جمعہ, مئی 24, 2024
spot_img
ہومبلوچستانبلوچ یکجہتی کمیٹی نے کل بروز جمعہ بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال...

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کل بروز جمعہ بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال دیدی، مخلتف مقامات پر شاہراہیں بھی بند ہونگی

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں ‏کہا ہیکہ کل بروز جمعہ بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہے گا، تربت، کراچی و حب کو زیرو پوائنٹ کے مقام سے جبکہ کوئٹہ روڈ کو فورٹ منرو کے مقام سے بند اور مختلف مقامات پر روڈ بلاکس، احتجاجی مظاہرے کیے جایئنگے۔ 

پریس ریلیز میں کہا گیا ہیکہ اسلام آباد میں بلوچ ماؤں اور بہنوں کے ساتھ ریاست نے جو سلوک روا رکھا وہ بلوچ قوم تاابد یاد رکھے گی۔ جس طرح بزرگ، بچوں اور ماؤں کو تشدد کا نشانہ بناکر جیل میں بند کر دیا گیا ہے یہ صرف ریاستی دہشتگردی نہیں بلکہ بلوچ قوم کے خلاف ریاستی نفرت کا بھی اظہار ہے۔ بلوچ لوگوں سے ریاست کی نفرت کا اندازہ یہ ہے کہ ایک پرامن لانگ مارچ جس کے شرکا 16 سو کلومیٹر کا سفر طے کرکے اسلام آباد پہنچے تھے تاکہ اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائی جائیں ریاست نے انہیں ہی لاپتہ کر دیا ہے۔ اس وقت ڈاکٹر ماہ رنگ، سائرہ، ماہ زیب درجنوں خواتین و بچوں سمیت سینکڑوں نوجوان اسلام آباد سے لاپتہ کیے گیے ہیں اور ان کے حوالے سے کسی کو بھی علم نہیں کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ پورا بلوچستان اس وقت نفرت کی آگ میں جل رہا ہے اور ریاست سے نفرت مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ 

ریاست نے ایک مرتبہ پھر بلوچوں پر واضح کر دیا ہے کہ ریاست کے سامنے بلوچوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ان کے کوئی شہری و آئینی حقوق نہیں ہیں اور ریاست بلوچوں پر واضح کر رہی ہے کہ وہ اس ملک میں پرامن احتجاج کا  بھی حق نہیں رکھتے اس لیے انہیں احتجاج کی پاداش میں شدید تشدد اور جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بیٹھے ہوئے ماؤں اور بہنوں سمیت تربت سے لانگ مارچ کی صورت میں آئے ہوئے خواتین اور بچوں پر شدید تشدد کرکے ریاست نے بلوچوں اور اپنے درمیان رشتے کو ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے۔ ریاست سمجھتی ہے کہ قتل و غارت گری اور جبری گمشدگی سے وہ بلوچستان کو فتح کر  لے گی جو کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔ 

انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ریاست کی جانب سے پرامن اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے خلاف ریاستی کریک ڈاون کے خلاف آواز اٹھائیں اور بلوچ قوم کی اس مشکل وقت میں شاتھ دیں۔ ریاست اس وقت بلوچ قوم کے خلاف جابرانہ اور نسل کشی پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ 

اسلام آباد میں ریاستی دہشتگردی کے خلاف اور اسلام آباد سے تمام مظاہرین کی باحفاظت رہائی تک کل کراچی حب اور لسبیلہ کے درمیان زیرو پوائنٹ کو تمام آمد و رفت کیلئے بند کیا جائے گا جبکہ پنجاب و بلوچستان روڈ کو فورٹ منرو کے مقام پر بند کیا جائے گا۔ جبکہ کل تربت میں صبح 10 بجے شہید فدا احمد چوک سے ایک ریلی نکالی جائے گی۔ اسی طرح یہ احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بلوچستان بھر میں پھیلا دیا جائے گا۔ دیگر علاقوں میں ہونے والے احتجاج و مظاہروں کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین