بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلوچستانبلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، خضدار کا مسئلہ کیا ہے۔ طلباء...

بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، خضدار کا مسئلہ کیا ہے۔ طلباء کیوں سراپا احتجاج ہیں۔خصوصی رپورٹ (رسانکدر-Balochistan)

بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے طلباء 10 جولائی سے احتجاج پر ہیں، کلاسز اور امتحانات کا بائیکاٹ کرکے جامعہ کے گیٹ پر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ جامعہ انتظامیہ نے لیویز اور پولیس طلب کرکے طلباء کا دھرنا ختم کرنے کی بھی کوشش کی ہے، جبکہ تاحال سول انتظامیہ انہیں کیمپ قائم کرنے نہیں دے رہی رہے۔

رسانکدر بلوچستان کے نمائندہ نے مظاہرین طلباء سے بات چیت کرکے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جس سے پتا چلا ہیکہ طلباء کا احتجاج مئی کے مہینے سے جاری ہے، جوکہ وقتی طور پر مذاکرات کے بعد مؤخر ہوگئی تھی، اب دوبارہ احتجاج شروع کیا گیا ہے۔

مظاہرین طلباء میں سے ایک طالب علم نے رسانکدر نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ "مئی کے مہینے میں طلباء اپنا ایک مسئلہ لیکر رجسٹرار آفس گئے تھے جہاں کنٹرولر ایگزامنیشن پہلے سے موجود تھے، تو کنٹرولر نے طلباء کے ساتھ بدکلامی کی جسکے ردعمل میں طلباء نے 4 مئی کو احتجاج کے پہلے مرحلے آغاز کیا۔” انکے مطابق طلباء کا مطالبہ تھا کہ کنٹرولر ایگزامنیشن جوکہ ایکٹنگ چارج پر تعینات ہیں انہیں ہٹایا جائے کیونکہ انکا رویہ طلباء کے ساتھ درست نہیں ہے۔

طلباء کے مطابق انکا احتجاج 9 سے 10 دنوں تک جاری رہا، جسکے بعد جامعہ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد طے پایا کہ کنٹرولر ایگزامنیشن کو برطرف کیا جائے گا، اور جب تک کنٹرولر کو نہیں ہٹایا جاتا امتحانات کا شیڈول جاری نہیں ہوگا۔ مگر جامعہ کے ایڈمنسٹریشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عید سے قبل امتحانات کا شیڈول جاری کردیا اور جولائی سے باقائدہ امتحانات شروع ہوچکے ہیں۔

معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے کے خلاف یونیورسٹی کے طلباء نے امتحانات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج کا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ طلباء نے الزام عائد کیا ہیکہ جامعہ انتظامیہ نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے 8 طلباء کو گرفتار کروا کر 30 گھنٹوں تک قید رکھا جنہیں بعدازاں مذاکرات کے بات رہا کیا گیا۔ انکے مطابق مذاکرات میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ 2 پیپرز جو بائیکاٹ کی وجہ سے چھوٹ گئے تھے وہ اسپشل ایگزام کے تحت دوبارہ لیے جائیں گے مگر اس وعدے پر بھی ایڈمنسٹریشن قائم نہیں ہے۔

مزید برآں طلبہ کا کہنا ہیکہ انہیں احتجاج کے جمہوری حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ انکے دھرنا گاہ سے سول انتظامیہ ٹینٹ اٹھا کر لے گئی ہے اور اب انہیں کیمپ لگانے نہیں دیا جا رہا ہے۔

10 جولائی سے طلباء سراپا احتجاج ہیں اور انکا مطالبہ ہیکہ؛ کنٹرولر ایگزامنیشن کو انکے عہدے سے برطرف کیا جائے، پیپیرز ری شیڈول کیے جائیں، دهرنے کے بعد کسی بهی طلباء کے خلاف انتقامی کاروائی نہ کی جائے۔

رسانکدر نمائندہ نے یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن کا مؤقف لینے کی بھی کوشش کی ہے مگر وہ اپنا موقف دینے میں تاہنوز رضامند نہیں ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین