بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومپاکستانبلوچ خواتین کی مزاحمت؛ یہ سوپر ہیومن کوالٹی ہے۔ ڈاکٹر مھرب معیز...

بلوچ خواتین کی مزاحمت؛ یہ سوپر ہیومن کوالٹی ہے۔ ڈاکٹر مھرب معیز اعوان

معروف ٹرانس جینڈر رائٹس ایکٹیوسٹ ڈاکٹر مھرب معیز اعوان نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لانگ کے شرکا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ عورتوں کی مزاحمت ہمارے لیے مشعل راہ ہے، تلخیوں کے باوجود اپنی استقامت بھری جدوجہد کے سبب بلوچ سپر ہیومن کوالٹی کے مالک ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے سامنے اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین پر پولیس گردی کے خلاف احتجاج کے دوران رسانکدرBalochistan کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہے۔

ڈاکٹر مھرب کا کہنا تھا کہ تربت سے اسلام آباد لانگ مارچ کے دوران پرامن بلوچ عورتوں اور مرد مظاہرین نے جن تلخ اور سخت حالات  کا سامنا کیا وہ ناقابل یقین ہے، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے پوری طاقت لگاکر ان کو روکنے کی کوشش کی، دسمبر کی تلخ رات ان پر سرد پانی گرایا اور ان پر لاٹھی چارج کی۔

انہوں نے کہا کہ ان عورتوں کے بچے غائب کیے گئے ہیں، ان کے بھائی لاپتہ کیے گئے اور ان کے خاوند جبری گمشدہ کیے گئے ہیں، ان سب کے باوجود وہ پرامن ہوکر احتجاج کرتے ہیں اور ریلیاں نکالتی ہیں تو یہ عام لوگ نہیں بلکہ سپر ہیومن (عظیم انسان) ہیں، ایسے عظیم انسانوں کو دیکھ کر ہمارے پاس سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔

بلوچ عورتوں کی مزاحمت کے سامنے ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ہم ان کے سامنے بہت چھوٹے اور بہت ادنیٰ لوگ ہیں بلوچوں کے ساتھ کھڑا ہونا یا ان کے ساتھ یکجہتی کرنا یہ اس جدوجہد کے سامنے جو بلوچ قوم کررہی ہے کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچوں کے ساتھ پاکستان کی زیادتیوں کا سلسلہ نئی نہیں ہے 1948 پھر 1973 اور اکبر خان بگٹی کی شہادت تک بلوچ نسل کشی کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ چلا آرہا ہے، ان تمام زیادتیوں پر میرے پاس بلوچ قوم کے لیے یکجہتی کے سوا کچھ نہیں ہے میرے پاس ان کے لیے صرف سپورٹ اور حمایت ہی ہے۔

میں پاکستان کو بتانا چاہتی ہوں کہ شاید اب وہ وقت آگیا ہے کہ تیاری کرلیں اگلے بیس پچیس سال بعد آئی ایس پی آر کے نئے بنائے جانے والے ڈرامے میں جس کا ٹائیٹل "ہوئے جو جدا ھم سے”اس میں اس زمانے کی تاریخ بیان کی گئی ہوگی اور سیاسی قیادت کو پھر ایک دفعہ مورد الزام ٹھہرا کر کہا گیا ہوگا کہ کیسے ہمارے بطن سے ایک نیا ملک بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ گئی ہیں اس کی ہمیں تیاری ہی کرنی ہے، بلوچ اور پاکستان کے درمیان کوئی مضبوط رشتہ کبھی بننے نہیں دیا گیا، پنجاب کے تعلمی اداروں میں بلوچ طلبہ کو ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں ہمیشہ ایک خطرہ کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ پنجاب اور لاھور کے یونیورسٹیوں میں بلوچ طلبہ کو ہمیشہ پریشرائز کیا گیا اور انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ کالونیل زمانوں سے یہ رویہ چلا آرہا ہے یہ کالونائزڈ مائنڈ سیٹ ہے جو ابھی تک موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ پاکستان آزاد ہوگیا ہے آپس کی بات ہے کہاں اور کس سے آزاد ہوگیا ہے۔

 پہلے فاٹا میں ایسا کیا گیا، ابھی تک یہ پوری طرح ایکسپوز نہیں ہوا مگر اب حالات ایسے ہیں کہ کچھ چھپایا نہیں جاسکتا، اگر آپ سو کفن بھی چڑھائیں گے تو بھی نناوے کفنوں کے اوپر سوویں کفن پر تازہ خون آکر لگ جائے گا، میرے پاس اور کہنے کو کوئی لفظ نہیں لیکن مجھے لگتا ہے جو آج میں کہہ رہی ہوں کہ میرے پاس کہنے کو لفظ نہیں ایسا کہنے والوں میں بہت جلد پورا پاکستان شامل ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین