پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومتجزیہبلوچستان نیشنل الائنس کی علاقائی سیاست میں کیا اہمیت ہوگی

بلوچستان نیشنل الائنس کی علاقائی سیاست میں کیا اہمیت ہوگی

تحریر: اسد بلوچ

بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں 11 اگست ایک حوالہ ہے، سابق بیوروکریٹ جان محمد دشتی نے بی این پی سے علحیدگی کے لیے یہی دن چنا تھا، ہوسکتا ہے جان محمد دشتی اس دن کی اہمیت کے پس منظر سے سیاسی گرما گرمی میں ایک نئی سمت دینے کی کوشش کررہے تھے۔ جب انہوں نے 11 اگست کا انتخاب کیا تو ایک خیال یہ تھا کہ وہ اپنی ایک الگ پارٹی کا متوقع اعلان کریں گے جیسا کہ 11 اگست سے پہلے متواتر ایسے بیانات اور پیغام سامنے لائے جارہے تھے گوکہ ان کا پیغام مبہم تھا جس کا کھل کر کہیں بھی اظہار نہیں کیا گیا لیکن وہ یہ تاثر یقینی طور پر دے رہے تھے کہ ان کی ایک الگ پارٹی اس دن سامنے آئے گی۔

لیکن حیران کن طور پر ایسا کچھ نہیں کیا گیا، 11 اگست کو ایک طے شدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے بلوچستان نیشنل الائنس جو بظاہر ایک سیاسی اتحاد معلوم ہوتا ہے کا اعلان کیا حالانکہ ان کا پہلے سے تاثر ایک الگ پارٹی قائم کرنے کا تھا۔ الائنس جس میں کوئی سیاسی جماعت شامل نہیں ایسا پہلے کبھی نہیں سنا گیا اور نا بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی مثال موجود ہے۔

جان محمد دشتی بطور ایک ادبی شخصیت اور دانش ور 2018 سے قبل سیاسی شناخت نہیں رکھتے تھے بیوروکریٹک زندگی میں ان کی شناخت خصوصاً مکران میں بہت حد تک شہرت کا حامل رہی ہے اس کی بھی کئی وجوہات میں سے ان کے "مخصوص” آزادانہ خیالات اور ادب دوستی نمایاں ہیں۔ 2018 کے جنرل الیکشن میں انہوں نے پہلی بار ایک واضح سیاسی شناخت پانے کی کوشش کی حالانکہ بی این پی کی سیاست میں انڈر گراؤنڈ وہ بطور تھینک ٹینک جانے جاتے تھے اس کے ساتھ بطور بیوروکریٹ بھی ان کے براہ راست تعلقات میر غوث بخش بزنجو اور سردار عطا اللہ مینگل جیسی قدآور سیاسی شخصیات کے ساتھ رہے ہیں۔

ایک حقیقت جسے بہر طور تسلیم کیا جانا چاہیے کہ بی این پی کی سیاست کو کیچ میں پزیرائی دینے کا سبب جان محمد دشتی اور ان کی فیملی رہے ہیں۔ گوکہ ایک بڑی پارٹی کی حیثیت سے بی این پی مینگل کسی فرد کا محتاج نہیں ہے لیکن اس فیملی نے پارٹی کو پورے ضلع میں پھیلانے کی بھرپور بلکہ کامیاب کوشش کی جس کا نتیجہ تھا کہ 2018 کے جنرل الیکشن میں ناکامی کے باوجود بی این پی کیچ میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری اور ساتھ ہی 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار بی این پی میونسپل کارپوریشن اور پھر ڈسٹرکٹ کونسل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

مگر کسی جماعت کے بغیر بی این اے جسے الائنس کہا جارہا ہے کیا مستقبل میں کوئی سیاسی مقام حاصل کرپائے گی میرے اس سوال پر معروف صحافی بھرام بلوچ جواب میں اسے صرف ایک خوش گمانی سمجھتے ہیں۔
بھرام بلوچ کے مطابق بی این اے سیاسی جماعت نہیں تو ایک سیاسی الائنس بھی نہیں ہے، اگر ہے تو اس میں کون سی جماعتیں شامل ہیں البتہ جان محمد دشتی کا میر ہوت مان اور پیپلزپارٹی کے ساتھ ایک اتحاد قائم ہوا تھا شاید شخصی اتحاد کو جو ڈسٹرکٹ کونسل کے الیکشن میں اپنی پارٹی سے بغاوت کے بعد کیا گیا ابھی تک الائنس سمجھا جارہا ہے۔ لیکن سیاست میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ہی یہ الائنس علاقائی سیاست کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوگی۔ اس کی بڑی وجہ جان محمد دشتی کے ساتھ کسی نمایاں شخصیت کا نہ ہونا ہے بلکہ ایک عام سیاسی کارکن یا علاقائی شخصیت جس کا سماجی پہچان ہو اس کے ساتھ نہیں ہے اس لیے مستقبل میں بھی اس کی پاپولارٹی وہی ہوگی جو 11 اگست کے پریس کانفرنس میں نظر آئی۔

سیاسی تجزیہ کار اور بی ایس او کے سابق چیئرمین نادر قدوس بی این اے کی تشکیل پر ایک الگ تنقیدی نگاہ رکھتے ہیں، ان کے بقول اس الائنس کے پہلے ڈرافٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے جو ایک سیاسی کارکن کو متاثر کرسکے دوسری اہم بات دشتی کی اپنی سیاسی زندگی کے دانش ورانہ تضادات ہیں۔
نادر قدوس کہتے ہیں کہ نئی سیاسی جماعت یا الائنس کچھ بنیادی پوائنٹ پر تشکیل پاتی ہیں، چند ایسے اہم نکات جو پہلے سے موجود نہ ہوں یا کسی سیاسی جماعت نے ان پر کبھی توجہ نہ دی ہو مگر بی این اے کے پاس ایسا کوئی متاثر کن متبادل نہیں ہے جو عام لوگوں کی توجہ کھینچ سکے۔

زاتی طور پر بھی دشتی دو حوالوں سے متنازعہ کہے جاسکتے ہیں
کئی سالوں تک بطور سرکاری ملازم ان کی زندگی کا الگ تجزیہ کیا جاسکتا ہے جبکہ بطور دانش ور مروجہ نیشنل ازم یا قوم پرست سیاست پر ان کا آن دی ریکارڈ تنقیدی زاویہ موجود ہے وہ بارہا بلوچ جماعتوں پر ریاست کے ساتھ ساز باز اور بلوچ مفادات گروی رکھنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ وہ بلوچ اور ریاست کے درمیان موجود تضادات کے بارے میں سیاسی جماعتوں کی کردار پر بھی دانشورانہ تنقید کرتے ہیں اس لیے قوم پرست سیاسی جماعتوں کو بلوچ کی طاقت یا آواز کہنے کے بجائے دشتی اپنی تحریروں میں ہمیشہ ریاستی پیرول کا الزام لگاتے ہیں لیکن اپنی تشکیل شدہ الائنس کا پہلا نکتہ انہوں نے ریاست کے ساتھ بات چیت اور ڈائیلاگ رکھ کر اپنے اٹھائے گئے کئی سوالوں کی نفی کی ہے۔

نادر قدوس بی این اے کے لیے کوئی سیاسی مستقبل نہیں دیکھتے ان کے بقول یہ صرف ایک شخصیت کے گرد کھڑا کیاگیا ہولا ہے جو بہت جلد منہدم ہوجائے گا۔

مگر کیا دشتی کی جدائی بی این پی کے لیے ایک مشکل مرحلہ نہیں ہے جب جان محمد دشتی اور ان کی فیملی پاور پالیٹکس میں بی این پی کے لیے لامحالہ ایک پلر کی حیثیت رکھتے تھے، عام سوچ مگر یہ ہے کہ ان کے بعد کم از کم کیچ میں اس پارٹی کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے بہت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ الیکشن کے حوالے سے بے حد مشکل ہے کہ پارٹی اپنی اس پوزیشن پر واپس آئے۔ ھم نے یہ سوال کیچ کے سنیئر سیاسی شخصیت اور بی این پی کے ضلعی رہنما سید جان گچکی سے جاننے کی کوشش کی۔
ان کا ردعمل دوسرے سیاسی تجزیہ کاروں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ سید جان گچکی کے مطابق اس سے پارٹی سٹرکچر متاثر نہیں رہے گا کیونکہ جان محمد دشتی یا ان کی فیملی کا زیادہ تر اثر رسوخ الیکشن اور ووٹ بنک پر تھا یہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بی این پی کی ووٹ بنک کافی حد تک متاثر رہے گی خاص کر دشت میں بہت زیادہ لیکن پارٹی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا اس کا اندازہ پریس کانفرنس میں بھی کیا جاسکتا ہے جس میں بی این پی کا کوئی اہم ورکر شامل نہیں تھا۔ سیدجان گچکی ایک اور نکتہ کی نشاندہی بھی کرتے ہیں ان کے مطابق جان محمد دشتی کا رویہ کبھی سیاسی نہیں رہا بلکہ وہ معتبرانہ مزاج کے مطابق اپنے گرد ایک مخصوص حلقہ رکھنا پسند کرتے تھے یہی ان کی سیاست تھی وہ لوگ جو ان کی شخصیت سے متاثر ہوکر پارٹی میں شامل ہوئے تھے وہی لوگ اس کے ساتھ واپس چلے گئے بی این پی اپنی جگہ اسی پوزیشن پر کھڑی ہے جہاں اس فیملی سے پہلے تھی۔

مگر ان تمام باتوں کے باوجود بی این اے ایک سیاسی جماعت بنے یا اسی طرح الائنس کا نام استعمال کرکے سیاست کرے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دشت میں جان محمد دشتی کی متاثر کن شخصیت کا ہم پلہ اس وقت کوئی نہیں ہے اور وہ بالخصوص دشت میں الیکشن اگر جیت نہ بھی سکیں تو سیاسی جماعتوں کو ٹکر دینے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین