جمعہ, مئی 24, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: حق دو تحریک بلوچستان کے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح، لوگوں...

تربت: حق دو تحریک بلوچستان کے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح، لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت، قائدین نے دست مبارک سے افتتاح اور خطاب کیا۔

آج حق دو تحریک بلوچستان (کیچ) کے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح کیا گیا۔ حق دو تحریک بلوچستان کے جہدکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ضلعی دفتر کا افتتاح مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، واجہ حسین واڈیلہ اور کیچ کے نگران ضلعی چئیرمین حاجی ناصر کے دست مبارک سے ہوا۔ افتتاح کے موقع پر ضلع کیچ اور گوادر کے عہدیداران و ذمہ داران کے علاوہ جہدکاروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

افتتاح کے موقع پر حق دو تحریک بلوچستان کے قائد مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور حق دو تحریک بلوچستان کے چیئرمین حسین واڈیلہ نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو وفاداری راس نہیں آتی، وہ ہمیشہ اپنے وفاداروں کو دباتی اور آنکھ دکھانے والوں کو عزت دیتی ہے، حق دو تحریک اسلام آباد کی مخصوص مائنڈ سیٹ کے خلاف جدوجہد کررہی ہے، اسلام آباد بلوچ کی خوشحالی سے خوف محسوس کرتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا استحکام بلوچ کی بدحالی میں ہے، وقت ثابت کرے گا کہ واجہ کاروں کا آدمی کون ہے، ہماری جدوجہد صرف اسمبلی کی کسی سیٹ کیلئے نہیں تاہم ہم پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں تاکہ قوم کو معلوم ہوسکے کہ حقیقی قیادت ایسی ہوتی ہے لوگ دیکھیں کہ حسین واڈیلہ اور دیگر نمائندوں میں فرق کیاہے، حق دو تحریک کا اگر ایک بھی ممبر اسمبلی میں موجود ہو تو پورا بلوچستان کا بارڈر کھل جائے گا اور ساحل پر ٹرالرز کا خاتمہ کردیا جائے گا، مکران سے 13 نمائندے پارلیمنٹ میں تھے مگر کسی نے کبھی آبادیوں کے اندر سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا، اب جب ان کی مدت ختم ہوچکی ہے تو وہ اب ایک بار پھر انقلابی بن رہے ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمن نے کہاکہ عوام خوف اپنے دل سے نکال دیں جمہوری مزاحمتی جدوجہد کا حصہ بنیں، اپنے حق کیلئے جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہاکہ گوادر میں ہمارے گھروں پر ایف سی اورپولیس نے آپریشن کیا، ہمیں زدوکوب کیاگیا، ہمارے گھروں سے اشیاء چرا کر لے گئے مگر سردار اخترمینگل کی جانب سے ایک بیان تک نہیں آیا، کیا گوادر کے عوام بلوچ نہیں ہیں، گوادر میں ٹرالرز یلغار کرتے ہیں ہمارے ماہی گیروں پر حملہ کرتے ہیں کوئی ہڑتال نہیں ہوتی۔ وڈھ میں 10 ایکڑ زمین پر جنگ ہے تو گوادر، تربت پنجگور میں ہڑتال کرائی جاتی ہے، ذاتی جنگ کو بلوچ کا مسئلہ بناکر پیش کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ ساحل اور بارڈر پر ہمیں آزادانہ کام کرنے دیا جائے تو ہم دبئی سے بھی آگے نکل جائیں گے یہ بارڈر اور ساحل بلوچ قوم کیلئے قدرت کا تحفہ ہیں مگر ہمارے لئے کاروبار کے دروازے بند ہیں کیونکہ اسلام آباد کی مائنڈ سیٹ ہماری خوشحالی سے خوف کھاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ عنقریب مند، تمپ، دشت، بل نگور، بلیدہ زامران میں جلسے کئے جائیں گے جس کے بعد تربت میں تاریخی جلسہ کیاجائے گا، دلی خواہش ہے کہ ایک لاکھ لوگ کیچ میں جمع کرکے ریاست کو پیغام دیں کہ ہم خیرات نہیں حق مانگتے ہیں۔ مند میں جلسہ کرکے کترینز روڈ کھولنے کیلئے الٹی میٹم دیں گے دیکھیں گے کہ کیسے ایف سی سڑک نہیں کھولے گی، کترینز روڈ بند کرکے مند اور دشت کے عوام کو بلاوجہ اذیت دی جارہی ہے۔

حق دو تحریک بلوچستان کے چیئرمین حسین واڈیلہ نے کہاکہ حق دوتحریک بلوچ مظلوم، بلوچ مزدور اور بلوچ نوجوان کی تحریک ہے حق دو تحریک فرقہ پرستی اور نظریات سے بالاتر ہے، جمہوری جدوجہد کے علمبردار ہیں، سیکورٹی کے نام پر 70 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود مستونگ جیسے اندوہناک سانحات کا رونما ہونا لمحہ فکریہ ہے، مستونگ سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ان واقعات کے ذمہ دار کب کٹہرے میں لائے جائیں گے، انہوں نے کہاکہ دیگر صوبوں کو آبادی کے لحاظ سے فنڈز ملتے ہیں مگر بلوچستان کو رقبہ کے لحاظ سے لاشیں دی جارہی ہیں، بلوچ کا بچہ پڑھے تو لاپتہ کردیا جاتاہے نہ پڑھے تو منشیات کی بھینٹ چڑھایا جاتاہے، مند گیاب میں پہاڑ پر سیکورٹی چیک پوسٹ قائم کردی گئی ہے نیچے آبادی ہے، ہماری ماؤں بہنوں کی عزت وحرمت پامال ہورہی ہے۔ زامران، ناصر آباد میں بھی ایسی چیک پوسٹیں ہیں مگر کسی نمائندے کو جرات نہیں کہ وہ پر لب کشائی کرے ہم اپنی ماؤں بہنوں کی عزت کی بات کرتے ہیں چاہے ہمارے سر قلم کردئیے جائیں۔ حق دو تحریک اٹھاؤ اورمارو جیسی لاقانونیت کوتسلیم نہیں کرتی، انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹیاں اب باقی نہیں رہے یہ سیاسی کلب بن چکے ہیں جن کے ہاتھ سرزمین اور ساحل وسائل کے سودا میں رنگے ہوئے ہیں، عوام ان کے پیچھے ہرگز نہیں چلیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے عوام پر بھروسہ ہے سہولت کاروں اور قوم کے سوداگروں کو تاریخ میں جگہ نہیں ملے گی، اب یہ جتنے نقاب اوڑھ کر میدان میں آئیں نوجوان ہوشیار ہیں انہیں پہچان لیں گے، قاضی مبارک زمین زاد تھا قوم نے اسے اپنا لیا۔

اجتماع سے حق دو تحریک کے مرکزی ترجمان حفیظ اللہ کیازئی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حق دو تحریک بلوچستان کے وارثوں کی تحریک ہے، یہ جمہوری مزاحمت کی تحریک ہے حق مانگنے سے نہیں ملتے بلکہ حق چھیننا پڑتاہے ہماری یکجہتی حقوق کے حصول کا ضامن ہے، حق دو تحریک کیچ کے رہنما صادق فتح نے کہاکہ حق دو تحریک بلوچ کی امید ہے، مولانا ہدایت الرحمن اور حسین واڈیلہ کی قیادت میں یہ تحریک عوام کی تحریک بن چکی ہے، صبغت اللہ شاہ جی نے کہاکہ حق دو تحریک نے بلوچستان میں سالوں سے طاری جمود کو توڑ دیا ہے، اجتماع سے عیسیٰ غمی نے بھی خطاب کیا جبکہ تلاوت قرآن پاک کی سعادت مولانا نصیر احمد نے حاصل کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض وسیم سفر نے سرانجام دئیے، دریں اثناء حق دو تحریک کیچ کے رہنما نوید نصیر نے مولانا ہدایت الرحمن کو ان کی پورٹریٹ بطور تحفہ پیش کیا، اجتماع میں حق دو تحریک کیچ آرگنائزر حاجی ناصر پلیزئی و دیگر رہنما شریک تھے، قبل ازیں حق دو تحریک بلوچستان کے قائد مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور مرکزی چیئرمین واجہ حسین واڈیلہ کے تربت پہنچنے پر حق دو تحریک بلوچستان کیچ کے ذمہ داران نے ان کا استقبال کیا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین