بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلاگانتہا پسندانہ بیانیہ کے خلاف عورتوں کے تعلیم کی اہمیت اور اس...

انتہا پسندانہ بیانیہ کے خلاف عورتوں کے تعلیم کی اہمیت اور اس کے اثرات 

تحریر: شہناز شبیر

پاکستان کو تعلیم کے فیلڈ میں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک بہترین تعلیمی لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ دنیا میں اگر  پاکستان کے تعلیمی سسٹم کی بات کی جائے تو پاکستان کا  تعلیمی معیار ساری دنیا سے پیچھے ہے۔

یونیسیف کی ایک رپورٹ 2021 کے مطابق 22.8 ملین بچے جن کی عمر پانچ سے سولہ سال کے درمیان ہے وہ اسکول سے باہر ہیں اور یہ وہ دوسرا ملک ہے جو نائجیریا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ نے 2018 میں ایک رپورٹ پیش کی ہے کہ پاکستان تعلیمی میدان میں جنوبی ایشیا میں سب سے کم کارکردگی والا ملک ہے۔

ایجوکیشنل اسٹیٹ اسٹکس نے 2023 رینک کیا ہے کہ پاکستان 146 ملکوں میں سے 130 واں ملک ہے تعلیم کے اسٹینڈرڈ کے لحاظ سے۔

سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ نے اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد کی شرح خواندگی ایک حد تک بہتر ہے جو کہ 87 فیصد ہے، لیکن اگر بات دیہی علاقوں کی ہو تو دیہی علاقوں میں صرف 20 فیصد لوگ لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔

اب اپنے موضوع کی طرف ایک نظر ڈالیں تو ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری بچیاں تعلیم سے محروم ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا معاشرتی نظام ہے کہ عورت کی تعلیم سے ہماری ثقافت پر برا اثر پڑتا ہے، ہمارا مذہب عورت کی تعلیم کو برا سمجھتا ہے اور بلوچستان میں ایسے کئی علاقے ہیں کہ وہاں سیاسی گڑھ مضبوط ہونے کے باوجود عورت تعلیم سے محروم ہے۔ اس کی وجہ بھی ثقافت اور مذہب کو قرار دیا جاتا ہے، عورت کو گھر کی چاردیواری میں قید کر کے رکھا جاتا ہے وہاں عورت کو کاروکاری کے نام پر قتل عام کیا جاتا ہے وہاں عورت ذات کی عزت بھی نہیں کی جاتی۔ عورت کو بالغ ہونے سے پہلے شادی کے بندن میں باندھ دیا جاتا ہے کہ یہ ہماری ثقافت ہے۔ عزت کے نام پر عورت قتل ہوتی ہے غربت کے نام پر عورت کو خودکشی پر مجبور کیا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے اور نام خودکشی کا دیا جاتا ہے۔

لڑکی جب تعلیم حاصل کرنے کے لئے آواز اٹھائے تو اس کی شادی کردی جاتی ہے۔ لیکن میں ان سب کو جو عورت کی تعلیم کے خلاف ہیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ تعلیم وہ زیور ہے جو ہماری عورت کو مضبوط بناتی ہے، اسے علم عطا کرتی ہے، اسے اچھے برے کی تمیز سکھا دیتی ہے، اسے اپنے اور دوسروں کے حقوق سمجھا دیتی ہے، اس کی ثقافت کیا ہے کہاں سے شروع ہوتی ہے، کیا ہے، کیوں ہے ان سب باتوں سے آگاہ کرتی ہے۔

تعلیم تو ہر مرد اور عورت پر فرض ہے, یہ خوبصورت حدیث ہے اس کے علاوہ یہ حدیث کہماں کی گود سے لے کر قبر تک علم حاصل کرتے رہو۔ علم حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے تو پیدل جاؤ لیکن ضرور جاؤ۔ تو کیوں ایک لڑکی کو تعلیم سے دور کیا جا رہا ہے کیوں اس کو اس خوبصورت زیور سے بے بہرہ کیا جا رہا ہے۔

جب کہ اگر ایک لڑکی تعلیم یافتہ ہوگی تو وہ ایک عالم بنے گی جو اپنی بہنوں کو پڑھا سکے گی، ایک ڈاکٹر بنے گی جو عورتوں کا علاج کر سکے گی، ایک انجینئر بنے گی جو ملک و قوم کی خدمت کر سکے گی، ایک لڑکی جب تعلیم حاصل کرے گی تو یہ سمجھ جائے گی کہ اسلام میں اس کی حدود کیا ہیں، دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں، تو کیوں اب تک ہماری بچیاں تعلیم سے محروم ہیں۔

کہیں غربت تو کہیں اسکول نا ہونا تو کہیں بچپن کی شادی رکاوٹ بنتی جا رہی ہیں ہماری بچیوں کے لئے آخر کیوں ؟

کیا پاکستان اور بھارت ایک ساتھ کل اور آج میں آزاد نہیں ہوئے تھے ؟ تو آئی ایس آر او کی مشن ڈائریکٹر ایک عورت اور پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی ایک عورت ہے، ان کی ٹیم کے 45 انجینئر خواتین چند ریان 3 مشن میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں، تو پاکستان کی ایک بھی عورت کیوں آج تک سائنس دان نہیں بنی ہے کیوں آج بھی بھارت اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں زمین آسمان کا فرق ہے ؟ 

اور تو اور بنگلہ دیش جو 1971 میں ہم سے بہت مدت بعد آزادی حاصل کر سکی تھی لیکن آج وہ کس مقام پر ہے، ان کی لڑکیاں کہاں تک پہنچی ہیں، وہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

آخر میں اپنے ملک کے معززین سے یہ کہنا چاہوں گی کہ عورت کی تعلیم سے کسی بھی قوم کی ثقافت اور مذہب پر کوئی بھی برا اثر نہیں ہوتا تو خدارا اپنی بچیوں کو تعلیم دیں اپنی بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین