بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: میرا بیٹا مسلم عارف 15 سالہ بچہ ہے جسے 11 مہینوں...

تربت: میرا بیٹا مسلم عارف 15 سالہ بچہ ہے جسے 11 مہینوں لاپتہ کیا گیا ہے، 10 دنوں کے اندر ہمارے بچے بازیاب نہ ہوئے تو لانگ مارچ کرینگے۔ عارف بلوچ

جبری گمشدگی کے شکار مسلم عارف کے والد عارف بلوچ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ کے توسط سے تمام سماجی رہنماؤں، عدلیہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسانی حقوق کے کمیشنز اور قوم سے مخاطب ہوں۔ میں عارف غلام گلی بلیدہ کا رہائشی ہوں اور جبری طور پر لاپتہ مسلم عارف کا والد اور لاپتہ نصرم پیر بخش, پزیر غنی اور فتح میار کا رشتہ دار ہوں۔

انہوں نے کہا آج اس پریس کانفرنس کے توسط سے میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا مسلم عارف کی عمر 15 سال ھے۔ اس کو 15 جون 2023 کو دن کے 10 بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دکان سے اٹھایا ہے جس کا تاحال کوئی پتہ نہیں کہاں اور کس حال میں ہے۔

انہوں نے کہا اگر ہم دیکھیں تو پاکستان کے آئین کے تحت ایک نابالغ شہری کو اس طرح اٹھانا اور غائب کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی عمل ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ آئین اور قانون بلوچوں کے لیے ہیں یا نہیں۔ ہمیں اس ملک میں پر امن رہنے کا یا پُرسکون پڑھنے کا حق نہیں ہے ، اگر ہے تو ہمیں بتایا جائے اور میرا بیٹا مسلم عارف ایک کمسن بچہ ہے اس کا کسی بھی ریاست مخالف سرگرمی میں کوئی کردار نہیں۔

انہوں نے مزہد کہا کہ اسی طرح میرا کزن نصرم پیر بخش اور پزیر غنی کو 12 اکتوبر 2023 رات کے 3 بجے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے اور گھر کے سارے 7 مبائل فونز اور دو موٹر سائیکل بھی انکے ہمراہ لے گئے۔

ہم اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے بار بار بار قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس گئے ہم اپنی بساط کے تحت کئی وزرا مشیر سماجی رہنماء میڈیا اور عدلیہ سے رجوع کر چکے ہیں لیکن تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوا۔

ہم آپ معزز صحافی حضرات کی توسط سے  ملک کے اعلیٰ عدلیہ اور تمام  قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے جبری لاپتہ پیاروں کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر ہمارے پیارے کسی غیر قانونی یا ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہیں  تو ان کو اپنے ہی عدالتوں میں پیش کریں۔ 

اس طرح ہمارے بچوں کو سالوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا اور اہلخانہ کو معلومات نہ دینا نہ صرف تشویشناک بلکہ سخت اذیت ناک ہے۔ جبری گمشدگی نہ صرف ملکی قوانین بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی سرا سر خلاف ورزی ہے۔ لہٰزا ہماری تمام اعلی حکام سے درخواست ہے کہ ہمارے جبری گمشدگی کا شکار بچوں کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر دس دن کے اندر اندر جبری گمشدگی کا شکار ہمارے لاپتہ بچوں کو منظر عام پر نہ لایا گیا تو اہلخانہ بلیدہ سے تربت تک لانگ مارچ کریں گے، لانگ مارچ تربت پہنچ کر آئندہ کا لاءعمل کا اعلان کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین