بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومتجزیہایران پاکستان گٹھ جوڑ؛ منقسم بلوچ کی بقاء و نجات کا سوال

ایران پاکستان گٹھ جوڑ؛ منقسم بلوچ کی بقاء و نجات کا سوال

تحریر: ظریف رند

ایران اور پاکستان نے آپسی رضامندی سے سرحدی لکیر کے آر پار کے بلوچوں پر حملہ کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہیکہ وہ بلوچ نسل کشی میں ایک پیج پر ہیں اور جب چاہیں ہمیں مار سکتے ہیں۔ یہ پیغام ایک ایسے وقت میں عام کیا گیا ہیکہ جب زاھدان تا سراوان سے لیکر دریائے سندھ تا مکران تک بلوچ قوم سراپا مزاحم ہے۔

گزشتہ ایک برس سے زاھدان میں ہر جمعہ کے نماز کے بعد بلوچوں کی جانب سے پرامن عوامی ریلی نکالی جاتی ہے اور ایرانی ملّا رجیم کے خلاف اپنے غم و غصّے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جس کے ردعمل میں ہر بار ملّا رجیم تشدد کا استعمال کرکے لوگوں کو زیر کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر تمام تر زور آزمائی کے باوجود زاھدان کے بلوچ زِیر ہونے سے انکاری ہیں۔ یہ انکی سیاسی سرگرمیوں کے ارتقائی ایّام ہیں جو جلد یا بدیر بڑی سیاسی تحریک کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ 

پاکستانی زیرانتظام بلوچستان میں سیاسی مزاحمت اس ملک کی وجود کے ساتھ شد و مد کے ساتھ یکسوئی سے جاری ہے۔ رواں دہائی کی ابتداء سے مکران ایک بار پھر بالخصوص عوامی ابھار و سیاسی مزاحمت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شہید ملک ناز اور بانک برمش کے سانحہ نے بارود کے ڈھیر پر چنگاری کا کام کیا جسکے بعد شہید حیات کا بہیمانہ قتل، بانک کریمہ کی شہادت، شہید رامز اور شہدائے ہوشاپ کا سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل، شہید داد جان کا واقعہ، سمیت حق دو تحریک کا ابھار، اور اب شہید بالاچ مولابخش کی سی ٹی ڈی کسٹڈی میں قتل، عوامی تحریک کی ارتقائی تسلسل ہیں جو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی وطن گیر تحریک کی صورت آگے بڑھ رہی ہے۔ 

بلوچستان میں عوامی سیاسی ابھار ریاست پاکستان اور ایران دونوں کو قطعاً قبول نہیں ہے۔ 1970 کی دہائی میں بھی نیشنل عوامی پارٹی کی سیاسی قوت سے خائف ایران و پاکستان نے مشترکہ طور پر اس سیاسی طاقت کو جبراً ختم کیا۔ دہائیوں کی طویل ٹہراؤ کے بعد ایک بار پھر بلوچ قوم یکجہتی و سیاسی اتحاد کی جانب بڑھ چکی ہے جو دونوں استحصالی ریاستوں کو کسی طور قبول نہیں ہے۔ اسے ختم کرنے کیلئے دونوں ریاستیں کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔

ایران نے پنجگور کے کوچہ جات پہ حملہ کرکے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے جیش ال عدل کے رہنماء مارے ہیں جبکہ پاکستان نے سراوان میں میزائل داغ کر دعویٰ کیا کہ اس نے بلوچ عسکری تنظیموں کے رہنماء مارے ہیں، جبکہ زمینی حقائق سے آشکار ہے کہ دونوں نے عام آبادیوں کو نشانہ بنا کر خواتین و بچے شہید کیئے۔ ان حملوں سے دونوں ریاستوں نے بلوچ کیساتھ عالمی دنیا کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے تحت پیغام دیا۔ اور عالمی وار انڈسٹری میں اپنی پریزنس ظاہر کی۔

مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں بھی اس واقعے کو دیکھنا ضروری ہے مگر اس بحث کو فی الوقت پَرے رکھ کر ان دو ریاستوں کا بلوچ کے ساتھ تضاد پر توجہ مرکوز رکھیں تو یہ بلوچ قوم کیلئے بہت بڑا چیلنج ضرور ہے کہ بلوچ کس طرح اپنی بقاء و نجات کے سوال کو یقینی بنائیگی۔ اسکے ساتھ دونوں ریاستیں بھی 70ء کے دہائی کی غلط فہمی کا شکار ہیں۔

70ء کے عہد کے اندر بلوچ قومی سیاست کا حجم و وسعت اتنا بڑا نہیں تھا جتنا آج ہے۔ قوم کے درمیان باہم ربط و تعلق اور ہم آہنگی اس قدر مضبوط نہیں تھی جس پیمانے پر آج قائم ہے۔ مشرقی بلوچستان کی حالات سے تنگ آکر بہت بڑے پیمانے پر سیاسی کارکنان اور عام آبادی مغربی بلوچستان کی جانب ہجرت کرچکے ہیں۔ جہاں جدید رابطوں کے ذرائع سے قوم کے درمیان ایک جڑت پیدا ہوچکی ہے، اسی طرح ان آبادیوں کی اُس پار منتقلی نے قوم کی بکھری ہوئی پرتوں کے درمیان بڑے پیمانے پر جڑت پیدا کردی ہے۔ اس ہجرت سے لامحالہ طور پر نظریات و سیاست کی بھی منتقلی ہوئی ہے۔ آج اگر دونوں ریاستیں کسی غلط فہمی کی بنیاد پر بلوچ کو دونوں طرف سے پیسنے کی حماقت کرینگے تو یہ دونوں کے گلے پڑنی والی ناقابل کنٹرول عوامی مزاحمت کی صورت نتائج دے گی۔

بہر کیف سوال یہاں بلوچ قومی قیادت پر اٹھتا ہے کہ وہ تین ریاستوں میں منقسم بلوچ سرزمین کو جنوب ایشیاء کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں کس طرح دیکھ رہے ہیں اور کیا تیاری کررہے ہیں۔ کیونکہ مڈل ایسٹ سمیت پورے جنوب ایشیاء کے حالات کسی بھی وقت دھماکہ خیز صورت میں تبدیل ہونے کی نہج پر آن پہنچی ہیں، لہٰذا بلوچ کا قومی سوال بھی محدود دائروں سے نکل کر خطے کی سوال سے جُڑ گیا ہے۔ قومی بقاء و نجات کیلئے تیاری بھی اسی پیمانے کی کرنی پڑیگی۔ 

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین