بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلاگبلوچستان کا آئینہ، کمانچر بلوچ

بلوچستان کا آئینہ، کمانچر بلوچ

تحریر: ضیا شفیع بلوچ

کل جیسے ہی ملا لیاقت ولی کے فیس بک وال پے کمانچر بلوچ کے انتقال کا افسوس ناک خبر شائع ہوا۔ بلوچستان افسردہ و غم سے نڈھال ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے فیس بک، ٹیوٹر، یوٹوب اور وٹس اپ ہر جگہ کمانچر بلوچ کے عکس جس میں بلوچستان بول رہا تھا، شئیر ہونا شروع ہوئے۔ کوئی ناکو کمانچر لکھ رہا تھا، کوئی کمانچر کو بلوچستان کے آئینے سے تشبیہ دے رہا تھا تو کوئی سرور پُل۔۔۔

غم کا عالم اس حد تک شدید تھا جیسے دنیا کا پورا نظام رک گیا ہو، سمندر کا ہوا سے ناطہ ٹوٹ گیا ہو، دریا اپنی روانی بھول گیا ہو، پرندے اپنی آواز کھو بیٹھے ہوں، صحرا پھتر بن گیا ہو۔۔۔ اور تو اور کوئٹہ بھی کل غمزدہ تھا، یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئٹہ میں بارش ہو اور کیف و کدہ نہ ہو، کل کسی بلوچ نے خوشی نہیں منائی، کسی بھی بلوچ شاعر نے گلاس کو ہاتھ نہیں لگایا، کسی بھی بلوچ گلوکار نے کل کچھ بھی نہیں گایا۔۔ یہی تو احساس تھا ایک ماں کے خوبصورت بیٹے کو الوداع کہنے کا۔

کمانچر بلوچ سے میری پہلی ملاقات چند عرصہ پہلے کوئٹہ میں فیروز شیرازی نامی ایرانی فارسی فوٹو گرافر کے دوکان پے ہوئی، جناح روڑ پے انگریزوں کے زمانے کا لکڑی نما دوکان۔۔ فیروز شیرازی کا ایک قصہ کافی مشہور تھا "جب راج کپور نے فلم حنا کے لیے زیبا بختیار کو سائن کرنے سے پہلے ان کے تصویر مانگے تو زیبا بختیار کی فوٹو فیروز شیرازی نے اپنے زلزلہ زدہ دوکان میں کھینچا تھا، اور انھیں تصاویر کی وجہ زیبا بختیار کو فلم حنا میں معروف فلم ساز و اداکار راج کپور کے ڈائریکشن میں رشی کپور کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا” اب کیا جھوٹ کیا سچ مگر یہ قصہ فیروز شیرازی اپنے ہر اس گاہک کو سنایا کرتا تھا جو اس کے پاس اپنا ٹوٹا پھوٹا کیمرہ بنانے یا کسی اور کام کے لیے آتا تھا۔

کمانچر بلوچ بھی اپنا کیمرہ بنانے ان کے پاس آیا تھا۔۔۔ میرا کمانچر سے ملاقات کچھ یوں ہوا کہ ایک فکری و ادبی دوست امتیاز بلوچ سے اسی روز جناح روڑ پے اچانک ملنا ہوا، جس سے دوران کالج ٹور دو ہزار گیارہ کو تربت عطا شاد ڈگری کالج میں نزدیکی کا موقع ملا تھا، جب اسے جناح روڑ پے گھومتے ہوئے دیکھا تو بولا چلیں ٹیکسی اسٹینڈ قلندری ہوٹل۔ امتیاز بلوچ نے کمانچر بلوچ کا نام لے کر کہا پیچھے گلی میں فیروز شیرازی کی دوکان پر اپنا کیمرہ بنانے لے آئے ہیں خود وہاں بیٹھے ہیں، چلو اس کو ساتھ لے کر قلندری ہوٹل میں جا کر چائے پی لیں گے۔ قلندری ہوٹل کا دودھ پتی چائے خشک روٹی کے ساتھ کمانچر اور امتیاز کو بہا گئی۔ چونکہ کمانچر بلوچ کو فیس بک پر دیکھا تھا اور کئی عرصے سے فالو کر رہا تھا، پہلی ملاقات کچھ عجیب سا نہیں لگا، مگر حامی بھر لی کہ شام کو انکی خاطر خواہ خدمت کرنی چاہیئے، کیچ کے مہمان ہیں جب شام کو انکو دعوت دینے کا کہا تو کمانچر نے معذرت کر کے کہا آج شام کراچی کے لئے ٹکٹ کیا ہے آپکا دعوت پھر کبھی۔ مگر کوئٹہ میں نہیں خاران میں کھا لیں گے، قلندری ہوٹل سے اٹھ کر فیروز شیرازی کے پاس کیمرہ اٹھانے گئے تو فیروز شیرازی نے شام تک کا ٹائم دیا، چونکہ امتیاز بھی کمانچر کے ساتھ کراچی جا رہا تھا اس لئے مجھے یہ ذمے داری سونپی گئی کہ شام کو کیمرہ اٹھا لینا پھر کس طرح ہم تک بیجھنا ہے، موبائل فون پے رابطہ کر کے بتا دیا جائے گا۔ رخصت کر کے وہ یونیورسٹی طرف گئے اور میں اپنے ٹھکانے کی جانب، شام کو مری لیب میں ڈاکٹر شاہ محمد مری کے پاس وقت ایسے نکل گیا کہ فیروز شیرازی سے کیمرہ اٹھانے کا موقع ہی نہیں ملا، اگلے دن جا کر کیمرہ اٹھایا اور کمانچر بلوچ سے رابطہ کر کے کراچی ٹی سی ایس کر دیا۔ دو دن بعد جب کمانچر بلوچ کو کیمرہ ملا تو مجھے بولا کہ کیمرے کا لینز تو فیروز کے پاس رہ گیا ہے، دو تین دن متواتر فیروز کے دوکان پے گیا، دوکان بند تھا، پھر اچانک خاران جانا ہوا ایک ہفتے بعد جب واپس کوئٹہ گیا اور فیروز شیرازی کی دوکان کا چکر لگایا، دوکان اب بھی بند پڑا تھا، پاس کے دوکان والے سے پتا کیا تو معلوم ہوا کہ فیروز شیرازی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور دوکان کے جتنے بھی سامان تھے فیروز کا چرسی بیٹا انہیں کباڑی والے کو بیجھ کر دوکان کو مالک کے حوالے کر دیا ہے، جب کمانچر کو یہ قصہ سنایا تو ہنس کر بولا "مجھے یہ کہانی بھی ناکو فیروز اور زیبا بختیار والی کہانی کی طرح ایک فلمی سین لگ رہا ہے”۔

مجھے یاد ہے کہ کمانچر نے فیروز شیرازی کا کیمرہ بناتے ہوئے چند فوٹو کھینچے تھے انکو کمانچر کے فیس بک پیج پر کبھی نہیں دیکھا پتا نہیں کمانچر نے ان کا کیا کیا۔ اس دوران کمانچر بلوچ سے ایک بار کراچی لیماکیٹ میں نامور بلوچ شاعر ظفر علی ظفر اور علی عیسی کے ہمراہ ملاقات ہوا، ظفر علی ظفر نے رمضان بلوچ کی کتاب "لیاری کی ادھوری کہانی” کا ایک کاپی مجھے سوگات میں دی اور ایک کمانچر کو۔

 آخری بار کمانچر بلوچ سے چند مہینے کوئٹہ میں ناکو فیض محمد بلوچ کے نام بلوچی میوزک پروموٹر سوسائٹی کے پروگرام میں ہوا، پروگرام کو ریکارڈ اور کیمرے کی زینت بنانے کی پوری زمے داری کمانچر بلوچ کو سونپ دی گئی تھی۔ کبھی گلزار گچکی، کبھی اسحاق خاموش، کبھی بجار بلوچ تو کبھی علی بخش دشتیاری انہیں عکس لینے کے لئے آواز دیتے تھے، "ناکو کجا شت۔۔۔ ناکو بیا منی داد صاحب ءِ عکسے کش” بیا مئے گروپ فوٹو کش” کمانچر کا فوٹو کسی نے نہیں لیا، مگر وہ خود ہر کسی کے آواز پے اپنا کیمرہ انھی کی طرف کر دیتا تھا، تھکا ہارا سا تھا، بیمار تھا مگر نہ کمزور دکھائی  دیتا تھا نہ کسی کے بات پے غصہ۔۔۔ میں نے اسی پروگرام کے دوران چہرہ چھپانے کا راز پوچھا، تو جواب دیا۔ ” میرے چہرے میں رکھا کیا ہے، بلوچستان کو دیکھو، اگر مجھے دیکھنا ہے،” آج کمانچر نہیں ہے، مگر مجھے نہیں لگتا وہ ہم میں نہیں رہے وہ اب بھی ہمارے آس پاس موجود تھے، اور اس نے جو خود کو اپنے ہی لیے گئے عکس کشی میں امر کر دیا یہ اعزاز کیا کم ہے کسی بلوچ عکس کش کے لیے۔۔؟

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین