پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومتجزیہانصاف اور نظریہ کا رخصت ہونا

انصاف اور نظریہ کا رخصت ہونا

تحریر: محمود احمد

قدرتی معیار کے مطابق دیکھا جائِے انسانی زندگی ایک تجربہ ھے، ایک مِشن ھے، ایک ارتقائی عمل ھے، کہیں اجتماعی عملیت کا نام اور کہیں انفرادی طور پر جدو جہد کا نام ہے۔

تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے انسان عملی اصول کی بنیاد پر سماجی اِرتقاء کو آگے بڑھانے کےلیے ایک راستہ اور عملی تسلسُل ھے، دوسری سمت میں شعوری، غیر شعوری، علم و لاعلمی، کامیابی و ناکامی کا تعلق انسان کے فطری معاملات کا حصہ ہیں۔ کیونکہ کسی بھی انسان کےلئِے فطری معیار اور انکی زندگی میں شامل کردار ،کارنامے جوکہ اس کے علمی و عملی کارنامے کو ظاہر کرتے ہیں۔

وہی معاملاتِ زندگی انسان کی حقیقی علمی شناخت کو طشتِ ازبام کرلیتا ھے، پھر ایک باشعور سماج کےلئِے انسان دوستی، احساس ، انسانیت زندگی کے ہر اصول سے ھم آہنگی، ہر مکتبہ فکر کے ساتھ خوش لِسان ، خوش مزاج کی عادت اپنانا، امیر و غریب ،اعلٰی و ادنیٰ ، کمزور اور طاقتور کا فرق یکساں نظر سے دیکھنا یہ تمام معاملاتِ زندگی حقیقی بنیاد پر حق و انصاف کا اعتراف ہے۔

انسان معیار پِسند اُس وقت کہلاتا ھے جب یہ تمام خوبیوں کو اپنائیں اُن سے ھم آہنگ رہیں۔
سماج میں انسانی زندگی کے حوالے سے ایک فطرت کا نظام لاگو کیا گیا ھے جو کہ بظاہر وسیع کائنات کا حصہ ھے، بیک وقت مختلف خوبیوں اور تقاضوں کا مجموعہ ھے۔

تاریخ کے نقشے میں دیکھا جائِے کچھ انسان تاریخ میں شعوری و آگہی طور پر سوچنے، سوال کرنے والے لوگ تِھنکر کہلاتے ہیں۔ اور وہ اپنے علمی وشعوری سوچ کے تحت سماج اور اپنے خاندان کےلئِے فکری و نظریاتی علامت اور گریٹ وِژن سمجھا جاتا ھے، تاحیات یا زندگی کی بازی ہارنے کے بعد بھی معاشرے میں اپنے خاندان کےلئِے علمی اور معیاری طور پر علم و شعور، سچائی انسان دوستی کے آئیڈئل بن کر گزرتے ہیں۔
معاشرے میں قدرت نے کئ ایسی خوبیوں اور علمی فکر سے لبریز انسان پیدا کئِے ہیں دنیا سے جن کی رُخصت ھونے کے بعد بھی ان کا نام علمی کردار اور سچائی کے کارنامے نقش کرجاتے ہیں۔ یہ اُس انسان کی خوش نصیبی ھے جنہوں نے معاشرے میں ہر فرد کےلئِے محبت ،فراخدلی، غریب کے دُکھ ودرد میں شریک ھوکر ھمدردی ظاہر کرنا۔

تاریخ کے نقشے میں شامل لوگوں میں سے ایک ایسی شخصیت کا زکر شامل کرتے ہیں جو میرے مامو محترم محمد رفیق لانگو (ڈسٹرکٹ سیشن جج) تربت جو 18 جولائی 2021 کو دنیا فانی سے رخصت ھوئِے۔ جنکی ابتدائِے زندگی کے سماجی ،علمی پس منظر کچھ اسطرح ھے، ابتدائِے تعلیم کے حصول کے بعد غالباََ _1985 کے بعد زندگی کی عِلمی جدوجہد کے دوسرے مرحلے کےلئِے کراچی تشریف لے گئِے میٹرک کے بعد گورنمنٹ اردو کالج بعد ازاں گورنمنٹ اردو یونیورسٹی سے وابستہ رھے ایل ایل بی شعبے سے فارغ ھونے بعد وکالت کا آغاز کرکے اپنی زندگی کا وِژن شعورو آگہی، مزاج میں سادگی، نیک نیت سچ کی طاقت سے ھم آہنگی اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے انسان سے ھمدردی سے پیش ھونے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی، بس ایک فکری غلبے کے مالک تھے، معاشرے میں انصاف کے تقاضوں سے علمی و گہری سوچ رکھنا ، کتب بینی ، لٹریچر، مطالعہ کو کثرت سے جاری رکھتے ھوئِے اپنے علمی معیار کے مطابق سِبی میں ڈسٹرکٹ سیشن جج کے منصَب پر فائز ھوئِے، پہلا تین سالہ پیریڈ مکمل ھونے بعد دوسرے مرحلے میں ڈسٹرکٹ سیشن جج تربت میں تعینات ھوئِے، دورانِ سروس انصاف کے تقاضوں کو پورے کرتے ھوئِے اصولی اور آئینی فیصلے کئِے۔ جو کہ ایک معاشرے میں آئینی اصول اور حقیقی معیارکو زندہ رکھ کر آخری حد تک حقیقت پسند کو اپنی زندگی کے معیار کا حصہ بنایا۔
جولائی 2021 کو ایک مختصر علالت کے بعد زندگی کے آخری مرحلے میں بس ایک تصور بن کر دنیا فانی کو الوداع کرتے ھوئِے 18 جولائی کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ یقیناََ سماج میں ایسے انسان تاریخ کی صفحوں میں حقیقی تصویر کہلاتے ہیں۔

ایسے لوگوں کی علمی افکار اپنے لوگوں کے دلوں میں قطعاََ فراموش نہیں ھوتے چونکہ اُن کا فلسفہ، کردار، علمی تہذیب ‘سیولائزہشن’ ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر نقش کرکے راج کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین