پیر, جون 24, 2024
spot_img
ہومبلاگانسان اور آزادی 

انسان اور آزادی 

تحریر: مبارک علی 

جب انسان شَر کو چھوڑ کر خیر کو اختیار کرتا ھے تو اس سچی آزادی سے ہم کنار ہوتا ہے جس کی بے پناہ طلب انسانی سرشت میں پائی جاتی ھے۔ ہر انسان چاہتا کہ دوسروں کی مرضی اس پر نہ چلے اور زندگی گزارنے کے لیے آزادی ہو۔

انسان یا تو آزاد ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ کبھی آزاد اور کبھی غلام نہیں ہوسکتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ اسے جیل میں بند کردیا جائے، اسے قید کرلیا جائے اور اسے اپنی احکامات پر عمل کرنے کیلئے مجبور کردیا جائے۔ تاہم آزاد انسان ان مجبوریوں میں اپنے چوائس یعنی متبادل راستے تلاش کرتا ہے جو اس کے آزاد وجود کو برقرار رکھتے ہیں۔ کوئی بھی انسان جُز وقتی آزاد اور جُز وقتی غلام نہیں ہوسکتا۔

آزادی اور غلامی کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نہیں اپنایا جاسکتا۔ وہ یا تو ایک فاعل کے طور پر کائنات کو اپنے ارادوں کے مطابق ڈھالتا ہے یا اس کے مطابق ڈھل کر اپنی شناخت کھودیتا ہے کیونکہ آزادی انسان کا وہ حقیقی شعوری جوہر ہے جس کا وجود اس کے شعور میں مضمر ہے۔

انسان معاشرے میں رہتا ہے وہ معاشرہ جہاں انسان پلتے ہیں انکی سوچ پنپتی ہے ان کے آئیڈیل بنتے ہیں۔ انسانی وسائل تخلیق ہوتے ہیں۔ یہی انسانی معاشروں کی ترقی اور متنزل کا سبب ہوتے ہیں۔ مستقبل میں انسانوں کےلیے تعمیر یا تخریب کا باعث بنتے ہیں۔ انسان اپنی آزادی کے استعمال سے ہی انسانیت سے واقف ہوسکتا ہے۔ آزادی سے محروم ہو کر وہ انسانی صفات سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ 

انسان اور غیر انسان کے درمیان جدلیاتی کشمکش صدیوں پرانی ہے۔ جب ایک انسان نے دوسرے کو اپنا غلام بنایا، اسے اپنے حکم کے تابع بنایا، اسے اپنے حکم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا، حکم نہ ماننے پر تشدد کیا، ظلم اور جبر کے خلاف سوچنے والے غلاموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ شعور کی بیداری کے ساتھ ساتھ حاکموں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ دوسرے انسان کو اپنے حکم کے لیے استعمال کرنے کیلیے ضروری ہے کہ اسے اس حد تک گھٹیا بنا دیا جائے کہ وہ ہر طرح کے احکامات مانتے ہوئے حیل و حجت نہ کرے بلکہ خاموشی سے سُنے اور عمل کرے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حاکموں نے اس طرح کا رویہ حیوانوں سے بھی سیکھا ہے جو انسان کا حکم مانتے ہوئے نہ تو احتجاج کرتے ہیں اور نہ بغاوت۔ وفاداری کرنے سے کوتاہی برتتا ہے کہ اس سے زیادہ کُتا وفادار ہے جو مالک کا گھر نہیں چھوڑتا۔

اسطرح غلام پر کُتے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مالک کے خلاف آواز اٹھانے والے انسان کو باغی، دہشت گرد، نمک حرام جیسی منفی قدروں اور نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواہ وہ حقیقت میں سچ ہی کہتے۔ اسی عمل کو نوآبادکاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی عمل کو نوآبادکاروں نے بہت حد تک سائنسی بنا کر پیش کیا ہے۔ ایسے طریقے اور نظریات استعمال کیئے کہ دیسی نوآبادیاتی لوگ اپنی انسانی شناخت کھو کر ہر لحاظ سے غیر انسان بن جاتی۔

 حاکم ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے منصوبے بناتا ہے اور اپنے ماتحتوں کو اس پر عمل کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے اس لیے آزادی کے بغیر ہر قسم کی ترقی اور خوشحالی فریب نظر آتے ہیں۔ اس طرح انسان آزادی کی میسر کرنے کے لئے زات تک محدود ہے لہذا اس کی آزادی بھی محدود ھے ۔اس کے نتیجہ میں اس کا ادارہ اور اختیار ھر دو محدود ہیں۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ ایک فرد جو معاشرے کا حصہ ہے اسے لا محدود آزادی دی جائے کیونکہ اگر اسے مطلق آزادی دی جائے تو معاشرے ہرج و مرج کا شکار ہو جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین