بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومتجزیہبلوچ سماج کی اساس اور اس کا دفاع 

بلوچ سماج کی اساس اور اس کا دفاع 

تحریر: فرید مینگل

کرد قومی تحریک کے رہنما عبداللہ اوکلان کے نظریہ، پروگرام اور حکمت عملی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریوں کے خلاف ”ڈیموکریٹک کنفیڈرلزم“ کا جو خیال انہوں نے پیش کیا ہے وہ کسی حد تک متاثر کُن تو ضرور ہے۔ مگر اوکلان کا سرمایہ داری جبر سے بچنے کا چَھلانگی انارکسٹ اپروچ قابل تنقید بھی ہے۔

اوکلان جان کا خیال ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جو حکمت عملی سوشلسٹ فلاسفرز و سیاسی ساٸنسدانوں نے اپنائی ہے وہ سرمایہ داری کے خاتمے کےلیے ناکافی ہے لہٰذا سرمایہ داری کو دھتکارنے کےلیے مقامی سطح کی تنظیم و تنظیم کاری کی ضرورت ہے جو کہ ”منافع جاتی مارکیٹ اکانومی“ ، ”نیشن اسٹیٹ کی زور زبردستی“ اور جدید سرمایہ دارانہ طرز کی ”شہری آباد کاری“ سے پاک و خالص ہو۔

اوکلان کی پنج جِلدی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوٸے میرے ذہن میں یہ سوال ابھرتا رہا کہ آیا ایسا کوٸی سماج، کُھڈی اوتھارو (رہائش گاہ)، گھرانہ آج کے عہد کے ”قومی ریاستوں“ کے اندر ہوتے ہوٸے سرمایہ داری کی تباہ کاریوں سے بچ سکتا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے۔۔۔؟ ایسا ممکن بھی کیسے ہو سکتا ہے قومی ریاستیں سرمایہ داری سے آگے کی جست لگا کر استعماری شکل میں ڈھل چکی ہیں۔ یہ سوالات ذہن میں اٹھتے رہے اور میں خود سے لڑتا رہا۔

جدلیاتی مادیت کا مَنّتِشی ہوکر معیار و مقدار اور معیاری جست کے تحت میں معجزوں پر بھی یقین کرتا ہوں اور پھر 

وطن بلوچستان ہو، بلوچ دھرتی کا فرزند ہو تو پھر وطن خود اپنے اندر سے جواب دے ہی دیتا ہے، بس تھوڑی بیٹوں جیسی فرمانبرداری کی مانگ کرتا ہے۔ ارے آپ کا وطن تو پوری انسانیت کے سوالات اپنی بھومی میں رکھتا ہے جب انسانیت کو انسانیت کی پہلی منظم آباد کاری کا سوال درپیش ہوا تو بلوچ وطن نے اپنے سینے سے مہرگڑھ ہمارے لیے اتار بیٹھا اور انسانی تاریخ کا دھارا درست راہ کی جانب موڑ ڈالا۔

ایسے ہی مجھ پر بھی ایک طرح کا معجزہ وطن ھنکین نے کر ڈالا، ڈیہہ ساروڑَو میں گھوم کر ماٹی اور مَش پتھر کو سجدہ کرتے ہوٸے کوڑیانک کارو جُھر کے مقام پر ایک ایسی بلوچ بستی میں جانا نصیب ہوا کہ جسے سرمایہ دارانہ نظام کی خرافاتوں نے اب تک نہیں چھوا ہے۔ وہ اتنا پاک پوتر ہے کہ اب تک وہاں شہری آباد کاری کا بنیادی خلیہ ”کمرہ“ بھی نہیں پہنچا، وہ آج بھی ”بَشِی“ نامی گدانوں (خیموں) میں جی رہے ہیں۔ عورت وہاں نام نہاد ننگ و ناموس کے نام پر چادر و چار دیواری کے اندر مُقید نہیں بلکہ آج بھی ”نیاڑی“ یعنی عورت مرد کے ساتھ بیٹھ کر پُروقار انداز میں فاتحہ وصول کرتی ہے، خْوشّامدی (مزاج پرسی) کرتی ہے۔ نوحہ و ماتم سے اسے کوٸی مُلا کوٸی قباٸلی ڈگر و ٹکر منع نہیں کرتا بلکہ وہ کُھل کے ماتم کرتی ہے، خوش گُلو انداز میں ”مودہ“ (نوحہ) لیتی ہے، گنگناتی ہے۔ مرد لالچ و ہوس میں نہیں ڈوبا ہوا بلکہ وہ دھڑلے سے اپنی داستان سناتا ہے، وہ اپنی لاٸقی و نالاٸقی پر بات کرتا ہے، وہ گلہ کرتا ہے، شکوہ کرتا ہے، وہ زبان دیتا ہے زبان پر قاٸم رہتا ہے، تکلیف جھیلتا ہے، اسے اپنی ضرورت سمجھتا ہے۔

( میں بنیادی انسانی ضرورت سے محروم اس بدحالی کے حق میں ہر گز نہیں، بنیادی سہولیات سے محروم کردہ ان لوگوں کی حالت زار اور ذمہ داران پر میں پہلے اظہار کر چکا ہوں، لیکن یہاں میری بحث کی بنیاد کچھ اور ہے)

میرے خیال میں یہ ہو بہو اسی سماج کی پسماندہ ترین شکل ہے جس کا خیال واجہ اوکلان نے پیش کیا ہے۔ اب سرمایہ داری و اس کی کوکھ سے جنم لینے والی ریاستی جارحیت سے اس سماج کا تحفظ کیسے ممکن ہو سکتا ہے، اس کو اس کی اسی حالت میں سرمایہ دارانہ خرافات سے بچاتے ہوٸے پست سے اعلٰی ترین سماج کی جانب کیسے لے جایا جا سکتا ہے؟ بحث یہی ہے، مدعا یہیں پر ہے۔

اس کا جاٸزہ ہم باقی سماج کے تحت لیں تو اس کی تصویر کشی کچھ یوں ہو پاٸے گی۔

بلوچ اشرافیہ، افسر شاہی، بلوچ مڈل کلاسی موقع پرستی پر محبت فقیر کے در سے محبت فقیر کے عجیب و غریب مَلنگ و شاہ نورانی کے پیٹ لٹکاتے خُلفا کی ہزار لعنتیں بے شمار پھٹکار و دھتکار، بلوچ اشرافیہ اس گدانی بلوچ کا خدا بَن بیٹھا ہے، افسر شاہی ریاستی طاقت کے گھمنڈ و رشوت میں ایسے غرق  ہے کہ اس کی گردن میں آٹھ سوتی سریا اُگ چکے ہیں وہ انسانی سلام و فہم بھی نہیں رکھ سکتی، بلوچ متوسط طبقے کے سر پر تو جدید شہر و یورپ کا بھوت سوار ہے، وہ موقع پرستی میں اتنا ڈوب چکا ہے کہ اسے ہر بات کی جلدی ہے، سیاست و مسلح محاذ ہر سطح پر جلد باز ہے، وہ جلد بازی میں سب کچھ تہس نہس کرنے پر راضی ہے، وہ جلد بازی میں قربانی و اجتماعی خود کشی کے فرق تک کو بھول چکا ہے، سیاست، سیاست کی اہمیت کو وہ فقط طاقت کے حصول تک محدود کر کے اس کی توہین کر رہا ہے۔ وہ سیاست کو حکمت عملی، منشور و پروگرام سے ماورا کر چکا ہے۔

تلخ انقلابی جدوجہد کو گلے لگانے کے بجائے صرف ایک "خُمار و کشش” کے رجحان کو محور بناکے اسے انقلابی سیاسی عمل کا نام نہیں دیا جاسکتا، شہید بھگت سنگھ کے ہندوستان کو اسی سطحی سیاسی عمل نے مودی و شوردی زدہ کر ڈالا ہے ہماری خیر مرشد مست کے ہاتھ ہو۔

لیکن یہ جو پاک پوتر گدانی خلقت (کوہستانی آبادی) ہے یہ آج بھی اپنے اندر انسانی اقدار رکھتی ہے، بلوچ تشخص و بلوچ ثقافت رکھتی ہے۔ وہ حرص و لالچ میں اس قدر مبتلا نہیں، اس کے قول و فعل میں تضاد نہیں، اس نے اپنے لَج و مَیار (کوڈ آف کنڈکٹ) کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ لوگ شہری دوغلا پَن نہیں رکھتے۔ موقع پرستی و حرص و لالچ سے کسی حد تک بچے ہوٸے ہیں۔ ایک قباٸلی جنگ کے دوران کی ان تمام انسانی خصوصیات کی داستان تو سنیں ذرا۔۔۔!

یہیں اسی علاقے میں ایک زمانے میں بھوتانی و مینگل قبیلے کی جنگ ہوٸی تھی، شہید حاجی عبدالرحمٰن دینارزٸی مینگل اپنے ان ہی گدانی مگر لَج و مَیاری (کوڈ آف کنڈکٹ کے پابند) بلوچوں کے ہمراہ اس جنگ میں شرکت کی، بھوتانی قبیلے کے لوگ پہلے سے کسی چوٹی پر مناسب مورچوں میں موجود تھے، انہیں جنگی حوالے سے مناسب مورچے لینے ہی تھے۔ لشکر ترتیب دیتے ہوٸے شہید نے اندازہ لگایا کہ چوٹی پر پہنچنے کےلیے کچھ ساتھیوں کو آگے جانا ہے مگر اوپر چوٹی پر مسلح لوگوں سے مورچہ چھیننا کوٸی آسان کام نہیں تھا، لہٰذا گولیوں کی بوچھاڑ میں آگے بڑھنے کی حکمت عملی حاجی شہید نے ترتیب دی، دورانِ جنگ کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ آگے بڑھنے کا مشورہ دیا اور کچھ کو پیچھے کَوَر دینے کا حکم دیا۔ لیکن کَوَر دینے والوں میں سے کچھ کو کہا گیا کہ پوزیشن لو مگر اپنی پوزیشن سے ہٹنا نہیں ہے۔

صبح سویرے شہید حاجی لشکر لے کر آگے بڑھ گیا، چوٹی پر پہنچ کر باقی کَوَر دینے والوں کو ہَکّل دی کہ اب تم لوگ بھی اوپر چڑھ آٶ، باقی ساتھیوں نے اعلان سنا اور اوپر چلے گٸے، مگر کوڑیانک سے تعلق رکھنے والا رسول بخش دینارزٸی یہ نہیں سُن پایا، دن بھر جنگ چلتی رہی، شام کو جب فاٸرنگ کا سلسلہ تھم گیا تو اسی وقت حاجی شہید نے رسول بخش کے متعلق استفسار کیا، پتہ چلا کہ وہ تو موجود نہیں، شہید کو لگا کہ ساتھی یا تو شدید زخمی ہے یا پھر مار دیا گیا ہے۔ لہٰذا دو دوست جا کر اُس کا پتہ کریں، جب وہاں پہنچے تو دیکھا رسول بخش سنگر (مورچہ) لیے اب بھی بیٹھا ہے مگر گرمی و پیاس و بھوک کی شدت سے اس کی حالت غیر ہے، صبح صادق سے لے کر مغرب تک اس نے نہ کچھ کھایا تھا نہ پیا تھا دوسری جانب دھوپ و شدید گرمی۔ پانی پلا کر جب اسے کیمپ تک پہنچایا تو حاجی شہید نے پوچھا کہ حاجی رسول بخش آپ کیوں ہمارے ساتھ نہیں آٸے؟ تو جواب دیا کہ صبح آپ نے خود کہا تھا کہ کوَر دینے والوں میں سے کوٸی ساتھی اپنی جگہ نہیں چھوڑے گا اور میں اسی کی پاسداری میں بندوق تھامے بیٹھا رہا۔ 

ایک اور جنگ میں مورچہ بندی ہوٸی شدید جھڑپ میں کسی نے مخالف لشکر کے ایک بندے کو گالیاں بَکنی شروع کردیں، شہید حاجی عبدالرحمٰن نے گالی بَکنے والے اپنے ساتھی کو ڈانٹتے ہوٸے کہا کہ گالی مَت دو اسے، کہ خواتین ہم سب کی ایک ہیں اگر مار سکتے ہو تو ماتھے پر بھلے گولی ہی مار دو۔

یہ ہیں وہ اعلیٰ ظرف، ثقافت و اقدار جو ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں اسی مخلوق کے ذریعے قاٸم ہیں۔ بلوچ کا یہ طبقہ وطن، ثقافت، تاریخ، اقدار، ڈیہہ و کوچہ، پہاڑ و میدان کا رکھوالا ہے۔ یہ طبقہ بھوک، پیاس، بزگی، بدحالی، بیماری سب کچھ جھیلتا ہے مگر وطن نہیں چھوڑتا، اپنی زمین، ھنکین نہیں چھوڑتا۔ اپنی روایات، لج و میار، ثقافت و تاریخ نہیں بھولتا نہ ہی بھولنے دیتا ہے۔ یہ طبقہ روایات کا پاسدار ہے، امانت دار ہے، قول کا پاسدار ہے۔ سب سے بڑھ کر حرص و لالچ اور جلد بازی سے پاک و ماورا ہے۔اس طبقے کا فرد زندگی میں ایک بار شہر دیکھے یا نہ دیکھے مگر اپنے وطن کا پتھر، پہاڑ، کُنب دَمب (آثار قدیمہ) گھومتا ہے انہیں اپنے حافظے میں رکھتا ہے، ہر ہر شے ہر ہر نشانی کو یاد رکھتا ہے اور اسی کو اپنے آگے آنے والی نسل کو منتقل کرتا ہے۔ یہ طبقہ برداشت کی معراج پر ہے، حوصلہ و ہمت کا ریجھٸی پہاڑ ہے، انتظار کرنے پر تو مکمل قابو رکھتا ہے۔ اس طبقے کے اندر وہ تمام تر صفات موجود ہیں جو کسی بھی امپیریل و کالونیٸل طاقت کو منتشر کرنے اور بکھیرنے کےلیے ضروری ہیں۔

 دشمن نے اپنی ساری تھنک ٹینک، اسٹریٹجی و طاقت بلوچ سماج کو سمجھنے میں لگائی اور وہ بلوچ کی تمام طاقت اور کمزوریوں کا جاٸزہ لیا ہے، اسی کے تحت وہ بلوچ کے خلاف صف بندی کی ہے۔ اسے اندازہ ہو چکا کہ بلوچ سماج کی مضبوط بنیاد و طاقت یہی گِدانی طبقہ ہے اور اسی کو کسی بھی طرح کرکے توڑنا، کمزور کرنا، مسخ کرنا اور تباہ کرنا ہے۔

 ریاست و استعمار نے بلوچ کی اس مضبوط بنیاد و ابتدائی طاقت کو سمجھ کر اپنی پارلیمانی و ڈیتھ اسکواڈ کے لشکر سمیت پوری کی پوری ریاستی مشینری اسی طبقے کو تباہ کرنے میں لگاٸی ہوٸی ہے اور مزید اس لَج و ثقافت و ان اقدار کو مسخ کرنے کی کوشش میں ہے۔ ریاست نے ہماری اشرافیہ کی سودا گِری و بزدلی، افسر شاہی کی لالچ و غلامی اور مڈل کلاسی موقع پرستی کو جانچ لیا ہے۔ اشرافیہ سودے باز ہے، وہ تاریخ، مَیار، لَج و ثقافت، زمین و ضمیر، ننگ و وطن سب کچھ بیچ دیتی ہے۔ افسر شاہی تو غلام و ماتحت اور سب سے بڑھ کر لالچی ہے، اسے حرام خوری کرنے دو وہ بدلے میں دلالی سمیت سب کچھ کرتی ہے۔

مڈل کلاس کی موقع پرستانہ نفسیات اور موقع پرستی کے اندر پھر جلد بازی کا اب گزشتہ دو دہاٸی کے اندر دشمن کو خوب خوب اندازہ ہو چکا ہے۔ مڈل کلاس بلوچ قیادت ایک طرف جَلد باز ہے تو دوسری طرف موقع پرست بھی، اسے آج بھی امریکی و یورپین استعمار پر بھرپور بھروسہ ہے تو دوسری جانب ان ہی کے طرز عمل پر سرمایہ دارانہ نظام کا خواہاں بھی ہے۔ مڈل کلاسی نفسیات ان گدانی بلوچوں سے کوسوں دور ہے، گدانی بلوچ بھوک، پیاس، بزگی، بدحالی کے باوجود وطن کا اپنے ہنکین کا باسی رہتا ہے، وہ بلوچ وطن بالخصوص اپنے حلقے کو چھوڑنے پر کسی بھی قیمت راضی نہیں ہوتا، وہ زندہ رہنے کی قیمت مسلسل ادا کرتا ہے اور تکالیف و مصاٸب میں زندہ رہنے کی، زندگی کا سامنا کرنے کی جرأت و ہمت رکھتا ہے، وہ موت سے نہیں ڈرتا خوفزدہ نہیں ہوتا مگر موت کو ہم مڈل کلاسیوں کی طرح بطور شارٹ کَٹ اور جان چُھڑاٸی کےلیے ترجیح نہیں دیتا۔ ہم مڈل کلاسی دیہاتی مصاٸب سے بیزار ہو کر اپنا ڈیہہ و ہنکین (آبائی علاقہ) چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتے ہیں، جو زیادہ طاقت رکھتے ہیں وہ تو وطن ہی چھوڑ جاتے ہیں، علاقے میں رہنا ہی ان کے بس میں نہیں ہوتا تو وطن کا دفاع وہ کیسے کریں؟ وطن کے خمار میں ہم رہتے تو ضرور ہیں مگر وطن میں زندگی گزارنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں، اسی لیے آج بلوچ مڈل کلاسیوں کے ذہن پر یورپ یا پھر کم از کم پاکستان کے اندر بڑے بڑے شہروں میں بسنے کا بھوت سوار ہے۔ جب کہ یہ گدانی بلوچ یہیں وطن میں اذیتیں گزارے جا رہا ہے، وہ ہم مڈل کلاسیوں کی طرح تھکتا نہیں ہے، وہ جھکتا اور بِکتا نہیں ہے۔ بلوچ مڈل کلاس سیاسی لیڈرشپ نے ان عام بلوچوں کو پارلیمانی و ڈیتھ اسکواڈی بھیڑیوں، درندوں کے سامنے نہتا پھینک ڈالا ہے۔

بلوچ سیاست پارلیمانی و غیر پارلیمانی سطح پر ان کے اساس کے تحفظ کا کوٸی پروگرام کوٸی تنظیمی حکمت عملی و تنظیم کاری میں اب تک کامیاب نہیں ہے۔ پارلیمانی جماعتیں تو دو قدم آگے بڑھ کر ریاست، ریاستی بیانیہ، مراعات کی لالچ دے کر ان کو کرپٹ کرکے لالچی اور بکاٶ بنانے کی بھرپور کوشش میں ہیں، جب کہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈز اور گملے میں پلنے والے مصنوعی سیاسی گروہ ان کو لالچی و حریص بنانے کے ساتھ ساتھ دھونس، دھمکی جبر و قتل و غارت سمیت تمام تر ریاستی مشینری استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب بلوچ مسلح قیادت جو اوپر بحث میں لائی گئی مڈل کلاسی نفسیات کا ازخود شکار بھی ہے، وہ بلوچستان کے اس گدانی بلوچ کو سَنگر کرکے اس کی حفاظت میں اب تک کامیابی سے دوچار نہیں۔ ایک طرح سے ریاست و ریاستی مسلح لشکر کو اس گدانی بلوچ تک پہنچانے کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہرگز نہیں۔ وہ گوریلا جنگ سے تھک کر چند جوانوں کے فداٸی کے شعوری فیصلے پر جلدبازی میں عمل پیرا ہوکر بھی ان گدانوں کے دفاع سے دور ہے۔ بلکہ کچھ پالیسیوں کی بدولت ریاستی مسلح لشکر کو یہاں پہنچانے اور ان کے سامنے لانے کا سبب بنا ہے۔

ریاست نے مذہب کے ذریعے بھی اس طبقے کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ہر جگہ تبلیغی یلغار ہے ہر جگہ مذہبی ادارے و انفراسٹرکچر موجود ہیں۔ پھر مذہبی یلغار تو سب سے خطرناک یلغار ہے جسے عام گدانی بلوچ اپنے خلوص و نیک نیتی کی بدولت سمجھ نہیں پاتا اور ان کے نرغے میں آ ہی جاتا ہے۔

یقیناً جب ریاست ہاتھ میں نہ ہو، بزگی بدحالی و غلامی دو سو سالہ ہو، تحفظ کےلیے نظریہ، تنظیم، پارٹی، سیاسی پروگرام، حکمت عملی سمیت تمام تر دفاعی اوزار میسر نہ ہوں تو پھر کسی نہ کسی دن اس طبقے نے بھی تباہ ہونا ہی ہے۔ اس کی تباہی پھر بلوچ اساس، بلوچ مَیار و ثقافت، روایات و تاریخ، شناخت و مزاحمت سمیت مجموعی طور پر بلوچ کی تباہی ہوگی۔

ایسے میں اس طبقے کا تحفظ ضروری ہے۔ اور یہ تحفظ یورپ یا پھر خلا سے جاری کردہ کسی پروگرام و حکمت عملی اور سوشل میڈیاٸی ٹرینڈ و پوسٹر بازی کے تحت نہیں ہوگا، نیشنلزم کو طوطے کی طرح رٹہ لگانے سے بھی اس کا دفاع ممکن نہیں، یا پھر شال کے بلدیہ و ڈیفینس ہوٹل پر بیٹھ کر دانشوری جھاڑنے، بند کمروں میں بیٹھ کر محض لفاظی سے ممکن ہوگا اور نہ ہی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی طرح بِنا منشور و پروگرام اور بغیر تنظیمی اسٹرکچر کے فقط جلسہ جلوس سے اس گدانی اکثریتی بلوچ کا تحفظ ہو پاٸے گا۔

اس کے دفاع کےلیے سب سے پہلا اور ضروری کام اسی طبقے کے اندر رہنے، یہیں پر بسنے، یہیں سے تنظیم و تنظیم کاری کرنے اور یہیں سے سیاسی پروگرام و حکمت عملی تشکیل دینے سے ممکن ہو پاٸے گا، تبھی اس طبقے کو عام فہم میں عام بلوچ کو ریاستی مشینری و بیانیہ، ڈیتھ اسکواڈی خوف و لالچ اور پارلیمانی رشوت خوری و موقع پرستی سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس کےلیے ضروری ہے کہ اپنی تمام تر موقع پرستانہ و سودا گیرانہ نفسیات و طبیعت کو چھوڑ کر اسی طبقے کے نفسیات اس کے معیارات کو اپنائے جائیں اور انہیں ان ہی کی طبیعت و نفسیات کے تحت منظم کیا جاٸے۔ اور یہ کام طویل المدتی ہو، دیرپا مگر نٸے سماج کی تشکیل کےلیے ہو، نوآبادیت و استعماریت کے خاتمے کےلیے ہو، سب سے بڑھ کر اس گدانی بلوچ کی آزادی کےلیے ہو۔ استحصال و یلغار سے پاک بلوچ سماج کےلیے ہو۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین