پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومتجزیہبلوچستان: پارلیمانی سیاست کی آخری سانسیں

بلوچستان: پارلیمانی سیاست کی آخری سانسیں

تحریر: ظریف رند

برطانوی راج کی برصغیر سے انخلاء کے بعد نوزائیدہ پنجابی سرمایہ دار طبقے کو جو ریاست مل گئی انہیں اسکی وجود سے ہی معلوم پڑ گیا تھا کہ یہ جمہوری طرز پر اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کو کبھی بھی تحفظ نہیں دے پائیں گے اس لئے انہوں نے اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا، جسکے بعد جمہوریت کی "ٹرین کو پھٹڑی پر چڑھانے” کی نیّتیں تو متعدد بار باندھی گئی مگر ان ارادوں کو ہمیشہ بڑے سرکار نے چکنا چُور کیا۔ اس لئے مملکت کی پارلیمانی سیاست کی تاریخ میں کوئی ایک فخریہ مثال موجود نہیں ہے جس سے دنیا یا پھر شہریوں کی دلوں کو تسلی پہنچائی جا سکے۔ 

حکمران طبقے کی اجارہ داری کو گزند نہ پہنچے اس لئے پارلیمان و جمہوریت کا بوجھ ڈالنے والے بنگالیوں کو ہی ملک سے الگ کردیا گیا تاکہ جمہوریت کی بانسری زیادہ کانوں میں نہ بجتی رہے اور حکمران اپنی موناپلی کو جبراً قائم و دائم رکھ سکیں۔ 

بلوچستان چونکہ اس ریس میں شروع دن سے شامل نہیں تھی، نا حکمران طبقے کا حصہ اور نا ہی پارلیمانی گٹھ بندھن میں کوئی بڑی حصہ داری، اسلئے اسکا جس طرح سے جبری طور پر الحاق کیا گیا تھا اسی طرز پر چلانے کو ہی بہتر جانا گیا جوکہ تاہنوز جاری ہے۔ 

بڑے بزرگ کہتے ہیں نیشنل عوامی پارٹی کی موجودگی میں 1970 کے انتخابات قدرے شفاف ہوئے تھے مگر اسے بھی نو ماہی بچے کی طرح زیادہ دیر کوکھ میں رہنے نہیں دیا گیا۔ یاد رہے کہ نیشنل عوامی پارٹی ایک ملک گیر اتحاد تھی جس میں پشتون، بنگالی، سندھی اور ترقی پسند پنجابی بھی شامل تھے۔ اور اس وقت ریاست ازخود بڑے بحران کا شکار تھی۔ ریاست کیلئے نیپ سے زیادہ بنگال کی عوامی لیگ زیادہ دردِ سر تھی اس لئے نیپ والوں کو کسی طرح اپنے ساتھ چلایا گیا۔ بہرحال ان انتخابات کے بعد سیاسی اکابرین کی یاداشت میں پھر کوئی شفاف انتخابات کی ریکارڈ شامل نہیں ہے۔ مگر بلوچ قوم پرست قیادت پھر بھی ایک پیر پارلیمان اور ایک پہاڑ میں پھنسائے چلتی جارہی ہے۔ 

بی ایس او سے شروع ہوتے بی این ایم کی تحریک کی پاپولاریٹی نے 1988 میں نئی قیادت کو پارلیمان میں ایک بار پھر خاطرخواہ انٹری دی۔ اس نئی قیادت کی رجحان نیم قبائلی اور مڈل کلاسی تھی جسکی بناء پر آگے چل کر نیم قبائلی ٹولی الگ اور مڈل کلاسی ٹولا الگ ناؤ کے مسافر بن گئے، جنکی وقت کے ساتھ کمزور پوزیشن نے نئے کھلاڑیوں کیلئے انٹری کے راستے آسان کردیئے۔ تاہم جیسے تیسے بلوچستان کی پارلیمانی سیاست میں بچے ہوئے قوم پرست جماعتیں یہی دو سیاسی ٹولیاں ہی ہیں جو آخری تجزیئے میں ایک تحریک کی کوکھ سے جَنے ہوئے ہیں اور قدر و حیثیت میں بھی ایک سما ہیں جو آج بھی پارلیمانی سیاست کا دامن تھامے ڈوبتی کشتی کے آخری مسافر کی مانند بہتے چلے جا رہے ہیں۔

اب چونکہ دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام ایک گہرے بحران کے اندر دھنس چکی ہے، عالمی سطح پر سرمایہ دار طبقہ غیر یقینی کی کیفیت میں ہے، یہ اپنے ہم طبقہ کمزور لڑیوں کو بچانے کے بجائے اپنے آپ کو تحفظ دینے کی تگ و دو میں ہے۔ اسلئے دنیا بھر میں سیاسی عدم استحکام، ریاستوں کے متشدد رویے اور اخلاقیات و انسانی اقدار سے گِرے واقعات رونماء ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی کیفیت میں پاکستانی حکمران طبقہ بھی ہے۔ یہاں تو کوئی فارمل سرمایہ دارانہ معیشت سرے سے قائم ہی نہیں ہوسکی، اس لئے انفارمل معیشت اور کالے دھن پر پورا ریاستی ڈھانچہ کھڑا ہے جس میں ہتھیاروں و منشیات کی اسمگلنگ، لینڈگریبنگ، کرپشن اور اس طرح کے کالے کاروبار شامل ہیں۔ اسی بناء پر حکمران طبقے کا چہرہ بھی تبدیل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ جو کردار اسکرین کے پیچھے ہوا کرتے تھے اب وہ خود کھل آگے آچکے ہیں اور اپنے طبقے کی لڑائی خود براہ راست لڑ رہے ہیں۔ جوکہ ریاست کے بحران و حکمران طبقات کے آپسی تضادات کی عکاس ہے اور اس طبقے کی آخری لڑائی بھی یہی ہے۔  

ہمارے ہاں چند ایسے عناصر کی انٹری سے سماج میں ہیجان کی کیفیت چھائی ہوئی ہے، بہت سے سیاسی رہنماء بھی حیرت زدہ دکھائی دیتے ہیں مگر ریاستی ڈھانچے کی بُنتر اور اسکی معیشت کو سمجھنے والے بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ ایسے کرداروں کا منظر پہ آنا کوئی حادثہ نہیں بلکہ ریاستی بحران مظہر ہے۔ 

مکران میں ملک شاہ گورگیج نامی "لارڈ” کی انٹری نے بڑا بھوال کھڑا کردیا ہے۔ جس نے آتے ہی ایک ایسے حلقے سے اپنے لئے قومی اسمبلی کی نشست حاصل کرلی ہے جہاں انہیں 20 لوگ بھی نہیں پہنچاتے۔ ساتھ ہی انہوں نے مکران ہی سے اپنے ساتھ تین صوبائی نشستیں بھی لے لی ہیں، جبکہ اپنے صاحب زادے اور داماد کو کوئٹہ سے نشستیں دلا دی ہیں۔ یاد رہے یہ نشتسیں عام انتخابات میں ضرور حاصل کی گئی ہیں مگر ووٹ کے بَل پر نہیں بلکہ نوٹ یا بوٹ کے زور سے چھین لی ہیں۔ 

بیشک ہم عرض کررہے ہیں کہ لارڑ ملک شاہ کو مکران میں 20 لوگ نہیں جانتے مگر وہ یہاں کے اقتدار میں 2013 سے ہی شراکت دار تھے، جسکا اعتراف انہوں نے خود بھی گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ جی ہاں، درست ہے۔ اس وقت ریاست کی پوزیشن قدرے بہتر تھی تو ایسے عناصر پیچھے رہ کر باپردہ طریقے سے حکمرانی کررہے تھے اور جناب نے اپنے دوسرے داماد میر اکبر آسکانی کو آگے کیا ہوا تھا۔ مگر اب وہ خود کھل کر آگے آئے ہیں، کیونکہ بحرانوں میں سرمایہ دار ملازم کم سے کم رکھ کر منافع زیادہ سے زیادہ بٹورنے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں۔ جبکہ کئی ملازموں کے کام خود بھی سرانجام دینے لگتے ہیں کیونکہ ان شاہسواروں کو گرتے سمے اپنے آپ کے سوائے کسی اور پہ بھروسہ نہیں ہوا کرتا۔ 

سنہ 1988 کے بعد سے دفاعی پوزیشن میں جانے والی قوم پرست جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی مسلسل رخنہ زنی پر برسوں بعد سیخ پا دکھائی دیتے ہیں۔ بالخصوص نیشنل پارٹی نے اپنے سیاسی قلعے (مکران) میں ملک شاہ کی انٹری اور نشستوں پر ڈاکے کو گویا اپنے لئے تابوت کا آخری کیل تصور کرلیا ہے جسکے ردعمل میں 8 فروری کے نتائج کو تبدیل کرنے کیساتھ ہی پارٹی قیادت بمعہ کارکنان سڑکوں پر آگئے ہیں اور 80 کی دہائی کے لب و لہجے کو بھی دوبارہ اپنانا شروع کردیا ہے۔ یاد رہے اس وقت پارٹی قیادت سے زیادہ کارکنان غصہ ہیں اور ان کا پریشر پارٹی قیادت پر بھاری پڑ چکا ہے۔ 

نیشنل پارٹی اور بی این پی دونوں چونکہ مڈل کلاسی و نیم قبائلی جماعتیں ہیں۔ فطری طور پر اس طبقے کی نظریں ہمیشہ حکمران طبقے میں اپنے لیئے جگہ ڈھونڈتی ہیں۔ انہیں بار بار وہ جگہ دکھا کر وہاں سے بے آبرو کرکے بھیجنے پر سیخ پا ہونا تو یقیناً بنتا ہی ہے۔ مگر یہ واردات جو انکے ساتھ اب کی بار ہوا ہے یہ پہلی بار نہیں ہے بلکہ انکی مسلسل مصلحت پسندی کی پالیسی کا یہ منطقی نتیجہ ہے۔ اب شاید قیادت کو احساس ہوا ہے کہ اگر انہوں نے مزاحمت کے کچھ جلوے نہ دکھائے تو یہ انکی سیاست کی تابوت پر آخری کیل ثابت ہوگی۔

اب کہ اتنی مصالحت کی ہے تو اسے سمیٹنا اور بچانا کسی صورت آسان نہیں ہوگا۔ ایک طرف ریاست میں بھی برداشت کی وہ سکت نہیں ہے کہ یہ درگزر کرسکے۔ اور اہم ترین پہلو یہ کہ بلوچ عوام نے جو تنہائی میں دکھ درد و غم سہے ہیں، انکے بھروسے کو بڑا ٹھیس پہنچا ہے، تو عوام بھی پارلیمانی قیادت کو شگان و بہتان سمیت بے رخی کرکے مایوس کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گی۔ اپنے ساتھ ہوئے دھوکے فریب و اہینکار کا انتقام عوام بھی لے گی۔ پارلیمانی جماعتوں کیلئے یہ محاز اب دو دھاری تلوار ہوگیا ہے۔ اسکی آخری سانسوں کو نئی روح کیسے پھونکی جائے گی یہ بہت بڑا امتحان ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین