ہے۔ بنات مدارس میں زیر تعلیم 3 اور پانچ سالہ لڑکیوں کو شٹل کاک اور سیاسی برقعہ مکمل اوڑھنے کی ترغیب دے کر اسے اسلام اور شریعت کی تعلیم کا نام دے کر اس حوالے سے مقامی ثقافت سے دوری اور سیاسی و ثقافتی کشادگی کے بجائے تنگ نظرانہ سوچ پیدا کرنے کے لیے زہن سازی کی کوششیں قابل توجہ ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ چند سالوں کے دوران پورے ڈسٹرکٹ میں شدت پسند خیالات کے حامل ملا ازم پھیلانے کا ماحول کافی سازگار کردیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں مسلح بندوق بردار ملا دیکھے جاتے ہیں جن کا بظاہر کسی سے مخمصہ بھی نہیں ہے، صرف دو سالوں کے دوران ضلع کیچ میں دو سے تین توہین مذہب کے کیس سامنے لائے گئے جہاں خودساختہ جرگہ یا ایک مخصوص علما کمیٹی کے سامنے ان نوجوانوں کو کیمرے کے سامنے بٹھا کر انہیں تجدیدِ نکاح اور تجدید ایمان کے مراحل سے گزارا گیا۔

سال 2022 کو ایک مقامی گلوکار کے گائے بلوچی گانا کے بول توہین آمیز کہہ کر ان پر تجدید نکاح لازم قرار دیا گیا اس کے ساتھ ایک مقامی بلوچ شاعر کو توہین آمیز شعر لکھنے کا الزام لگاکر علما کمیٹی نے انہیں کیمرے کے سامنے ایمان کی تجدید اور رجوع نکاح پر مجبور کیا گیا۔ ان دونوں کے ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر وائرل کیے گئے تاکہ معاشرے کو خوف زدہ بناکر اپنی گرفت مضبوط بنایا جاسکے۔ اس کا لامحالہ نتیجہ مذہبی معاملات میں زبان بندی اور خودساختہ خوف کی صورت نکلا جو پہلے کبھی نہیں تھا۔

اس کے علاوہ دو دیگر ایسے واقعات ریکارڈ ہوئے جہاں بلاسفیمی کے الزامات سامنے آئے۔ ایسے تمام واقعات پر ردعمل کا محور ایک مخصوص مذہبی طبقہ رہا جن کی اکثریت کا تعلق اسی مخصوص مذہبی سیاسی جماعت سے ہے۔
عبدالرؤف کے قتل سے ایک دن قبل اسی مخصوص کمیٹی کے چند اراکین نے اس اسکول کا دورہ کیا جہاں عبدالرؤف انگریزی زبان سکھا رہا تھا۔ کمیٹی نے اسکول کے اسٹاف اور عبدالروف کو طلب کرکے انہیں بلاسفیمی کے ارتکاب کا ملزم ٹھہرایا، حالانکہ عبدالرؤف کے خلاف توہین کا الزام اس کی کلاس کے ایک نوعمر لڑکے نے لگایا تھا جنہیں نہ اسلامی شعائر کی تقدیس کا صحیح معنوں میں پتہ ہے اور نا وہ توہین کو مذہبی طور پر صحیح معنون میں بیان کرنے کے قابل ہے۔

علما کی کمیٹی کے سامنے عبدالرؤف نے دباؤ میں آکر اپنے توہین آمیز قلمات کی معافی مانگ لی مگر کمیٹی نے یہ اصرار کیا کہ وہ اس جرگہ کے سامنے آکر توبہ تائب ہوں جس میں اس مخصوص کمیٹی کے دیگر اراکین جن کی تعداد ایک اندازہ کے مطابق سو تک ہوتی ہے شامل ہیں۔ کمیٹی حسب معمول توبہ اور معافی کی اس مجلس کو فلم بند کرکے سوشل میڈیا پر ڈالنا چاہتا تھا تاکہ آئندہ کے لیے یہ عبرت کا باعث بنے اور اس سے اپنے مخصوص ایجنڈہ جس کا مقصد اپنی گرفت مضبوط اور سماج پر خوف طاری کرنا تھا حاصل کی جاسکے۔ عبدالروف کے حامی بھرنے کے بعد اگلے دن پانچ اگست جمعہ کو کمیٹی نے اپنے ایک مدرسہ میں جرگہ رکھا اور سوشل میڈیا پر جرگہ کی جگہ وقت اور تاریخ وائرل کی جو بظاہر اس کے قتل کا سب سے آسان زریعہ بنا۔

اگلے روز جمعہ کو مزکورہ اسکول کے اساتذہ کے ساتھ اپنے ایمان کی گواہی دینے کے لیے عبدالروف جرگہ جارہے تھے اسے مدرسہ سے تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
عبدالروف کے قتل کے بعد سوشل میڈیا کے دباؤ پر اس مخصوص کمیٹی جنہوں نے اسے معافی اور توبہ کے لیے طلب کیا تھا ایک وضاحتی بیان جاری کیا اور اس قتل سے خود کو بری الزمہ کرنے کی کوشش کی لیکن قتل کی مذمت اور اس کی شفاف تحقیقات کا سرکار سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

لوگوں پر بلاسفیمی کا الزام لگاکر انہیں توبہ تائب کرانے پر علما کی اس مخصوص کمیٹی کا دائرہ اختیار کیا ہے اور اس میں کون سے عالم شامل ہیں، اسلامی تاریخ میں تجدید نکاح یا تجدید ایمان کی کوئی روایت موجود ہے اس سوال کا جواب معروف مقامی عالم دین مفتی فضل الرحمان قاسمی سے جاننے کی کوشش کی گئی۔

مفتی فضل الرحمان قاسمی کہتے ہیں کہ اسلامی شعائر کی تضحیک یا مقدس ہستیوں کی توہین پر تجدید نکاح یا ایمان کی تجدید کا شرعی تصور موجود ہے مگر یہ اختیار کسی عالم، مفتی یا مخصوص کمیٹی کو قطعاً حاصل نہیں، یہ حق اسلامی ریاست کا ہے کہ وہ توہین مذہب کے حامل کسی فرد یا گروہ پر سزا لاگو کرے اور انہیں قانون کی گرفت میں لائے یہاں جو لوگ ایسا کررہے ہیں وہ اپنے زاتی تصرف میں ایسا کررہے ہیں ان کا شرعی جواز نہیں بنتا ہے۔

کسی فرد کو تائب کرنے کے سوال پر مقامی عالم دین مفتی سعید کا فکر اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ ہے کہ توبہ کا معاملہ خاص اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے کوئی بندہ اپنے گناہوں کی معافی صرف اللہ سے مانگنے کا مجاز ہے اگر کوئی فرد یا مخصوص گروہ سمجھتا ہے کہ اس کے سامنے توبہ کی جائے تو اس کا فیصلہ وہ خود کریں کہ اللہ تعالیٰ کے ایک خاص اختیار پر ان کا استحقاق کیسے بنتا ہے۔

عبدالرؤف نے مگر کس بات کی توہین کی، اس نے کیا نامناسب الفاظ کہے اور اسکول انتظامیہ کے سامنے یہ معاملہ آیا تو ردعمل میں انہوں نے کیا کیا؟ اس معاملے میں اسکول انتظامیہ نے بار بار رابطہ کے باوجود موقف نہیں دیا۔

قانون میں بلاسفیمی کے بعد اس فرد یا گروہ کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے اور اس کی سزا کا فیصلہ کون کرسکتا ہے، کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر رستم جان گچکی ایڈوکیٹ کے مطابق جرگہ یا کسی پنجائت کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے البتہ قانون کے تحت فریقین کی درخواست پر سول کورٹ کا جج ایک جرگہ یا مصالحتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ دے سکتاہے۔
ان کے مطابق کریمینل کیسز کے فیصلے عدالت کے زریعے ہی نمٹا جا سکتے ہیں، غیر سے باہر کسی فیصلے کی نہ صرف قانونی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ ایسا ہر فیصلہ ماورائے عدالت تصور کیا جائے گا۔ رستم جان کے مطابق توہین رسالت کی سزا تعزیرات پاکستان میں موت مقرر ہے لیکن اس میں سزا کا مجاز صرف عدالت ہے کسی گروہ یا جرگہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔

ایک مخصوص علما کمیٹی کے پاس پولیس اور قانون کے اختیارات کے سوال پر ایس ایچ او تربت حکیم دشتی نے کہا کہ پولیس اس معاملے میں مکمل تفتیش کے بعد کچھ کہنے کی پوزیشن میں آسکتی ہے کیونکہ ابھی پولیس نے اس کیس پر کام شروع کردیا ہے جب تک تمام حقائق سامنے نہ آئیں اس پر سردست کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
عبدالروف کے قتل پر علما کمیٹی کو بھی شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے اس پر حکیم دشتی کا موقف ہے کہ پولیس اس کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور سب سے جاکر بات کرے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین