بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلوچستانتربت: بلوچستان نیشنل پارٹی اور بی ایس او کے زیراہتمام وڈھ کی...

تربت: بلوچستان نیشنل پارٹی اور بی ایس او کے زیراہتمام وڈھ کی کشیدہ صورتحال کے خلاف بی این پی کے ضلعی دفتر سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی کی قیادت بی این پی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن میر حمل بلوچ، نصیر احمد گچکی، نصیر احمدبگی، شے ریاض احمد، سیدجان گچکی، مجید دشتی ایڈووکیٹ، بی ایس او کے سیکرٹری جنرل ماما عظیم بلوچ، کرم خان بلوچ سمیت دیگر رہنما کررہے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر مختلف مطالبات درج تھے۔

تربت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن میر حمل بلوچ، نصیر احمد گچکی، سیدجان گچکی اورماما عظیم بلوچ نے کہاکہ جب بھی بلوچ سیاسی قوتیں مضبوط و منظم ہورہی ہوں تو انہیں کمزور کرنے کیلئے ریاست ہمیشہ غیر سیاسی عناصر اور ڈیتھ اسکواڈ کی سرپرستی کرکے انہیں میدان میں اتارتی ہے۔

بی این پی کی بھرپور جدوجہد کے بعد بلوچستان بھر میں بی این پی منظم سیاسی شکل میں سامنے آرہی ہے جس پر وڈھ میں اپنے گماشتوں کے ذریعے کشیدگی کا ماحول پیدا کرکے قائد بلوچستان سردار اخترجان مینگل کی جدوجہد اور کردار کو محدود اور متنازعہ بناکر انہیں مینگل قبیلہ کا سردار بناکر پیش کرنے کی مذموم سازش رچائی گئی ہے مگر بلوچ قوم ایسی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا ہم ان منصوبہ سازوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ سردار اختر جان مینگل تنہا نہیں ہے بلوچ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے بلوچستان کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں لیکن ہم جمہوری انداز میں عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے ان سازشوں کو ناکام بناکر بلوچستان کے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے اپنی جد وجہد کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جب بھی حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں، الیکشن قریب ہوں یا سیاسی قوتیں عوام میں پذیرائی حاصل کررہی ہوں تو ریاست اپنے پالے ہوئے گماشتوں اور ڈیتھ اسکواڈ کو متحرک کرکے میدان میں لاتا ہے بلوچستان میں بار بار ایسے حربے اور ہتھکنڈے آزمائے گئے ہیں اور انہی پالیسیوں نے بلوچستان کے حالات کو اس نہج تک پہنچایاہے کہ آج بلوچستان میں خواتین بھی خودکش حملے کررہی ہیں۔ اب اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے سیاسی قوتوں کو منظم ہونے کا موقع فراہم کیاجائے کیونکہ سیاسی استحکام کے بغیر امن وامان کا قیام اور معاشی استحکام ناممکن ہے۔

انہوں نے کہاکہ سردار اخترجان مینگل محض ایک قبیلہ کا سردار نہیں بلکہ وہ بلوچ اور بلوچستان کا لیڈر ہے، قبائلی جنگ کا شوشہ چھوڑ کر بلوچ قوم کو تقسیم کرنے کی کسی بھی سازش کا ڈٹ کرمقابلہ کیاجائے گا کیونکہ سابقہ ادوار میں بھی قبائلی جنگوں کی آڑ میں بلوچ قوم کوبہت نقصان پہنچایا گیا ہے انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ڈیتھ اسکواڈ کی سرپرستی چھوڑ کر انہیں غیرمسلح کریں اور اس دھندہ کو اب بند کیاجائے۔
مظاہرہ میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بی این پی کیچ کے ڈپٹی آرگنائزر شے ریاض احمد نے سرانجام دئیے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین