پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومتجزیہبی این پی کے جلسے؛ کامیابی و خامیوں کا جائزہ

بی این پی کے جلسے؛ کامیابی و خامیوں کا جائزہ

تحریر: ظریف رند

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی 8 جولائی کے مظاہرے مجموعی طور پر کامیاب رہے، کامیاب احتجاج منعقد کرنے پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ البتہ جماعت نے توانا مظاہروں کو ازخود ناکام بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ خامیوں کی نشاندہی کرینگے مگر پہلے کامیابی کا جائزہ لیتے ہیں۔

بی این پی کا 3 جولائی کا پیہہ جام بری طرح پِٹ گیا۔ ناکامی کی ایک اہم وجہ پارٹی کا کئی سالوں سے سیاسی عمل سے دوری ہے۔ سیاسی عمل سے میری مراد جمہوری مزاحمت۔ بی این پی اب وہ پارٹی نہیں رہی جسکی قیادت شہید حبیب جالب کیا کرتے تھے۔ جب بلوچستان پر برا وقت آیا تو ایک ایک کرکے جماعت کے تمام زردار رہنما باہر نکل لیئے، اس وقت حبیب جالب ہی تھے جو تادمِ شہادت جلسہ جلوس و ریلیاں کرتے رہے۔ انکی قتل کے بعد بی این پی کی سیاست کو جیسے بریک لگ گیا۔ پارٹی کے روایتی کیڈرز ٹھیکیدار بن گئے جبکہ نومولود کیڈر کاٹن زیب تن کرنے، ہاتھوں میں تسبیح اور ڈنڈے اٹھاکر ہلڑبازی کو ہی سیاسی عمل سمجھ بیٹھے۔ وہ یہ مان بیٹھے کہ صرف سردار جان کی تقریریں تمام ضرورتیں پوری کر رہی ہیں لہٰذا انہیں مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں کسی رہنما نے بتایا ہی نہیں کہ شہید حبیب جالب کے آدرش یہ کبھی نہیں تھے۔

بہرحال برسوں پریکٹس سے دوری کی سبب بی این پی کے کارکنان سیاسی مزاحمت کے پیچ و تاب کی جانکاری سے محروم رہ گئے تھے۔ 3 جولائی کو حسبِ روایت کرسی لگا کر سڑک پر بیٹھ گئے، جس راہگیر نے راستہ مانگا تو ڈنڈے دکھا دیئے۔ اسی دوران ایک خاتون کی فریاد و زاری کرتی ویڈیو وائرل ہوگئی جسکے بعد پارٹی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صفائی دینے مرکزی قیادت بھی میدان میں اتر آئی مگر رائتہ اتنا پھیل چکاتھا کہ صفائی کارگر ثابت نہ ہوپائی۔ بالآخر حسبِ خصلت پارٹی نے تنقید کرنے والوں کو ڈیتھ اسکواڈ قرار دیکر اپنے ورکروں کو اطمینان کی گولی دے ڈالی۔

مذکورہ بالا پریکٹس کی ناکامی نے 8 جولائی کے احتجاج کو کامیاب بنانے کا راستہ ہموار کرلیا۔ اس میں یقیناً پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ، غلام نبی مری صاحب اور رہنما ٹیم کا متحرک کردار واضح نظر آیا۔

اب آتے ہیں خامیوں کی جانب کیونکہ مذکورہ احتجاج کی خامیاں بھی اتنی بڑی تھی جنہیں درگزر نہیں کیا جا سکتا۔ بی این پی نے طویل عرصے بعد بلوچستان میں سیاسی پاور شو کیا ہے۔ اور یہ پاور شو پارٹی اعلامیہ کے مطابق ڈیتھ اسکواڈز، بالخصوص شفیق مینگل کے خلاف تھا۔ مگر مظاہروں کی تقاریر سنیں یا بعد اَز ریلی سوشل میڈیا پر سیلیبریشن دیکھیں تو سارا بیانیہ اپنی حریف جماعتوں کے خلاف پیش کیا گیا۔ زیادہ تر فوکس حق دو تحریک اور نیشنل پارٹی کو پچھاڑنے میں نظر آیا۔ جبکہ ڈیتھ اسکواڈز کے خلاف بلند نعرہ نچھلی سطح پر دیکھا گیا۔ جس سے بڑی قوت بھاپ کی مانند تحلیل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

بی این پی، مسلح جھتوں کے خلاف جس بیانیہ کے گرد تحریک چلانے کا الم بلند کرچکی ہے، اس بیانیہ کی اگر اس طرح نفی کی گئی تو جماعت کی اپنی ساخت کیلئے بڑا نقصاندہ ہوگا کیونکہ اس طرح کرنے سے پبلک میں پس پردہ دیگر عزائم کی شکوک و شبہات جنم لیں گی اور بجائے مسلح جھتوں کو شکست دینے کے آپس میں دست و گریبانی کا لاحاصل سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

یہ تنقید پہلے سے بی این پی پر موجود ہیکہ جب ایک دہائی سے زائد کی جمود کے بعد سانحہ برمش ہوا تو بلوچ نوجوان بھرپور انداز میں سڑکوں پر امڈ آئے، مسلح جھتوں کو ایک حد تک پچھاڑ کر رکھ دیا گیا مگر بی این پی چونکہ ان دنوں نئی نویلی حکومت کی جانب رخصت ہوگئی تھی تو انہوں نے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔ آج جب انکی اپنی جان پر بن آئی ہے تو چیخیں ہر طرح سے نکل رہی ہیں۔

آج یہ وقت نہیں ہیکہ اس موقع کو بھی ایک بار پھر زائل ہونے دیا جائے۔ مسلح جھتے نا صرف بی این پی بلکہ قومپرستی کی دعویدار تمام جماعتوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ اسلئے بی این پی کی زمہداری بنتی ہیکہ وہ پہل کرکے تمام قومپرست سیاسی جماعتوں کی مشترکہ اجلاس طلب کرے، اور ملکر مسلح جھتوں کے خاتمہ کی تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے منطقی انجام تک پہنچا دے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین