بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہوماداریہتربت: رواں سال مارچ میں 318 جبکہ اپریل کے پہلے ہفتے میں...

تربت: رواں سال مارچ میں 318 جبکہ اپریل کے پہلے ہفتے میں دو سو سے زائد افراد میں ڈینگی کی تشخیص ہوچکی ہے۔ 

ضلع کیچ میں ڈینگی وائرس کے کیسز میں حالیہ مہینہ اضافہ کے باعث شھری حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ صرف اپریل کے ابتدائی پانچ دنوں میں 2 سو سے زائد کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔ تربت کے شھری علاقوں میں سب سے زیادہ آپسر اور جوسک ڈینگی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کیچ کے اقدامات کے سبب محکمہ صحت اور میونسپل کارپوریشن تربت نے علاقے میں ڈینگی وائرس کے تدارک کے لیے خصوصی اسپرے مہم کا آغاز کیا جہاں شھری علاقے میں روزانہ بنیاد پر اسپرے کیا جارہا ہے۔

محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر بابر نور کی جانب سے میڈیا سورسز کے سوالات پر بھیجے گئے معلومات کے مطابق اس سال کے ابتدائی 3 مہینوں میں تربت میں ڈینگی وائرس کے 356 مثبت کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ ڈاکٹر بابر بلوچ کے مطابق صرف اپریل کے پہلے ہفتے میں بالترتیب یکم اپریل کو 38 کیس 2 اپریل 31 کیس 3 اپریل 77 کیس 4 اپریل  59 اور 5 اپریل کو 64 مثبت کیس ریکارڈ ہوئے جن کی مجموعی تعداد 269 ہے جو تربت کے شھری علاقے میں بہت زیادہ تشویش ناک اضافہ ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق جنوری اور اپریل کے درمیان ٹوٹل 2976 افراد میں ڈینگی وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں مثبت کیسز کی تعداد 386 رہی جب کہ اپریل کے مہینے میں کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔ محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر بابر نور نے میڈیا زرائع کے سوال پر بتایا کہ جنوری 2024 میں 447 کیے گئے ٹیسٹ میں 29 کیس مثبت آئے جب کہ فروری میں 353 میں سے 39 مثبت کیس اور مارچ کے دوران 1197 افراد میں سے 318 افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص کی گئی۔

تربت میں ڈینگی وائرس کے تدارک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کے ردعمل میں صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی مناسب اقدام نہیں اٹھائے گئے اور نا ہی کسی پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتال میں ڈینگی وائرس یونٹ بناکر مریضوں کے علاج کا بندوبست کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عزیز دشتی یہ دعوی کرتے ہیں کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت میں آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے مگر اس میں ابھی ضرورت کے سامان موجود نہیں تاہم ڈیلی ایگل کیچ کی معلومات کے مطابق ٹیچنگ ہسپتال تربت میں قائم کرونا کے لیے مخصوص وارڈ کو ڈینگی کے لیے استعمال کرنے کا پلان بنایا گیا ہے لیکن یہ وارڈ بھی تاحال غیر فعال ہے حتی کہ اس میں موجود بیڈ پر مچھر دانیاں تک نہیں لگائی جاچکی ہیں۔

تربت شھر میں میونسپل کارپوریشن تربت ڈینگی وائرس اور ملیریا کے تدارک کے لیے اسپرے مہم شروع کرچکی ہے اس کے علاوہ ضلعی محکمہ صحت نے بھی اسپرے مہم کا آغاز کیا ہے۔ ڈی ایچ او کیچ کے مطابق اب تک 70 سے زیادہ مقامات پر اسپرے کیا گیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائرس کا خاتمہ اسپرے سے زیادہ ان کے لاروا کے خلاف اقدامات سے کیا جاسکتا ہے ان کے لاروا صاف اور کھلے پانی میں جنم لیتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کیچ نے ایک پیغام میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ڈینگی وائرس کے خلاف جنگ میں باشعور شھری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

دوسری جانب سرکاری سطح پر ڈینگی وائرس کے لاروا کی افزائش روکنے اور اس حوالے سے منظم منصوبہ بندی کا فقدان نظر آریا ہے، صوبائی حکومت یا ضلعی سطح پر محکمہ صحت نے تاحال ایسی کوئی ٹیم تشکیل نہیں دی ہے جو متاثرہ علاقوں میں ڈینگی وائرس کے لاروا کی افزائش کا جائزہ لے کر ان کے خاتمے کے لیے عملی اقدام اٹھائے تاہم ڈاکٹر عزیز دشتی کے مطابق محکمہ صحت کی ایک دو رکنی ٹیم نے اسلام آباد سے تربت آکر اسٹاف کو ضروری تربیت دی تھی اور یہ ٹیم آپسر اور جوسک میں سروے کے بعد سیمپل لے کر واپس گئی جہاں لیبارٹری میں ڈینگی وائرس کی تشخیص کی گئی اور وہاں سے ضروری ایس او پیز دیے گئے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین