بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: مند تمپ کا دھرنا جاری، مذاکرات پھر بے نتیجہ نکلے۔ اختیاردار...

تربت: مند تمپ کا دھرنا جاری، مذاکرات پھر بے نتیجہ نکلے۔ اختیاردار شغل کرتے ہیں، مطالبات پر عملدرآمد تک دھرنا جاری رہےگا۔ مظاہرین

تمپ و مند میں بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے علاقہ مکینوں کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مزاکرات پھر ناکام ہوگئے۔ مند اور تمپ میں بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے جاری دھرنا کے تیسرے روز جمعرات کی شام گئے ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان اور ایس ایس پی کیچ محمد بلوچ کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ کی وفد نے ایک دفعہ پھر مظاہرین کے پاس جاکر مزاکرات کیے اور تمپ و مند میں آٹھ گھنٹے بجلی دینے کی پیشکش کی جسے حاجی محمد نور کی سربراہی میں مزاکراتی کمیٹی نے مسترد کردیا اور دھرنا 12 گھنٹے بجلی فراہم کرنے تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

 اس موقع پر حق دو تحریک کے بانی رہنما مولانا ھدایت الرحمن، حسین واڈیلا، یونین کونسل گیاب مند کے چیئرمین حاجی محمد نور،حاجی مجیب کیازئی، میونسپل کمیٹی تمپ کے وائس چیئرمین مسلم یعقوب، صبغت اللہ شاہ جی، بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہان زیب بلوچ، واجہ حمل بلوچ، بی این پی کے رہنما نصیر گچکی، آل پارٹیز کے کنوینر سید جان گچکی، پی ٹی آئی کے صوبائی نائب صدر وارث دشتی، بی این پی کے رہنما حاجی عزیز، بابو ابراہیم شکر، بابو بہادر، پیپلزپارٹی کے رہنما خلیل تگرانی، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر مبارک بلوچ، رہنما ناصر رند، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر غلام یاسین بلوچ، بی این پی عوامی کے رہنما ظریف زدگ، حاجی رستم، وسیم سفر، بی ایس او پجار کے چیرمین بوھیر صالح و دیگر موجود تھے۔

 مزاکرات کی ناکامی کے بعد دھرنا گاہ میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے حق دو تحریک کے بانی مولانا ہدایت الرحمن نے کہاکہ بلوچستان میں جبر کے خلاف سیاسی مزاحمت بیس سالوں سے ختم ہوگئی ہے اسے اب زندہ کیا جارہا ہے جب تک سیاسی مزاحمت نہیں ہوگی اسلام آباد تمپ و مند کو بجلی دینے پر راضی نہیں ہوگا، اس ملک میں حال یہ ہے کہ وزیر اعظم جو ملک کا سربراہ ہے ان کے 12 گھنٹے کے اعلانات کو 24 گھنٹے گزر گئے ہیں تمپ میں ابھی تک 12 گھنٹے بجلی فراہم نہیں کی جارہی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کی حیثیت کیا ہے، انہوں نے کہاکہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ کیسکو پرائیویٹ کمپنی ہے اگر کیسکو ایک پرائیویٹ کمپنی ہے تو پولیس اور فورسز اس کی پشت پناہی کیوں کررہی ہیں، تین دنوں سے کیسکو کے ساتھ ہمارا صرف 4 گھنٹے کا تنازعہ چل رہا ہے اور اسلام آباد 4 گھنٹے زیادہ بجلی دینے کو راضی نہیں ہے، اس وقت ملک پر عملاً بدترین مارشل لا نافذ ہے، تین دنوں سے کیچ میں شھری مرکزی شاہراہ بند کرکے احتجاج کررہے ہیں کسی کو اس کا معمولی احساس نہیں ہے، ڈسٹرکٹ چیئرمین نے کل 1 کروڑ کا اعلان کیا تھا اگر یہ اعلان سچ ہے تو آج کیسکو کے اکاؤنٹ میں 1 کروڑ جمع ہونا چاہیے تھا، کوئی جاکر کیسکو کو بتا دے کہ ڈسٹرکٹ چیئرمین نے کل ان کے اکاؤنٹ میں کل لاکر ایک کروڑ روپے جمع کیے اب بجلی بحال کریں لیکن افسوس ہے کہ ہمارے اختیار دار سب شغل کرتے ہیں، ڈاکٹر مالک نے وزیراعظم سے 12 گھنٹے کی بجلی مانگی جو لطیفہ ہے، انہیں مند و تمپ کے علاوہ بلوچستان کے لیے 24 گھنٹے کی ڈیمانڈ کرنا چاہیے تھا۔

 انہوں نے کہاکہ لوگ شان سے کہتے ہیں کہ وہ کیسکو کی بورڈ کے ممبر ہیں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کیسکو کے بورڈ ممبران سفارش کرکے تمپ و مند کے بقایا جات معاف کرائیں تاکہ یہاں لوگ زلیل خوار ہیں وہ اس ازیت سے بچ جائیں، اگر پاکستان میں کفر کا نظام ہوتا تو اس نام نہاد اسلامی نظام سے حد درجہ بہتر ہوتا کیوں کہ غیر اسلامی ممالک میں نظام زندگی ہر شھری کے لیے مناسب یکساں ہے ہمارا اسلامی ملک ہم پر جبر کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ سرکار اور اس کے اداروں سے دوستی پر فخر کرتے ہیں ہمیں کسی کی دوستی یاری پر کوئی اعتراض نہیں جس سرکاری ادارہ سے چاہیں دوستی یاری رکھیں، بریانی کھائیں لیکن سرزمین اور قوم سے دلاری اور غداری گناہ ہے یہ گناہ کبھی نہ. کریں، انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک تمپ و مند میں بجلی کا مسلہ حل نہیں ہوگا ایم ایٹ شاہراہ بند رہے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین