پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: جبری گمشدگیوں کے خلاف کیچ میں ایم ایٹ شاہراہ پر دھرنا...

تربت: جبری گمشدگیوں کے خلاف کیچ میں ایم ایٹ شاہراہ پر دھرنا دو مقامات پر دوسرے روز  بھی جاری، ادارے مذاکرات میں ناکام۔

ضلع کیچ میں لاپتہ نعیم رحمت کی عدم بازیابی کے خلاف شاپک اور عزیر بلوچ کی. جبری گمشدگی کے خلاف مسلسل دو دنوں سے ڈی بلوچ پوائنٹ پر ایم ایٹ شاہراہ بلاک کردیا گیا ہے۔ رواں مہینے بلیدہ سے جبری گمشدہ کیے گئے عزیر بلوچ کے لواحقین نے ڈی بلوچ کے مقام پر ایم ایٹ سی پیک شاہراہ کو بلاک کردیا ہے، دھرنے کے سبب تربت تا گوادر اور کراچی آنے اور جانے والی ٹریفک مکمل طور پر بند ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عزیر بلوچ کو باحفاظت بازیاب کیا جائے اور لواحقین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ عزیر بلوچ پر الزامات کو عدالتوں میں ثابت کیا جائے اگر ان پر جرم ثابت ہوا تو اسے عدالتوں کے زریعے سزا دی جائے اس طرح کسی کو لاپتہ کرنا کہاں کا قانون ہے۔

دوسری جانب شاپک کے مقام پر تربت تا کوئٹہ شاہراہ ایم-8 پر دو سال سے لاپتہ نعیم رحمت کی عدم بازیابی کے خلاف دوسرے روز دھرنا دیا جارہا ہے، خواتین مظاہرین لاپتہ نعیم رحمت کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس سے قبل رواں ماہ لاپتہ نوجوان کے اہلخانہ نے مذکورہ شاہراہ پر دھرنا دیکر انکی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا تاہم ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی پر انہوں نے چھ روز بعد اپنا دھرنا منسوخ کردیا تھا-

اہل خانہ کے مطابق تربت یونیورسٹی کے طالب علم نعیم ولد رحمت کو 2 سال قبل تربت شھر میں آٹوز سے فورسز نے گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا گیا تھا، جو تاحال منظرعام پر نہیں آسکے ہیں۔شاپک میں ایم ایٹ شاہراہ پر دھرنے میں دیگر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور علاقہ مکین شریک ہیں۔

اہل خانہ کے مطابق منگل کی صبح شرکا پر مشتعل افراد نے گاڑی چڑھانے اور دھرنے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تاہم خواتین اور بچوں نے دھرنا جاری رکھتے ہوئے نعیم رحمت کی باحفاظت بازیابی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

ایم ایٹ شاہراہ پر مسلسل دھرنا اور ٹریفک کی بندش کے باعث مریض اور عام مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جب کہ کوئٹہ اور کراچی جیسے بڑے شھروں کی ٹریفک بند ہونے سے ضلع کیچ میں سبزی اور خوردنی اشیا کے ساتھ ساتھ پھل فروٹ اور چکن کی قلت پیدا ہوتی جارہی ہے تاہم انتظامیہ اس سارے قضیے میں مسلسل تماشائی بنی ہوئی ہے اور مسلسل دو دنوں سے جاری مظاہرین کے پاس جانے کی زحمت تک نہیں کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ عوامی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں اور آل پارٹیز کیچ کے خاموش کردار پر بھی تنقید کی جارہی ہے آل پارٹیز یا سیاسی جماعتوں نے اس اہم انسانی معاملے میں کردار ادا کرنے کے بجائے ناہی مظاہرین کے پاس جاکر ان سے یکجہتی اور عوامی مفادات پر راستہ کھولنے کی اپیل کی ہے ناہی انتظامیہ کے پاس جاکر مظاہرین کا مسلہ حل یا ان کے ساتھ مزاکرات اور کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین